اسلام آباد ہائی کورٹ (IHC) نے ایک اہم فیصلہ سنایا ہے جس کے تحت دارالحکومت میں سٹری کتوں کی ہلاکت میں ملوث افراد یا حکام کے خلاف جرائم درج کروائے جائیں گے اور انہیں جیل کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ حکم "نلوفر بمقابلہ چیف کمشنر آئی سی ٹی اور دیگر” کیس میں جج خادم حسین سومرو کی عدالت نے دیا، جو جانوروں کے حقوق کی ایک بڑی فتح ہے۔
کیس کی ابتدائی سماعت کے دوران، پٹیشنر نلوفر نے ایڈووکیٹ الطموش سعید کی نمائندگی میں دلائل دیے کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے پہلے ٹریپ، نیوٹر، ویکسی نیٹ اور ریلیز (TNVR) پروگرام نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا، مگر کتوں کو اب بھی وحشیانہ طریقے سے گھٹایا جا رہا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے CDA کے ڈائریکٹر منسپل ایڈمنسٹریشن (DME) کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا۔
CDA کا کتا گھٹانے کا سکینڈل: ثبوت اور گواہی
پٹیشن میں پیش کیے گئے فوٹو شواہد سے ثابت ہوا کہ CDA کے ٹرک میں مردہ کتے پڑے ہوئے تھے، جو اتھارٹی کے عدالت میں دیے گئے بیانات کی نفی کرتے ہیں۔ آنکھوں دیکھا حال ڈاکٹر غنی اکرام نے گواہی دی کہ انہوں نے CDA کی گاڑی میں کئی مردہ کتے دیکھے اور ڈرائیور سے آمنے سامنے ہونے پر وہ فرار ہو گیا۔
یہ واقعہ 9 اکتوبر 2025 کا ہے، جو CDA کی جانوروں کے خلاف غیر قانونی کارروائیوں کی ایک اور مثال ہے۔ عدالت نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تمام سٹری کتوں کو ویکسی نیٹ کرنے اور پالیسی کے مطابق دیکھ بھال کی ہدایت کی، ہلاکت پر پابندی عائد کر دی۔
- اہم حکم: ہلاکت کے ثبوت ملنے پر فوری FIR درج کروائی جائے گی۔
- سماعت کی تاریخ: 27 اکتوبر 2025 کو اگلی سماعت، CDA اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری ایڈمنسٹریشن (ICTA) کو نوٹسز جاری۔
- قانونی بنیاد: پاکستان کے جانوروں کی فلاح و بہبود ایکٹ 1890 کے تحت توسیع، جو 2024 کے نئے بل سے مزید مضبوط ہوا ہے۔
TNVR پروگرام: انسانی طریقہ کار اور اس کی کامیابی
TNVR (ٹریپ، نیوٹر، ویکسی نیٹ، ریلیز) سٹری کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کا انسانی اور موثر طریقہ ہے، جو ہلاکت کی بجائے ان کی صحت اور تعداد کو متوازن رکھتا ہے۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق، TNVR پروگراموں سے کتے اور بلیوں کی انٹیک میں 32 فیصد تک کمی آئی ہے، جبکہ 68 فیصد لوگ اسے ترجیح دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے صنعتی اور زرعی شعبوں کے لیے اگلے 3 سالوں کے لیے سستی بجلی کا اعلان کیا
پاکستان میں، خاص طور پر اسلام آباد میں، یہ پروگرام 5 سال سے زیر بحث ہے مگر CDA کی لاپرواہی کی وجہ سے نافذ نہیں ہو سکا۔ اب عدالت کے حکم سے CDA کو اس کی جوابدہی کرنی پڑے گی، جو "CDA Finally Forced to Implement Humane Population Control Policy After 5 Years” کی طرح ایک سنگ میل ہے۔
اسلام آباد میں سٹری کتوں کی آبادی: اعداد و شمار اور چیلنجز
اسلام آباد میں سٹری کتوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو شہریوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ ستمبر 2025 تک، کتا کاٹنے کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ CDA کی کنٹرول کوششوں کے باوجود آبادی میں اضافہ جاری ہے۔
- تازہ اعداد: اکتوبر 2025 میں رپورٹس کے مطابق، سٹری کتوں کی تعداد ہزاروں میں پہنچ چکی ہے، جو ٹریفک حادثات اور صحت کے مسائل کا سبب بن رہی ہے۔
- حکومتی ردعمل: CDA نے اب تک واضح پالیسی نہ بنانے کی وجہ سے ناکام رہی، مگر اب TNVR کی نافذ کاری لازمی ہو گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار دکھاتے ہیں کہ انسانی طریقے سے کنٹرول ممکن ہے، جیسا کہ ٹیکساس کے سروے میں 85 فیصد لوگوں نے TNVR کی حمایت کی۔
کمیونٹی اور این جی اوز کا ردعمل: ایک متحد آواز
اس فیصلے پر کمیونٹی کا ردعمل مثبت ہے۔ EARCPakistan جیسی این جی اوز نے اسے "سٹری کتوں کے لیے بڑی فتح” قرار دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر ہزاروں صارفین نے CDA کی کارروائیوں کی مذمت کی۔ فوٹو شواہد اور گواہیوں نے عوامی غم و غصہ بھڑکا دیا، جو "CDA Dog Culling Scandal” کی عکاسی کرتا ہے۔
- این جی او کی حمایت: فور paws اور بروک پاکستان جیسی تنظیموں نے TNVR کی ترغیب دی، جو 2024 کے نئے جانوروں کی فلاح بل سے ہم آہنگ ہے۔
- شہری شکایات: ڈان کی رپورٹس کے مطابق، رہائشیوں نے کتوں کی بڑھتی تعداد پر تشویش ظاہر کی، مگر ہلاکت کی مخالفت کی۔
کیسے رپورٹ کریں: کتا ظلم کی شکایت درج کروائیں
اگر آپ اسلام آباد میں کتا ظلم دیکھیں تو فوری کارروائی کریں۔ یہاں قدم بہ قدم گائیڈ:
- ثبوت اکٹھا کریں: فوٹو، ویڈیو یا گواہی ریکارڈ کریں۔
- رابطہ کریں: قریبی پولیس سٹیشن یا CDA ہیلپ لائن (051-9255626) پر رپورٹ کریں۔
- قانونی مدد: این جی اوز جیسے EARCPakistan سے رابطہ کریں یا IHC میں پٹیشن دائر کریں۔
- FIR درج کروائیں: اب عدالت کے حکم سے ہلاکت پر فوری FIR ممکن ہے، جو "Penalties for Killing Dogs Islamabad” کو یقینی بناتا ہے۔
یہ اقدامات "How to Report Dog Cruelty Islamabad” جیسے سرچز کو پورا کرتے ہیں اور شہریوں کو بااختیار بناتے ہیں۔
FAQs: جانوروں کے حقوق سے متعلق سوالات
کیا اسلام آباد میں کتوں کو مارنا جرم ہے؟
جی ہاں، IHC کے 23 اکتوبر 2025 کے حکم سے یہ جرم ہے، جس پر جیل ہو سکتی ہے۔
TNVR کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟
یہ انسانی پروگرام ہے جو کتوں کو پکڑ کر جراثیم کشی، ویکسی نیشن اور واپس چھوڑتا ہے، جو آبادی 32% تک کم کرتا ہے۔
CDA پر کیا کارروائی ہو سکتی ہے؟
DME کو وضاحت دینا ہو گی، اور ہلاکت پر FIR درج ہو گی۔
پاکستان میں جانوروں کی حفاظت کا قانون کیا ہے؟
1890 کا ایکٹ اور 2024 کا نیا بل، جو ظلم روکتے ہیں مگر نافذکاری کی ضرورت ہے۔
نتیجہ: ایک انسانی پاکستان کی طرف قدم
یہ فیصلہ نہ صرف "Islamabad Stray Dog Vaccination Order” کو مضبوط کرتا ہے بلکہ "Humane Stray Dog Control Islamabad 2025” کی بنیاد رکھتا ہے۔ CDA کی جوابدہی اور TNVR کی نافذ کاری سے شہر محفوظ اور ہمدردانہ بنے گا۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کمنٹس میں بتائیں کہ یہ حکم کس حد تک موثر ہو گا۔ آرٹیکل شیئر کریں اور متعلقہ مواد پڑھیں۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں – ہر خبر فوری طور پر آپ کے فون پر! کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں، کیونکہ جانوروں کی فلاح آپ کی ذمہ داری ہے۔
Disclaimer: Confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.