حق کے مطابق پیسے ملتے تو کے پی دیگر صوبوں سے زیادہ ترقی کر لیتا: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی

سہیل آفریدی

خیبرپختونخوا کے موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے 9 جنوری 2026 کو کراچی پریس کلب میں "میٹ دی پریس” پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے صوبے کے معاشی مسائل، وفاقی فنڈز کی تقسیم، دہشت گردی، ترقیاتی منصوبوں اور بین الصوبائی تعلقات پر تفصیلی اور کھلا بیان دیا۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر خیبرپختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ اور دیگر وسائل کے تحت اس کا جائز اور حق کے مطابق حصہ مل جائے تو یہ صوبہ نہ صرف ملک کے دیگر صوبوں سے آگے نکل جائے گا بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک ترقی کا ماڈل بن سکتا ہے۔

عوامی استقبال اور تاخیر کی وجہ

وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب کا آغاز عوام کے پرجوش استقبال کا ذکر کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی ائیرپورٹ سے لے کر پریس کلب تک بہت بڑی تعداد میں لوگ استقبال کے لیے نکل آئے تھے۔ اسی وجہ سے مقررہ وقت سے کافی تاخیر سے وہ پریس کلب پہنچ سکے۔

انہوں نے اسے ایک مثبت اشارہ قرار دیا اور کہا کہ یہ دکھاتا ہے کہ خیبرپختونخوا کی حکومت اور اس کی پالیسیوں کے حوالے سے کراچی اور سندھ کے عوام میں بھی خاصی دلچسپی موجود ہے۔

پنجاب میں ملنے والا رویہ

سہیل آفریدی نے پنجاب کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے سخت تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں ان کے ساتھ مناسب رویہ نہیں رکھا گیا۔ وہ جہاں بھی کھانا کھانے یا آرام کرنے کے لیے جاتے، وہاں مارکیٹس اور دکانیں بند کر دی جاتی تھیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا: «آئین پاکستان میں کہاں لکھا ہے کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ دوسرے صوبے میں سیاسی سرگرمیاں نہیں کر سکتا؟»

سندھ کے ساتھ تعلقات اور مہمان نوازی

سندھ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ میں اب بھی بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی روایت اور اثر و رسوخ نمایاں نظر آتا ہے۔ مگر انہوں نے سندھ حکومت کی جانب سے ملنے والے تعاون اور مہمان نوازی کی تعریف کی۔

ان کا واضح موقف یہ تھا کہ اگر وزیراعلیٰ سندھ یا کوئی اور سندھی رہنما خیبرپختونخوا کا دورہ کرے تو انہیں بھی پوری عزت، احترام اور روایتی پشتون مہمان نوازی دی جائے گی۔

خیبرپختونخوا کی ترقیاتی کاوشیں

سہیل آفریدی نے صوبائی حکومت کی چند اہم کاوشوں کا ذکر کیا:

  • احساس پروگرام کے تحت غریب اور مستحق خاندانوں کو صحت کارڈ دیا جا رہا ہے
  • اس کارڈ کے ذریعے 20 لاکھ روپے تک کا مفت علاج ممکن ہے
  • صوبے میں صحت کے شعبے میں بہت بڑی بہتری آئی ہے
  • ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن اور نئے میڈیکل کالجز قائم کیے جا رہے ہیں
  • تعلیم، انفراسٹرکچر اور سیاحت کے شعبوں میں بھی مسلسل کام جاری ہے

ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام ترقیاتی کام اس وقت تک محدود رہتے ہیں جب تک وفاق سے مناسب مالی وسائل دستیاب نہ ہوں۔

وفاقی فنڈز اور این ایف سی کا مسئلہ

وزیراعلیٰ نے سب سے زیادہ وقت این ایف سی ایوارڈ اور فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر بات کی۔ اہم نکات یہ تھے:

  • 7ویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا کا شیئر 14.62 فیصد طے ہے
  • جنگ کے بعد پیدا ہونے والے اخراجات اور دہشت گردی کے نقصانات کی تلافی کے لیے اضافی شیئر کا مطالبہ
  • 2018 سے اب تک دیگر صوبوں کو پورا شیئر ملا مگر خیبرپختونخوا کو نہیں ملا
  • خیبرپختونخوا ملک کی تقریباً 70 فیصد ہائیڈل بجلی پیدا کرتا ہے
  • سستی بجلی پورے ملک کو فائدہ دے رہی ہے لیکن صوبے کو مناسب مالی معاوضہ نہیں مل رہا
  • اگر حق کے مطابق فنڈز ملتے تو کے پی صحت، تعلیم، سڑکوں، سیاحت اور انڈسٹری میں بہت آگے نکل چکا ہوتا

انہوں نے اس رویے کو "سوتیلی ماں جیسا سلوک” قرار دیا۔

دہشت گردی

سہیل آفریدی نے دہشت گردی کو خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ اہم نکات:

  • صرف ٹی ٹی پی نہیں، تمام دہشت گرد تنظیموں کی سخت مخالفت
  • دہشت گردی کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہو رہے ہیں
  • بہت سے علاقوں میں ترقی ریورس ہو رہی ہے
  • دہشت گردوں کو دوبارہ آباد کرنے کی کوششیں ہوئیں

ایک صحافی کے سوال پر کہ اگر وزیراعظم بات چیت کی دعوت دیں تو جائیں گے؟ انہوں نے فوری اور واضح جواب دیا: «ہاں، 100 فیصد جاؤں گا۔ کیونکہ میرا صوبہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔»

تجویز کردہ حل

وزیراعلیٰ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک جامع اور قومی سطح کا حل پیش کیا:

  1. تمام سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھیں
  2. وفاقی اور صوبائی حکومتیں شریک ہوں
  3. قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی شامل ہوں
  4. خیبرپختونخوا کی نمائندگی اور ان پٹ لازمی ہو
  5. ایسا فیصلہ جو پائیدار ہو اور علاقائی حساسیتوں کا احترام کرے

نتیجہ اور پیغام

سہیل آفریدی کا یہ بیان صرف ایک صوبائی وزیراعلیٰ کا بیان نہیں بلکہ وفاقی ڈھانچے میں توازن، وسائل کی منصفانہ تقسیم، دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے اور بین الصوبائی احترام کی اہمیت کا اعلان ہے۔

ان کا پیغام واضح ہے: «ہم ترقی چاہتے ہیں، ہم امن چاہتے ہیں، ہم اپنا حق چاہتے ہیں — اور یہ سب کچھ آئین اور قانون کے دائرے میں ممکن ہے۔»

مختصر FAQs

سوال 1: سہیل آفریدی کا سب سے اہم بیان کیا تھا؟

جواب: اگر حق کے مطابق فنڈز ملتے تو خیبرپختونخوا دیگر صوبوں سے زیادہ ترقی کر لیتا۔

سوال 2: خیبرپختونخوا میں صحت کا سب سے بڑا پروگرام کون سا ہے؟

جواب: احساس صحت پروگرام — 20 لاکھ روپے تک مفت علاج کی سہولت۔

سوال 3: دہشت گردی پر بات چیت کے بارے میں ان کا موقف کیا ہے؟

جواب: 100 فیصد حمایت کرتے ہیں، لیکن تمام فریقوں کی شرکت اور کے پی کے ان پٹ کے ساتھ۔

سوال 4: پنجاب میں ان کا تجربہ کیسا رہا؟

جواب: نامناسب رویہ، مارکیٹس بند کر دی جاتی تھیں۔

سوال 5: سندھ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں کیا کہا؟

جواب: وزیراعلیٰ سندھ نے تعاون کی یقین دہانی کروائی، ہم بھی مکمل مہمان نوازی کا وعدہ کرتے ہیں۔

سوال 6: خیبرپختونخوا کس شعبے میں ملک کو فائدہ دے رہا ہے؟

جواب: سب سے سستی ہائیڈل بجلی پیدا کرکے پورے ملک کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔

یہ بیان پاکستان کی وفاقی سیاست، مالی انصاف اور سیکیورٹی کے حوالے سے اہم بحث چھیڑ سکتا ہے۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے ساتھ رہیں۔ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں اور آرٹیکل شیئر کریں۔

واٹس ایپ چینل فالو کریں → تازہ سیاسی خبروں، بریکنگ اپ ڈیٹس اور گہرے تجزیوں کے لیے ابھی جوائن کریں → ہر اہم پیش رفت فوراً آپ کے فون پر

Confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے