’اگر پتا ہوتا اس بار بھی ہمارا مینڈیٹ قبول نہیں کیا جائیگا تو ضمنی الیکشن میں حصہ نہ لیتے‘

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے 26 نومبر 2025 کو راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہری پور ضمنی الیکشن کے نتائج پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے گزشتہ برسوں کی سختیوں کے بعد امید کی تھی کہ اس بار ان کا مینڈیٹ قبول کیا جائے گا، مگر نتائج نے اس امید کو توڑ دیا۔ ہری پور حلقہ NA-18 میں عمر ایوب خان کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی اس نشست پر ان کی اہلیہ شہرناز عمر ایوب پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ امیدوار تھیں، جو مسلم لیگ (ن) کے بابر نواز سے 43 ہزار ووٹوں کی برتری سے ہار گئیں۔ یہ ناکامی پارٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جہاں ابتدائی رپورٹس میں پی ٹی آئی کی برتری کی باتیں تھیں مگر حتمی نتائج میں پلٹا کھایا گیا۔

بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ اگر مینڈیٹ قبول نہیں ہوتا تو الیکشن میں حصہ کیوں لیا؟ ان کا یہ بیان سیاستدانوں کے مینڈیٹ نہ ملنے پر تحفظات کی عکاسی کرتا ہے اور ضمنی انتخابات میں مینڈیٹ نہ ماننے کا الزام لگاتا ہے۔

ہری پور ضمنی الیکشن 2025: کلیدی حقائق اور اعداد و شمار

یہ ضمنی الیکشن 23-24 نومبر 2025 کو ہوا، جہاں پولنگ کا تناسب تقریباً 42% رہا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) کے غیر سرکاری نتائج کے مطابق:

  • بابر نواز (PML-N): 131,000 سے زائد ووٹ (جیت)
  • شہرناز عمر ایوب (PTI حمایت یافتہ): 88,000 سے زائد ووٹ (ہار، 43,000 ووٹوں کی برتری سے)

یہ اعداد و شمار ڈان نیوز اور اے آر وائی نیوز کی رپورٹس پر مبنی ہیں، جو 2018 کے عام انتخابات سے موازنہ کرتے ہوئے دکھاتے ہیں کہ عمر ایوب خان نے اس وقت 102,505 ووٹ حاصل کرکے PML-N کو 65,234 ووٹوں پر ہرایا تھا۔ اب PML-N کی واپسی پارٹی کی گرفت کمزور ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔

مینڈیٹ تسلیم نہ ہونے پر سیاسی ردعمل: بیرسٹر گوہر کا بیان

راولپنڈی میں میڈیا بریفنگ کے دوران بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہری پور میں جیتی ہوئی سیٹ نہ دینا جمہوریت کے لیے اچھا شگون نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب خیبر پختونخوا اور ہر جگہ کسی اور کا سکہ چل رہا ہے، جو واضح ظلم ہے۔ اس کے علاوہ، عدالتی حکم کے باوجود پی ٹی آئی بانی عمران خان سے ملاقات نہ کروائے جانے پر صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ ہر بار امید لے کر جاتے ہیں مگر ناکامی ملتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ضمنی الیکشن میں شکست: پی ٹی آئی قیادت پریشان، حکمت عملی پر نظرثانی کیلئے مجبور

یہ بیان مینڈیٹ تسلیم نہ ہونے پر سیاسی ردعمل کی ایک مثال ہے، جہاں پارٹی قیادت جمہوری عمل پر سوال اٹھا رہی ہے۔

پاکستان میں منتخب مینڈیٹ کی اہمیت: وسیع تناظر

پاکستان میں منتخب مینڈیٹ کی اہمیت جمہوریت کی بنیاد ہے، مگر حالیہ ضمنی انتخابات میں PML-N کی 12 میں سے 13 نشستیں جیتنے سے پی ٹی آئی کی حکمت عملی پر سوال اٹھے ہیں۔ مثال کے طور پر، 2024 کے بی ایلیکشنز میں بھی PML-N نے 92% کامیابی حاصل کی، جو مذاکرات اور اتحاد کی طاقت دکھاتی ہے۔ پی ٹی آئی کی یہ ناکامی اسے مستقبل میں حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

مینڈیٹ کی حفاظت کے لیے قدم بہ قدم رہنمائی

  1. اندرونی جائزہ: انتخابات کے اعداد و شمار کا تجزیہ کریں، جیسے ووٹر ٹرن آؤٹ کی کمی (42% بمقابلہ 2018 کے 55%)۔
  2. قانونی چیلنج: ECP اور عدالتوں میں فوری اپیل دائر کریں، جیسا کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں کیا۔
  3. علاقائی مہم: مقامی مسائل جیسے صحت اور تعلیم پر فوکس کرکے ووٹر بیس کو مضبوط بنائیں۔
  4. اتحاد سازی: دیگر جماعتوں سے مذاکرات شروع کریں تاکہ مینڈیٹ کی حفاظت یقینی ہو۔

یہ اقدامات، سیاسی ماہرین کے مطابق، 25-35% بہتر نتائج دے سکتے ہیں، جیسا کہ 2013 کے انتخابات میں PML-N کی حکمت عملی نے دکھایا۔

الیکشن نتائج کا تاریخی موازنہ

سالامیدوار (PTI)ووٹPML-N ووٹنتیجہ
2018عمر ایوب خان102,50565,234PTI جیت
2025شہرناز عمر ایوب88,000131,000PML-N جیت

یہ جدول ECP ڈیٹا پر مبنی ہے، جو مینڈیٹ کی اہمیت اور تبدیلی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

FAQs: مینڈیٹ نہ ملنے کے چیلنجز

اگر مینڈیٹ قبول نہیں ہوتا تو الیکشن میں حصہ کیوں لیا؟

بیرسٹر گوہر کے مطابق، امید تھی کہ اس بار جمہوریت کا احترام ہوگا، مگر ناکامی نے سبق دیا۔

سیاستدانوں کے مینڈیٹ نہ ملنے پر تحفظات کیسے حل ہوں؟

قانونی اور سیاسی دباؤ کے ذریعے، جیسے سپریم کورٹ کیسز۔

یہ صورتحال جمہوریت کو کیسے متاثر کرتی ہے؟

ووٹر اعتماد کم ہوتا ہے، جیسا کہ 2025 ضمنی انتخابات میں 10% ٹرن آؤٹ کمی سے ظاہر۔

انٹرایکٹو پول: آپ کی رائے

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مینڈیٹ تسلیم نہ ہونے سے جمہوریت کمزور ہو رہی ہے؟

  • ہاں
  • نہیں
  • کچھ اور (پول میں حصہ لیں اور بحث میں شامل ہوں!)

کال ٹو ایکشن

اس سیاسی ڈرامے پر آپ کیا سوچتے ہیں؟ نیچے اپنے خیالات کا اظہار کریں، سوشل میڈیا پر شیئر کریں، اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے WhatsApp چینل جوائن کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ WhatsApp بٹن پر کلک کریں – نوٹیفکیشن پاپ اپ سے فوری الرٹس اور خصوصی سیاسی انالسز حاصل کریں، جو آپ کو آگے رکھیں گے! مزید آرٹیکلز کے لیے متعلقہ لنکس چیک کریں۔

Disclaimer: The information provided is based on public reports. Please verify before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے