سپریم کورٹ آف پاکستان نے بانی پاکستان تحریک انصاف اور سابق وزیراعظم عمران خان کے طبی مسائل اور انسانی حقوق سے متعلق اہم احکامات جاری کیے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کے دوران عمران خان کی آنکھوں کی صحت اور خاندان سے رابطے کے حوالے سے رپورٹس کا جائزہ لیا۔ عدالت نے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات میسر ہونی چاہئیں اور صحت کا معاملہ سب سے مقدم ہے۔
عدالت کے احکامات
عدالت نے دو اہم اقدامات فوری طور پر کرنے کی ہدایت کی ہے:
- عمران خان کی آنکھوں کا معائنہ ماہر امراض چشم کی ٹیم سے کروایا جائے
- ان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فونک رابطے کی سہولت فراہم کی جائے
دونوں اقدامات 16 فروری 2026 سے پہلے مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ صحت کے معاملے پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
دوران سماعت اہم گفتگو
سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصور خان نے عدالت کو آگاہ کیا کہ:
- حکومت ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرز تک رسائی دینے کے لیے تیار ہے
- ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قیدیوں کو مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں
- اگر قیدی مطمئن نہیں تو ریاست فوری اقدامات کرے گی
چیف جسٹس نے کہا:
"حکومت اچھے موڈ میں ہے۔ عمران خان کو ان کے بچوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے کی سہولت ملنی چاہیے۔ وہ اسٹیٹ کسٹڈی میں ہیں۔ تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہئیں۔”
عدالت نے مزید واضح کیا کہ عمران خان کو دیگر قیدیوں کے مقابلے میں کوئی نمایاں سہولیات نہیں دی جائیں گی بلکہ سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔
عمران خان کی صحت کا تازہ موقف
پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے جیل میں دستیاب طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ماہر امراض چشم (Eye Specialist) سے معائنہ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت نے اس مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے فوری طبی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے۔
یہ فیصلہ عمران خان کی آنکھ کی صحت سے متعلق پچھلی رپورٹس کے تناظر میں بھی اہمیت کا حامل ہے جہاں انہوں نے بینائی میں کمی کا دعویٰ کیا تھا۔
عدالت کے ریمارکس کی اہم باتیں
- صحت کا مسئلہ سب سے اہم ہے
- قیدیوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے
- فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس ایک جیسی ہیں
- بچوں سے ٹیلی فونک رابطہ بھی اہم انسانی حق ہے
- حکومت پر اعتماد کیا جا رہا ہے
یہ بھی پڑھیں: ہماری پارٹی میں عمران خان کے بعد ہرکوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، جنید اکبر
FAQs
سوال: سپریم کورٹ نے عمران خان کو کون سی سہولیات دینے کا حکم دیا؟
جواب: آنکھوں کے ماہر ڈاکٹروں سے معائنہ اور بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے کی سہولت۔
سوال: یہ احکامات کب تک پورے ہوں گے؟
جواب: 16 فروری 2026 سے پہلے دونوں اقدامات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
سوال: عدالت نے طبی سہولیات کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہئیں، صحت مقدم ہے۔
سوال: کیا عمران خان کو خصوصی سہولیات دی جا رہی ہیں؟
جواب: عدالت نے واضح کیا کہ کوئی خصوصی سہولت نہیں، سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔
آپ اس فیصلے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ کیا عدالت کے احکامات فوری عمل درآمد کے قابل ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں اور اس خبر کو شیئر کریں۔
تازہ ترین اپ ڈیٹس اور اہم عدالتی فیصلوں سے باخبر رہنے کے لیے ابھی ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں جانب موجود فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں تاکہ کوئی اہم خبر آپ سے دور نہ رہے۔
Please confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.