پاکستان کی پارلیمنٹ نے 27ویں آئینی ترمیم منظور کر لی ہے جو فیلڈ مارشل عاصم منیر کو فوج، بحریہ اور فضائیہ کی نگرانی کا اختیار دے گی اور انہیں تاحیات قانونی استثنیٰ فراہم کرے گی۔ یہ ترمیم سپریم کورٹ کی آزادی کو محدود کرتی ہے اور نئی فیڈرل آئینی کورٹ قائم کرے گی جہاں ججز کی تقرری ایگزیکٹو کے ہاتھ میں ہو گی۔ یہ اقدام ناقدین کے نزدیک جمہوریت کی تدفین ہے جبکہ حکومت اسے فوج اور عدلیہ کی جدیدیت کا نام دیتی ہے۔ ترمیم کو سینیٹ اور قومی اسمبلی سے چند گھنٹوں میں منظوری ملی، جو حکمران اتحاد کی کمزوری اور فوج کی طاقت کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ ترمیم پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ہے۔ 1947 میں قیام پاکستان کے بعد سے ملک نے کئی فوجی آمریتوں کا سامنا کیا ہے۔ 2008 میں جنرل پرویز مشرف کے زوال کے بعد ایک نازک جمہوریت قائم ہوئی، لیکن فوج کا پس پردہ کردار برقرار رہا۔ اب یہ ترمیم فوج کی برتری کو آئینی تحفظ دے رہی ہے۔
ترمیم کے اہم نکات:
- فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ ملے گا، جو تینوں افواج کی نگرانی کرے گا۔
- تاحیات قانونی استثنیٰ، جو کسی بھی جرم سے مبرا کر دے گا۔
- نئی فیڈرل آئینی کورٹ کا قیام، جو سپریم کورٹ سے اوپر ہو گی اور ججز کی تقرری صدر کے ذریعے ہو گی۔
- ججز کی تبدیلی کا اختیار صرف صدر کو، جو عدلیہ کی آزادی کو ختم کر دے گا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم فوج کی حکمرانی کو مستحکم کرے گی۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر عقیل شاہ کا کہنا ہے کہ یہ "سویلین برتری کے اصول کی توہین ہے”۔ آئینی وکیل صلاح الدین احمد نے اسے "تاحیات آمریت کی راہ” قرار دیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ووٹ کا بائیکاٹ کیا اور اسے آئین کی بنیاد ہلا دینے والا قرار دیا۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے بھی شدید تنقید کی۔
تاریخی تناظر میں، پاکستان نے جنرل ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور مشرف کی آمریتوں کا سامنا کیا۔ حالیہ برسوں میں فوج کی مداخلت بڑھتی گئی، جیسا کہ 2022 میں عاصم منیر کی بطور آرمی چیف تقرری اور عمران خان کی گرفتاری۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے عاصم منیر کو "میرا پسندیدہ فیلڈ مارشل” کہا، جو ان کی بین الاقوامی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات کا خاتمہ: سیکرٹری جنرل کی منظوری پر برطرف رہنماؤں کی بحالی
حکومت کا موقف یہ ہے کہ یہ ترمیم فوج اور عدلیہ کو موثر بنائے گی۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکمران اتحاد نے اسے اتحاد کی کامیابی قرار دیا۔ تاہم، صرف چار اراکین نے مخالفت میں ووٹ دیا، جو پارلیمنٹ کی کمزوری کو عیاں کرتا ہے۔
اس ترمیم کے اثرات:
- جمہوریت کی کمزوری: فوج کی برتری سے سویلین حکومت کمزور ہو گی۔
- عدلیہ کی آزادی کا خاتمہ: نئی کورٹ سے چیکس اینڈ بیلنس ختم ہو جائیں گے۔
- سیاسی عدم استحکام: پی ٹی آئی جیسے اپوزیشن کی کمزوری سے احتجاج بڑھ سکتے ہیں۔
اینگجمنٹ پول: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ 27ویں ترمیم پاکستان کی جمہوریت کو کمزور کرے گی؟ (ہاں/نہیں) اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں۔
عمومی سوالات (FAQs):
27ویں ترمیم کیا ہے؟
یہ آئین میں تبدیلی ہے جو آرمی چیف کو زیادہ اختیارات اور استثنیٰ دیتی ہے۔
عاصم منیر کون ہیں؟
پاکستان کے آرمی چیف جو 2022 سے عہدے پر ہیں اور اب فیلڈ مارشل ہیں۔
یہ ترمیم کب نافذ ہو گی؟
صدر آصف علی زرداری کی دستخط کے بعد۔
یہ ترمیم پاکستان کو آمریت کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ مزید تفصیلات کے لیے متعلقہ رپورٹس دیکھیں۔
اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں، آرٹیکل کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں، اور تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں – یہ آپ کو نوٹیفیکیشنز کے ذریعے براہ راست اپ ڈیٹس فراہم کرے گا اور آپ کی دلچسپی کے موضوعات پر فوری معلومات دے گا!
Disclaimer: Confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.