افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) کے چیف سلیکٹر اور سابق کرکٹر اسد اللہ خان نے کرکٹ آسٹریلیا کے حالیہ فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ باہمی سیریز کھیلنے سے انکار کھیل کی روح کے منافی ہے۔ اسد اللہ خان کا مؤقف ہے کہ افغان ٹیم کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو کھلاڑیوں کے حوصلے اور ملک میں کرکٹ کے فروغ کو متاثر کر رہا ہے۔ یہ بیان 9 نومبر 2025 کو سامنے آیا، جب آسٹریلیا نے خواتین کے حقوق کے مسئلے کو بنیاد بنا کر سیریز منسوخ کی۔
افغانستان کے ساتھ سیریز سے انکار کا پس منظر
کرکٹ آسٹریلیا نے گزشتہ چند سالوں میں متعدد بار افغانستان کے ساتھ شیڈول سیریز منسوخ کی ہیں۔ آسٹریلیا کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں خواتین کے کرکٹ میں حصہ لینے کے حقوق بحال نہ ہونے تک وہ سیریز نہیں کھیلے گا۔ تاہم، افغان کرکٹ بورڈ کے عہدیداران اسے سیاسی مداخلت قرار دیتے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، 2021 سے اب تک آسٹریلیا نے تین شیڈول میچز منسوخ کیے ہیں، جو افغان ٹیم کی رینکنگ کو متاثر کر رہے ہیں۔
- سیاسی تنازع کا اثر: خواتین کے حقوق کا مسئلہ طالبان حکومت کے بعد سے شدت اختیار کر گیا ہے۔
- افغان ٹیم کی کارکردگی: محدود وسائل کے باوجود، افغانستان نے 2023 ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کو شکست دی تھی۔
اسد اللہ خان کا مؤقف
چیف سلیکٹر اسد اللہ خان نے کہا کہ کرکٹ قوموں کو جوڑنے کا ذریعہ ہے، نہ کہ تقسیم کرنے کا۔ ان کے مطابق، آسٹریلیا کا انکار افغان کھلاڑیوں کی مایوسی کا سبب ہے جو زندگی کرکٹ کو وقف کر چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان ٹیم نے آئی سی سی کی فل ممبرشپ میرٹ پر حاصل کی، نہ کہ چیریٹی پر۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی پارلیمنٹ نے آرمی چیف کو نئی طاقتیں اور قانونی استثنیٰ دینے کی منظوری دے دی
ان کا بیان: "ہماری خواتین کرکٹ ٹیم کو وقت درکار ہے، لیکن کرکٹ کو سیاست سے جوڑنا کھیل کے لیے اچھا نہیں۔”
کھلاڑیوں کی قربانیاں اور چیلنجز
افغان کھلاڑیوں نے محدود وسائل میں عالمی سطح پر نام کمایا ہے۔ راشد خان، مجیب الرحمان اور محمد نبی جیسی شخصیات مختلف لیگز میں ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اسد اللہ خان نے کہا کہ بائیکاٹ سے ان کی محنت ضائع ہو گی۔ اعدادوشمار: راشد خان نے 2025 تک 150 سے زائد ٹی 20 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
- چیلنجز: مالی نقصان اور تجربے کی کمی۔
- مثالیں: 2024 ٹی 20 ورلڈ کپ میں افغانستان کی شاندار کارکردگی۔
سیاسی فیصلے اور کھیل کا نقصان
اسد اللہ خان نے کہا کہ کھیلوں کو سیاسی بنیادوں پر فیصلہ کرنا عالمی کرکٹ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ کرکٹ کو سیاست سے آزاد رکھا جائے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تقسیم کا سبب بن سکتا ہے۔
افغان کرکٹ بورڈ کی حکمت عملی
اے سی بی اس معاملے کو آئی سی سی کے سامنے اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ بڑی ٹیموں کا انکار مالی اور رینکنگ نقصان کا باعث بنے گا۔
عالمی ردعمل اور کرکٹ برادری کی رائے
کرکٹ شائقین میں اس فیصلے پر ملا جلا ردعمل ہے۔ کچھ آسٹریلیا کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ دیگر کرکٹ کو انسانی حقوق سے الگ رکھنے کے حق میں ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سیاست سے کھیل کی تقسیم مستقبل میں بڑھ سکتی ہے۔
اسد اللہ خان کا پیغام
اسد اللہ خان نے کہا کہ افغان عوام کرکٹ سے محبت کرتے ہیں۔ عالمی برادری کو تعاون کرنا چاہیے تاکہ کھیل امن کا ذریعہ بنے۔
یہ خبر مستند ذرائع اور دستیاب رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ قارئین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ تازہ ترین اور مصدقہ معلومات کے لیے متعلقہ سرکاری یا معتبر نیوز اداروں سے رجوع کریں۔
Confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.