حکومت ساڑھے 3 سال سے عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ بند کرانے کیلئے متحرک، پی ٹی اے رپورٹ پیش

عمران خان

اسلام آباد ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ کو بند کرنے سے متعلق ایک اہم درخواست پر سماعت کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اپنی تفصیلی رپورٹ عدالت عظمیٰ میں جمع کرا دی ہے۔ یہ رپورٹ حکومت پاکستان کی جانب سے عمران خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو بند کرانے کی طویل المدتی کوششوں کی داستان بیان کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ساڑھے تین سال سے زیادہ عرصے میں متعدد بار ایکس پلیٹ فارم (جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا) کو رسمی درخواستیں بھیجی گئیں، لیکن کمپنی نے ان درخواستوں کو زیادہ تر مسترد کر دیا۔ یہ معاملہ نہ صرف ایک فرد کے سوشل میڈیا استعمال سے جڑا ہے بلکہ پاکستان میں سوشل میڈیا کی ریگولیشن، سیاسی آزادی اظہار اور بین الاقوامی ٹیک کمپنیوں کی خودمختاری جیسے بڑے مسائل کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

کیس کا پس منظر اور درخواست کی بنیاد

یہ کیس عمران خان کی جیل میں قید کے دوران ان کے ایکس اکاؤنٹ کی سرگرمیوں سے شروع ہوا۔ حکومت کا موقف ہے کہ جیل میں قید قیدیوں کو سوشل میڈیا استعمال کی اجازت نہیں ہوتی اور عمران خان کا اکاؤنٹ مبینہ طور پر ان کی طرف سے چلایا جا رہا ہے، جو جیل قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس بنیاد پر اکاؤنٹ کو مکمل طور پر بند کرنے کی درخواست کی گئی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں بنچ نے اس درخواست پر پی ٹی اے سے رپورٹ طلب کی تھی، جو اب پیش کی جا چکی ہے۔ یہ رپورٹ نہ صرف ماضی کی کوششوں کی تفصیلات دیتی ہے بلکہ ایکس کمپنی کے رویے اور پاکستان میں سوشل میڈیا قوانین کے نفاذ کے چیلنجز کو بھی واضح کرتی ہے۔

پی ٹی اے رپورٹ کی تفصیلی جھلکیاں

پی ٹی اے کی رپورٹ میں حکومت کی کوششوں کو مرحلہ وار بیان کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے کلیدی نکات درج ذیل ہیں:

  • پہلی درخواست (21 اگست 2022): عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے خاتمے کے چند ماہ بعد پی ٹی اے نے ایکس کو پہلا رسمی خط لکھا۔ اس میں اکاؤنٹ کو بند کرنے کی درخواست کی گئی، جو مبینہ طور پر قومی سلامتی اور اشتعال انگیزی سے متعلق مواد پوسٹ کر رہا تھا۔
  • دوسری درخواست (18 اپریل 2024): عمران خان کو توشہ خانہ، سائفر اور عدت کیسز میں سزائیں سنائے جانے کے بعد دوبارہ درخواست بھیجی گئی۔ اس بار مخصوص کیسز کا حوالہ دے کر اکاؤنٹ کو فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
  • تیسری درخواست (27 نومبر 2025): تازہ ترین اقدام میں عمران خان کی 47 مخصوص ٹویٹس کو بلاک کرنے کی درخواست کی گئی۔ ایکس نے ان میں سے صرف ایک ٹویٹ کو بلاک کیا اور باقی کو برقرار رکھا۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ ساڑھے تین سال کے عرصے میں صرف تین باضابطہ درخواستیں بھیجی گئیں، جن کا نتیجہ تقریباً ناکامی پر منتج ہوا۔ یہ صورتحال حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ ایکس جیسی کمپنیاں اپنی عالمی پالیسیوں کو ترجیح دیتی ہیں۔

ایکس کمپنی کا موقف اور مسترد کرنے کی وجوہات

ایکس (جو اب ایلون مسک کی ملکیت ہے) نے ان درخواستوں کو مسترد کرنے کی بنیادی وجہ اپنی آزادی اظہار کی پالیسی کو قرار دیا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ صرف اپنے کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر ایکشن لیتی ہے، نہ کہ کسی ملک کی مقامی حکومت کی درخواست پر۔ رپورٹ میں یہ بھی ذکر ہے کہ ایکس نے صرف ایک ٹویٹ بلاک کی، جو شاید ان کی اپنی پالیسی کے تحت تھی۔ یہ رویہ دیگر ممالک میں بھی دیکھا گیا ہے جہاں حکومتیں سوشل میڈیا کنٹرول کی کوشش کرتی ہیں لیکن ٹیک کمپنیاں مزاحمت کرتی ہیں۔

پاکستان میں سوشل میڈیا ریگولیشن کے چیلنجز

پی ٹی اے رپورٹ کا ایک اہم حصہ سوشل میڈیا کمپنیوں کی رجسٹریشن سے متعلق ہے۔ اتھارٹی نے تمام بڑی کمپنیوں کو پاکستان میں رجسٹر ہونے، ٹیکس ادا کرنے اور ایک فوکل پرسن مقرر کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ تاہم:

  • کوئی بھی بڑی کمپنی (ایکس، فیس بک، یوٹیوب وغیرہ) نے رجسٹریشن نہیں کروائی۔
  • نہ ہی کسی نے پاکستان میں مقامی نمائندہ مقرر کیا۔
  • یہ کمپنیاں اپنے ہیڈکوارٹرز (زیادہ تر امریکہ) میں رجسٹرڈ ہیں اور دوسرے ممالک کے قوانین کو لازمی قرار نہیں دیتیں۔

یہ صورتحال پاکستان جیسے ملکوں کے لیے مسئلہ بن جاتی ہے جہاں سوشل میڈیا پر غلط معلومات، نفرت انگیز مواد اور سیاسی پروپیگنڈہ عام ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کے لیے کنٹرول ضروری ہے، جبکہ تنقید کرنے والے اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیتے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا ردعمل

عدالت نے پی ٹی اے کی رپورٹ کو ابتدائی طور پر غیر تسلی بخش قرار دیا اور مزید تفصیلات طلب کیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر حکومت ایکس اکاؤنٹ بند کرانا چاہتی ہے تو واضح ثبوت اور قانونی بنیاد پیش کرے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ عمران خان کے وکیل سے جیل میں ملاقات نہ ہونے کا معاملہ بھی اس کیس سے جڑا ہوا ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 24 فروری 2026 کو مقرر کی گئی ہے، جہاں مزید دلائل سنے جائیں گے۔ یہ کیس ممکنہ طور پر پاکستان میں سوشل میڈیا قوانین پر ایک اہم فیصلے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

سیاسی اثرات اور تنازع کی گہرائی

یہ معاملہ صرف ایک اکاؤنٹ تک محدود نہیں بلکہ حکومت اور عمران خان کے درمیان جاری سیاسی جنگ کا حصہ ہے۔ پی ٹی آئی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ آزادی اظہار کو دبانے کی کوشش ہے، جبکہ حکومتی حلقے اسے قانون کی بالادستی قرار دیتے ہیں۔ عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ لاکھوں فالوورز کے ساتھ ان کی پارٹی کی آواز بنا ہوا ہے، جو جیل سے باہر پیغامات پہنچاتا ہے۔ اس اکاؤنٹ کی بندش سے سیاسی منظرنامہ متاثر ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگلے الیکشن کے تناظر میں۔

بین الاقوامی سطح پر اسی طرح کے کیسز

پاکستان اکیلا ملک نہیں جہاں حکومتیں سوشل میڈیا کنٹرول کی کوشش کر رہی ہیں۔ بھارت، ترکی، برازیل اور ایران میں بھی حکومتیں ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر پابندیاں لگاتی رہی ہیں۔ ایلون مسک نے اکثر آزادی اظہار کے نام پر ایسی درخواستوں کو مسترد کیا ہے۔ یہ عالمی تنازع سوشل میڈیا کی طاقت اور ریاستی خودمختاری کے درمیان کشمکش کو ظاہر کرتا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

عمران خان کا ایکس اکاؤنٹ کون چلا رہا ہے؟

پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ پارٹی لیڈرشپ اور سوشل میڈیا ٹیم اکاؤنٹ چلاتی ہے، جبکہ حکومت کا الزام ہے کہ یہ عمران خان کی طرف سے ہے۔

حکومت کیوں اکاؤنٹ بند کرانا چاہتی ہے؟

مبینہ اشتعال انگیز مواد اور جیل قوانین کی خلاف ورزی کی وجہ سے۔

ایکس نے تمام درخواستیں کیوں مسترد کیں؟

کمپنی اپنی عالمی پالیسی آزادی اظہار کو ترجیح دیتی ہے اور مقامی قوانین کو لازم نہیں سمجھتی۔

کیس کا ممکنہ نتیجہ کیا ہو سکتا ہے؟

عدالت یا تو درخواست مسترد کر سکتی ہے یا سوشل میڈیا ریگولیشن پر نئی گائیڈ لائنز جاری کر سکتی ہے۔

کیا پاکستان ایکس کو بلاک کر سکتا ہے؟

ماضی میں عارضی پابندیاں لگیں، لیکن مکمل بلاک مشکل ہے کیونکہ عوام VPN استعمال کر لیتے ہیں۔

یہ تنازع سیاسی ہے یا قانونی؟

دونوں، کیونکہ قانونی دائرے میں سیاسی مفادات شامل ہیں۔

آپ کی رائے کیا ہے؟

یہ معاملہ آزادی اظہار اور ریاستی کنٹرول کے درمیان توازن کا سوال اٹھاتا ہے۔ آپ کے خیال میں سوشل میڈیا پر حکومت کو کتنا اختیار ہونا چاہیے؟ کمنٹ سیکشن میں اپنی رائے ضرور شیئر کریں، آرٹیکل کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور تازہ ترین خبریں فوری حاصل کرنے کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں۔ نوٹیفیکیشنز آن کر لیں تاکہ کوئی اہم اپ ڈیٹ مس نہ ہو – ابھی جوائن کریں!

Disclaimer: All discussed information is based on public reports; please verify independently before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے