اسلام آباد کچہری حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود نور ولی محسود نے کی تھی: وزیر اطلاعات

وفاقی وزارت اطلاعات کے ذریعے جاری کردہ تازہ ترین بیان میں، وفاقی وزیر عطا تارڑ نے اسلام آباد کچہری کے باہر 11 نومبر 2025 کو ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں حاصل ہونے والی اہم پیشرفت کا احاطہ کیا ہے۔ یہ حملہ، جس میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے، ایک منظم سازش کا نتیجہ تھا جس کی جڑیں افغانستان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ وزیر نے واضح کیا کہ یہ واقعہ پاکستان کی سرحدی سلامتی کو چیلنج کرنے کی کوشش تھی، اور سیکیورٹی اداروں کی فوری کارروائی نے مزید نقصان روک لیا۔

یہ بیان نہ صرف حملے کی تفصیلات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ افغانستان سے دہشت گردی پاکستان کی صورتحال کو بھی واضح کرتا ہے۔ عطا تارڑ کی پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) کا سربراہ نور ولی محسود اس سازش کا مرکزی کردار رہا۔

حملے کی تفصیلات اور تحقیقات کی پیشرفت

اسلام آباد کچہری حملہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے قومی سلامتی کے ماہرین کی توجہ مبذول کر لی۔ 11 نومبر کو ضلع کورٹ کے باہر پولیس ویب کے قریب ہونے والے اس خودکش دھماکے کا مقصد راولپنڈی اور اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانا تھا۔ تاہم، پاک فوج، آئی بی، اور سی ٹی ڈی کی الرٹنس نے دہشت گردوں کو اپنے مکمل ہدف تک نہ پہنچنے دیا۔

  • خودکش حملہ آور کی شناخت: حملہ آور عثمان شنواری ننگرہار، افغانستان کا رہائشی تھا، جسے خودکش جیکٹ فراہم کی گئی تھی۔ وہ جی-11 علاقے میں داخل ہوا اور دھماکہ کیا۔
  • گرفتاریاں: حملے کے 48 گھنٹوں کے اندر سی ٹی ڈی نے 4 ملزمان کو گرفتار کیا، جن میں ساجد اللہ عرف شینا (مرکزی ہینڈلر)، کامران خان، محمد ذالی، اور شاہ منیر شامل ہیں۔ شینا نے حملہ آور کو جیکٹ اور ہدایات فراہم کیں۔
  • اعترافی بیان: پریس کانفرنس میں ساجد اللہ شینا کا ویڈیو بیان پیش کیا گیا، جس میں اس نے TTP میں 2015 سے شمولیت، افغانستان میں تربیت، اور داد اللہ سے رابطوں کا اعتراف کیا۔

وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ یہ گرفتاریاں انسداد دہشت گردی اور افغان خطرات سے نمٹنے میں سنگ میل ثابت ہوں گی۔

افغانستان سے منصوبہ بندی: نور ولی محسود کا کردار

حملے کی تمام پلاننگ افغانستان میں موجود TTP سربراہ نور ولی محسود نے کی تھی۔ اس نے اپنے کمانڈر داد اللہ کے ذریعے احکامات جاری کیے، جو شیگل ضلع سے کابل منتقل ہوئے۔ اگست 2025 میں ساجد اللہ شینا اور محمد ذالی نے داد اللہ اور عبداللہ جان عرف ابوحمزہ سے ملاقاتیں کیں، جہاں نور ولی محسود کے براہ راست احکامات ملے۔

  • رابطوں کا طریقہ: ملزمان ایک خفیہ ایپ کے ذریعے داد اللہ سے رابطے میں رہے، جو افغانستان میں مقیم ہے۔
  • تربیت کا پس منظر: ساجد اللہ نے 2015 میں TTP میں شمولیت اختیار کی اور افغانستان کے مختلف کیمپس میں تربیت حاصل کی۔ 2023 میں اس کی داد اللہ سے پہلی ملاقات ہوئی۔
  • نیٹ ورک کی وسعت: نور ولی محسود افغانستان میں اپنا نیٹ ورک مضبوط بنا رہا ہے، جو طالبان اور TTP رابطے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے افغان بیس پر پابندی اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی واضح ہوتی ہے۔

