خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا ہاؤس میں تحریک انصاف کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو ناحق قید کیا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کی ملاقات بھی روک دی گئی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو آج یاد دہانی کی یادداشت پیش کی جائے گی۔ عمران خان کی صحت کے مسائل پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ گزشتہ روز کے پی ہاؤس اسلام آباد میں پی ٹی آئی اور اپوزیشن کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا، جہاں اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی پارٹی ارکان پر برہم ہوئے اور کہا کہ ایک طرف حکومت اور دوسری طرف پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ہماری تذلیل کر رہا ہے۔ ہمیں سب کو اپنی بساط اور صوبے کے مطابق کام کرنا ہوگا۔
پی ٹی آئی کی یادداشت
پی ٹی آئی یادداشت میں عمران خان کی غیر منصفانہ قید، ان کی صحت کی خرابی اور بنیادی حقوق کی پامالی کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ یادداشت کے مطابق عمران خان کو 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے۔ انہیں تنہائی میں رکھا جا رہا ہے جو بین الاقوامی اور پاکستانی قوانین کے خلاف ہے۔ چیف جسٹس کو میمورنڈم میں عمران خان کی آنکھ کی شدید تکلیف اور طبی رپورٹس کی عدم فراہمی پر خاص زور دیا گیا ہے۔
بشریٰ بی بی نے ملاقات کے دوران بتایا کہ عمران خان دو ہفتوں سے آنکھوں کی تکلیف میں مبتلا تھے لیکن ان کا مناسب چیک اپ نہیں ہوا۔ پمز کے ڈاکٹر نے فوری ہسپتال داخلے کی ہدایت کی تھی۔ یادداشت کا مقصد سپریم کورٹ سے فوری نوٹس لینا اور عدالتی پیش رفت آج حاصل کرنا ہے۔
اجلاس میں اٹھائے گئے اہم نکات
اجلاس میں پی ٹی آئی عدالتی اقدام پر تفصیلی بحث ہوئی۔ سلمان اکرم راجہ نے چیف جسٹس سے ملاقات کی اور طبی رپورٹس کی یقین دہانی حاصل کی تھی لیکن ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود رپورٹس فراہم نہیں کی گئیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ پی ٹی آئی نے آئینی درخواست دائر کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔
معین قریشی کے برہم ہونے کی وجہ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کی جانب سے اپوزیشن کی تذلیل تھی۔ فیصل جاوید نے کہا کہ اپنے ہی لوگوں کی نیتوں پر شک نہ کیا جائے۔ یہ اندرونی تنازعات پی ٹی آئی کی سیاسی جماعت یادداشت کی اہمیت کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
عمران خان کی صحت اور قید کی تازہ صورتحال
عمران خان کی صحت کے مسائل پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ یادداشت میں بتایا گیا کہ ذاتی معالجین کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ بشریٰ بی بی کو 4 نومبر 2025 کے بعد پہلی ملاقات ملی۔ عمران خان کی بہنوں کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔ یہ تمام تفصیلات پی ٹی آئی کی قانونی جدوجہد کو واضح کرتی ہیں۔
یادداشت پیش کرنے اور قانونی پیش رفت کے لیے قدم بہ قدم گائیڈ
- قدم 1: یادداشت کی تیاری مکمل کریں اور پارٹی اراکین پارلیمنٹ سے دستخط حاصل کریں۔
- قدم 2: سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں یادداشت رسمی طور پر جمع کرائیں۔
- قدم 3: طبی رپورٹس کی فوری فراہمی اور چیک اپ کے احکامات کی طلب کریں۔
- قدم 4: اگر عدالت کے احکامات پر عمل نہ ہو تو توہین عدالت کی درخواست دائر کریں۔
- قدم 5: سوشل میڈیا، میڈیا اور عوامی فورمز کے ذریعے حمایت حاصل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی مقدمہ: وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کیخلاف شواہد پر تنازع شدت اختیار کرگیا
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
1. پی ٹی آئی یادداشت کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
عمران خان کی ناحق قید، صحت کے مسائل اور بنیادی حقوق کی بحالی۔
2. چیف جسٹس کو یاد دہانی کی یادداشت کیسے پیش کی جائے گی؟
سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے ذریعے رسمی طور پر آج پیش کی جائے گی۔
3. عمران خان کی صحت کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
آنکھوں کی شدید تکلیف، طبی رپورٹس کی عدم فراہمی اور تنہائی میں قید۔
4. پی ٹی آئی کی قانونی حکمت عملی کیا ہے؟
یادداشت پیش کرنا، آئینی درخواستیں دائر کرنا اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی نگرانی۔
5. اجلاس میں کیا اہم تنازع سامنے آیا؟
سوشل میڈیا پر تذلیل اور اندرونی اختلافات پر بحث۔
یہ یادداشت تحریک انصاف کی عدالتی اور سیاسی جدوجہد میں ایک اہم قدم ہے۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سپریم کورٹ اس پر فوری نوٹس لے گی؟ پول میں ووٹ دیں: ہاں/نہیں۔ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں اور آرٹیکل کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں—بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفیکیشن آن کریں اور براہ راست معتبر خبریں حاصل کریں، یہ مکمل مفت اور بہت آسان ہے!
(نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے متعلقہ سرکاری ذرائع سے تصدیق کر لیں۔)