اسلام آباد میں وزارتِ داخلہ کے دائرہ کار سے متعلق قانون سازی اور قومی سلامتی کے امور پر ایک نہایت اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں پیکا قانون میں مجوزہ ترامیم، سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی استعمال اور ڈیجیٹل دہشت گردی کے خطرات پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اجلاس میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، سینیٹر انوشہ رحمان اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس کو ملکی سیاست، قانون اور ڈیجیٹل سکیورٹی کے حوالے سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
سینیٹ قائمہ کمیٹی
سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمان کی جانب سے پیش کردہ پیکا (Prevention of Electronic Crimes Act) قانون میں ترمیم کا بل زیر غور آیا۔ اجلاس میں طویل بحث کے بعد یہ بل اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ مختلف سیاسی اور ریاستی حلقے سوشل میڈیا کے بے لگام استعمال سے پیدا ہونے والے مسائل پر متفق ہیں۔
اجلاس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ:
- سوشل میڈیا پر پھیلنے والے قابلِ اعتراض اور نفرت انگیز مواد کو کیسے روکا جائے
- دہشت گردی اور انتہاپسندی کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال کا سدباب کیسے کیا جائے
- اظہارِ رائے کی آزادی اور قومی سلامتی کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے
پیکا قانون میں ترمیم کی ضرورت کیوں؟
پیکا قانون پہلے ہی سائبر جرائم کے خلاف ایک قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے، تاہم ڈیجیٹل دنیا میں تیزی سے آنے والی تبدیلیوں نے اس قانون کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پیدا کر دی ہے۔ آج سوشل میڈیا نہ صرف معلومات کے تبادلے کا ذریعہ ہے بلکہ:
- جعلی خبروں
- نفرت انگیز مہمات
- ریاستی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا
- دہشت گرد تنظیموں کی آن لائن بھرتی
کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔
قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ اگر قوانین وقت کے ساتھ اپ ڈیٹ نہ کیے جائیں تو ریاستی عملداری کمزور ہو جاتی ہے۔
انوشہ رحمان کا مؤقف
سینیٹر انوشہ رحمان نے اجلاس میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پیش کردہ بل کی این سی سی آئی اے بھی مکمل حمایت کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض مواد کو ہٹانے کے واضح اور شفاف طریقہ کار کا نہ ہونا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا:
- اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کی درخواست کے باوجود مواد نہ ہٹائیں تو کیا ہوگا؟
- کس بنیاد پر اور کتنے وقت میں مواد ہٹایا جائے گا؟
انوشہ رحمان کے مطابق ماضی میں سروس پرووائیڈرز اکثر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ جب تک عدالت سے جرم ثابت نہ ہو، وہ مواد ہٹانے کے پابند نہیں، جس سے ریاستی اداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
این سی سی آئی اے کا مؤقف
ڈی جی این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارہ:
- سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے باضابطہ رابطے میں ہے
- تعاون کے لیے درخواستیں ارسال کر چکا ہے
- بین الاقوامی پلیٹ فارمز کے ساتھ قانونی فریم ورک کے تحت شراکت داری کا خواہاں ہے
ان کے مطابق قانون میں واضح ترامیم کے بغیر سوشل میڈیا کمپنیوں کو مکمل طور پر پابند بنانا ممکن نہیں۔
طلال چوہدری کا دوٹوک بیان
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے اجلاس میں نہایت اہم اور توجہ طلب بیان دیتے ہوئے کہا:
“ہم خود سوشل میڈیا متاثرین میں سے ہیں، پوری دنیا ہمارے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے کہ ہم آزادی اظہارِ رائے پر پابندی لگا رہے ہیں۔ دہشت گرد پہلے پستول استعمال کرتے تھے، اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی نوعیت بدل چکی ہے۔ اب حملے صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ:
- آن لائن نفرت انگیزی
- ریاست مخالف بیانیے
- جعلی ویڈیوز اور پوسٹس
کے ذریعے بھی کیے جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا: نیا محاذ، نئے خطرات
ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق:
- 60 سے 70 فیصد انتہاپسند مواد سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلتا ہے
- نوجوان طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے
- ایک جھوٹی خبر چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے
پاکستان جیسے ملک میں، جہاں آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، یہ خطرہ مزید سنگین ہو جاتا ہے۔
آزادی اظہارِ رائے یا قومی سلامتی؟
اجلاس میں ایک اہم نکتہ آزادی اظہارِ رائے کا بھی تھا۔ طلال چوہدری نے کہا کہ:
- حکومت کا مقصد کسی کی آواز دبانا نہیں
- مسئلہ صرف دہشت گردی، نفرت انگیزی اور ریاست مخالف مواد کا ہے
ان کے مطابق دنیا بھر میں ڈیجیٹل قوانین موجود ہیں، پاکستان اگر اپنی سکیورٹی کے لیے قانون سازی کرتا ہے تو اسے منفی نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
پیکا ترمیم کے ممکنہ اثرات
ماہرین کے مطابق پیکا قانون میں ترامیم سے:
- سوشل میڈیا پر غیر قانونی مواد کے خلاف فوری کارروائی ممکن ہوگی
- ریاستی اداروں کو واضح اختیارات ملیں گے
- ڈیجیٹل دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو کمزور کیا جا سکے گا
- عوام کو آن لائن ہراسانی اور نفرت انگیزی سے تحفظ ملے گا
عوامی شعور کی اہمیت
قانون سازی کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی بے حد ضروری ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ:
- غیر مصدقہ خبریں آگے شیئر نہ کریں
- نفرت انگیز مواد کی رپورٹ کریں
- قانون اور ڈیجیٹل ذمہ داریوں سے آگاہ رہیں
مختصر سوالات و جوابات (FAQs)
سوال 1: کیا پیکا ترمیم سوشل میڈیا بند کرنے کے لیے ہے؟
جواب: نہیں، مقصد صرف غیر قانونی اور دہشت گرد مواد کو روکنا ہے۔
سوال 2: کیا عام صارفین متاثر ہوں گے؟
جواب: قانون کا ہدف عام صارف نہیں بلکہ مجرمانہ سرگرمیاں ہیں۔
سوال 3: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کیسے پابند بنایا جائے گا؟
جواب: قانونی ذمہ داریوں اور جرمانوں کے ذریعے۔
سوال 4: کیا آزادی اظہارِ رائے محفوظ رہے گی؟
جواب: حکومتی مؤقف کے مطابق آزادی اظہار برقرار رہے گی، مگر قانون کے دائرے میں۔
نتیجہ
سینیٹ قائمہ کمیٹی میں پیکا قانون کی منظوری اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل دور کے چیلنجز کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ طلال چوہدری کا بیان کہ “دہشت گرد اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں” ایک تلخ مگر حقیقت پسندانہ عکاسی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون، ادارے اور عوام مل کر ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں۔
کال ٹو ایکشن
آپ اس معاملے پر کیا رائے رکھتے ہیں؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں، خبر کو شیئر کریں اور باخبر رہنے کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں۔ بائیں جانب موجود فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کر کے فوری نوٹیفکیشنز حاصل کریں۔
Disclaimer:This information is based on public reports. Readers are advised to verify all details independently before taking any action.