یہ تفصیلات پاکستان افغان سرحد سکیورٹی کے چیلنجز کو اجاگر کرتی ہیں، جہاں دہشت گردی اور سرحدی خطرہ پاکستان کو مسلسل درپیش ہے۔

TTP حملے افغانستان: وسیع تر تناظر

TTP کے حملوں کا سرچشمہ افغانستان رہا ہے، جہاں نور ولی محسود جیسے رہنما اپنے آپریشنز چلاتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ایسے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جو اسلامی آباد عدالت حملہ خبریں اور دہشت گردی کی لہر کو ظاہر کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، 2025 میں TTP کی سرگرمیاں 30% بڑھی ہیں، جو سرحدی نگرانی کی ضرورت کو واضح کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : الیکشن عملے کو دھمکانے کا کیس: وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی الیکشن کمیشن میں پیش

مثال کے طور پر، اکتوبر 2025 میں کابل پر پاکستانی فضائی حملوں کے بعد نور ولی محسود نے اپنی زندہ رہنے کی ویڈیو جاری کی، جو اس کے نیٹ ورک کی لچک دکھاتی ہے۔ یہ واقعات افغان دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی گہرائی کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

انسداد دہشت گردی: اقدامات اور چیلنجز

پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی میں سیکیورٹی ایجنسیوں کی کارکردگی نمایاں ہے۔ حملے کے بعد فوری گرفتاریاں اس کی مثال ہیں۔ تاہم، افغان خطرات سے نمٹنے کے لیے درج ذیل اقدامات ضروری ہیں:

  1. سرحدی نگرانی بڑھانا: جدید ٹیکنالوجی جیسے ڈرونز اور AI کی مدد سے پاکستان افغان سرحد سکیورٹی کو مضبوط بنائیں۔
  2. بین الاقوامی تعاون: طالبان اور TTP رابطے توڑنے کے لیے سفارتی دباؤ بڑھائیں۔
  3. اندرونی انٹیلی جنس: مقامی نیٹ ورکس کی نگرانی کو مزید سخت کریں، جیسا کہ اس حملے میں دیکھا گیا۔

یہ اقدامات نہ صرف موجودہ خطرات کا مقابلہ کریں گے بلکہ مستقبل کی دہشت گردی کو روکیں گے۔

سوالات اور جوابات (FAQs)

اسلام آباد کچہری حملہ کب ہوا؟

11 نومبر 2025 کو، جس میں 12 شہدا اور 27 زخمی ہوئے۔

نور ولی محسود منصوبہ بندی کیسے کی؟

داد اللہ کے ذریعے احکامات جاری کیے، جو افغانستان میں TTP کا کمانڈر ہے۔

TTP حملے افغانستان سے کیوں؟

افغانستان میں نور ولی محسود کا نیٹ ورک مضبوط ہے، جو سرحدی خطرات بڑھاتا ہے۔

کیا یہ حملہ ناکام ہو گیا؟

ہاں، دہشت گرد اپنے مکمل ٹارگٹ تک نہ پہنچ سکے، سیکیورٹی فورسز کی وجہ سے۔

قارئین کی رائے: ایک سادہ پول

کیا آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان افغان سرحد سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت ہے؟

  • ہاں، فوری طور پر
  • نہیں، موجودہ اقدامات کافی ہیں
  • مزید معلومات چاہیے

اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں!

یہ مضمون نہ صرف حملے کی تفصیلات پیش کرتا ہے بلکہ قومی سلامتی پر گہری نظر ڈالتا ہے۔ اگر آپ کو یہ مفید لگا تو شیئر کریں، کمنٹ کریں، اور متعلقہ مضامین پڑھیں۔ ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں تازہ ترین اپ ڈیٹس اور خصوصی انسائٹس کے لیے – بس بائیں طرف کے فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں۔ آپ کی سلامتی ہماری ترجیح ہے!

Disclaimer: The provided information is published through public reports. Confirm all discussed information before taking any steps.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے