الیکشن عملے کو دھمکانے کا کیس: وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی الیکشن کمیشن میں پیش

الیکشن کمیشن آف پاکستان، جو ملک کے انتخابات کی نگرانی اور ضابطہ اخلاق کی پاسداری کا مرکزی ادارہ ہے، نے آج ایک اہم سماعت کا اہتمام کیا۔ اس سماعت میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا۔ کیس کا تعلق این اے 18 ضمنی انتخابات کے دوران الیکشن عملے کو دھمکانے کے الزام سے ہے، جو الیکشن قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی کی نشاندہی کرتا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اس معاملے پر تفصیلی بحث کی، جس میں وکیل اور کمیشن کے نمائندوں کے دلائل سنے گئے۔ یہ سماعت سیاسی حلقوں میں خاصی دلچسپی کا باعث بنی، کیونکہ یہ الیکشن عملہ دھمکی کیس کی نوعیت کو اجاگر کرتی ہے۔

کیس کا پس منظر اور اہمیت

خیبر پختونخوا سیاسی خبریں ہمیشہ سے قومی سطح پر توجہ کا مرکز رہی ہیں، اور یہ کیس بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر الزام ہے کہ انہوں نے الیکشن مہم کے دوران عملے کو دھمکی دی، جو مانیٹرنگ افسر کی رپورٹ کے مطابق قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن پاکستان کیس ایسے معاملوں میں سختی سے کارروائی کرتا ہے تاکہ انتخابات کی شفافیت برقرار رہے۔

  • مانیٹرنگ رپورٹ کی تفصیلات: رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ عمل الیکشن کمیشن کی ہدایات پر عمل نہ کرنے کے مترادف ہے، جو الیکشن ایکٹ اور آئین کی خلاف ورزی ہے۔
  • سیاسی اثرات: ایسے کیسز خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال کو متاثر کر سکتے ہیں، خاص طور پر ضمنی انتخابات کے تناظر میں۔

سماعت کی لائیو اپ ڈیٹس

آج کی سماعت اسلام آباد میں ہوئی، جہاں سہیل آفریدی الیکشن کمیشن پیشی کے لیے پہنچے۔ ان کے وکیل علی بخاری نے دلائل پیش کیے، جبکہ اسپیشل سیکریٹری لاء نے کمیشن کی طرف سے استدلال کیا۔

  • وکیل علی بخاری کا موقف: انہوں نے کہا کہ درخواست گزار اور الیکشن کمیشن دونوں مخالف ہیں۔ انہوں نے دیگر متعلقہ درخواستیں اکٹھی کرنے کی تجویز دی، اور وزیراعلیٰ پنجاب کے کیس کا حوالہ دیا تاکہ یکسانیت کا مطالبہ کیا جائے۔ بخاری نے مزید کہا کہ تقریر حولیاں ایبٹ آباد میں ہوئی، جو ضلع سے باہر ہے، اور دیگر سیاسی رہنماؤں جیسے طلال چوہدری کو بھی نوٹس نہیں دیا گیا۔
  • چیف الیکشن کمشنر کا ردعمل: سکندر سلطان راجہ نے واضح کیا کہ سب کے خلاف یکساں ایکشن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی وزیراعلیٰ الیکشن سے پہلے ایسی تقریر کرے جو حلقے پر اثر انداز ہو تو اس کا ٹرائل ہوگا۔ طلال چوہدری کی سماعت 2 دسمبر کو مقرر ہے۔
  • اسپیشل سیکریٹری لاء کے دلائل: انہوں نے زور دیا کہ کمیشن کو ہدایات پر عمل نہ ہونے پر ایکشن لینے کا اختیار ہے، اور میرٹ پر فیصلہ کیا جائے۔

سماعت کے اختتام پر کیس کو 4 دسمبر تک ملتوی کر دیا گیا، اور سہیل آفریدی کو اگلی پیشی کا استثنیٰ دیا گیا۔

الیکشن قوانین کی خلاف ورزی: ایک جائزہ

ایسے کیسز الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق کو چیلنج کرتے ہیں۔ ماضی میں بھی سیاسی مداخلت کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جیسے 2024 کے جنرل الیکشنز میں 15 فیصد سے زائد شکایات عملے کی دھمکیوں سے متعلق تھیں (الیکشن کمیشن کی سالانہ رپورٹ کے مطابق)۔ یہ کیس خیبر پختونخوا سیاسی خبریں میں ایک مثال قائم کر سکتا ہے کہ سیاسی رہنما کس حد تک الیکشن عملے کی آزادی کو یقینی بنائیں۔

یہ بھی پڑھیں : پی ٹی آئی نے تاحال آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا: سلمان اکرم راجا

عمل درآمد کے لیے اقدامات:

  1. شفاف مہم: سیاسی جماعتیں مہم کے دوران کمیشن کی ہدایات کی پابندی یقینی بنائیں۔
  2. شکایات کا فوری حل: ووٹرز کو ایپلیکیشنز جیسے ECP کی آفیشل ایپ کے ذریعے رپورٹنگ کی ترغیب دی جائے۔
  3. تربیت: الیکشن عملے کو دھمکیوں سے نمٹنے کی تربیت دی جائے۔

FAQs: الیکشن عملہ دھمکی کیس سے متعلق

کیا یہ کیس وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نااہلی کا باعث بن سکتا ہے؟

نہیں، یہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے، جو جرمانہ یا نوٹس تک محدود ہو سکتی ہے، جب تک عدالت میں نہ جائے۔

الیکشن کمیشن کا اختیار کیا ہے؟

کمیشن الیکشن ایکٹ کے تحت کارروائی، جرمانہ، یا نااہلی کا اعلان کر سکتا ہے۔

ضمنی انتخابات میں ایسے کیسز کیسے روکے جائیں؟

مانیٹرنگ ٹیموں کو مضبوط بنانا اور سیاسی رہنماؤں کو پیشگی وارننگز دینا ضروری ہے۔

انٹرایکٹو پول: آپ کا خیال

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سیاسی رہنما الیکشن عملے کو دھمکا کر شفاف انتخابات کو نقصان پہنچاتے ہیں؟

  • ہاں، سختی سے سزا ہونی چاہیے۔
  • نہیں، یہ معمولی معاملہ ہے۔ (اپنے ووٹ سے حصہ لیں اور کمنٹس میں وجوہات شیئر کریں!)

کال ٹو ایکشن

اس اہم سیاسی کیس پر آپ کا کیا خیال ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے دیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں، اور تازہ خیبر پختونخوا سیاسی خبریں کے لیے ہمیں فالو کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں تاکہ نوٹیفکیشن پاپ اپ کے ذریعے فوری اپ ڈیٹس ملیں۔ یہ مفت ہے اور آپ کو ہر اہم خبر کی پہلی اطلاع دے گا – ابھی جوائن کریں اور اپنے سیاسی علم کو اپ ٹو ڈیٹ رکھیں!

Disclaimer: This information is based on public reports. For any actions related to political figures or parties, please verify details independently before proceeding.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے