امریکی محکمہ انصاف نے حال ہی میں جنسی جرائم کے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق نئی دستاویزات جاری کیں جن میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام بھی سامنے آیا۔ یہ ایک ای میل کا حوالہ ہے جس میں ایپسٹین نے دعویٰ کیا کہ مودی نے ان کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے اسرائیل کا دورہ کیا اور وہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فائدے کے لیے ناچ گانا کیا جس سے "مقصد پورا ہو گیا”۔ یہ دورہ جولائی 2017 میں ہوا تھا جبکہ اس سے پہلے مودی نے ٹرمپ سے ملاقات بھی کی تھی۔
بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس انکشاف پر شدید تنقید کی۔ کانگریس نے ایکس پر ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے تیار کردہ طنزیہ ویڈیو شیئر کی جس میں مودی کو ایپسٹین سے مشورہ لیتے اور اسرائیل میں رقص کرتے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو کے کیپشن میں لکھا گیا کہ نریندر مودی "کمپرومائزڈ” ہیں۔ کانگریس نے تین اہم سوالات اٹھائے: مودی ایپسٹین سے کیا مشورہ لے رہے تھے؟ ناچ گانے سے ٹرمپ کو کیا فائدہ ہوا؟ اور "مقصد پورا ہو گیا” سے کیا مراد ہے؟
حکومت کا سخت ردعمل
بھارتی وزارت خارجہ نے ان تمام دعووں کو مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ ترجمان نے بیان دیا کہ ای میل میں وزیراعظم کے اسرائیل دورے کا ذکر درست ہے لیکن باقی حصہ ایک مجرم کی بکواس ہے جسے حقارت سے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ حکومت کا واضح موقف ہے کہ یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور صرف سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
بھارت میں سیاسی ہلچل
یہ معاملہ بھارتی سیاست میں شدید بحث کا باعث بن گیا۔ کانگریس نے اسے مودی حکومت کی غیر ملکی پالیسی اور روابط کی کمزوری قرار دیا جبکہ حکمراں جماعت نے کانگریس پر جھوٹ اور پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام لگایا۔ ایپسٹین کی دستاویزات میں کئی عالمی شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کی تردید کی جا چکی ہے۔ یہ واقعہ سیاسی تنقید میں اے آئی کے استعمال کی ایک نمایاں مثال بھی ہے جو غلط فہمیاں پیدا کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : خان صاحب کی طبیعت بہتر ہے لیکن وہ پوری طرح ٹھیک نہیں ہیں: مریم ریاض وٹو
مودی اسرائیل ٹرمپ ویڈیو، کانگریس طنزیہ ویڈیو، اے آئی سے بنی سیاسی ویڈیو، مودی ٹرمپ اسرائیل تنازع اور کانگریس نے اے آئی ویڈیو شیئر کردی جیسے الفاظ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل رہے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال 1: کیا ایپسٹین فائلز میں مودی پر کوئی براہ راست الزام ہے؟
نہیں، دستاویزات میں صرف ایپسٹین کی طرف سے لکھی گئی ایک ای میل کا ذکر ہے۔ اس میں کوئی ٹھوس الزام نہیں بلکہ ایک دعویٰ ہے جسے حکومت نے مسترد کر دیا۔
سوال 2: کانگریس کی ویڈیو کس قسم کی ہے؟
یہ مکمل طور پر اے آئی سے تیار کردہ طنزیہ ویڈیو ہے جو سیاسی تنقید کے لیے بنائی گئی۔ اس میں مودی کو ایپسٹین سے مشورہ لیتے اور اسرائیل میں ناچتے دکھایا گیا ہے۔
سوال 3: حکومت نے کیا جواب دیا؟
وزارت خارجہ نے اسے ایک مجرم کی بے معنی باتیں قرار دیا اور سیاسی حملہ کہا۔
سوال 4: یہ تنازع کب سے چل رہا ہے؟
نئی دستاویزات جاری ہونے کے بعد سے، یعنی حالیہ مہینوں میں۔
یہ خبر پڑھنے کے بعد اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور تازہ ترین خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں جانب فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کرکے نوٹیفکیشن آن کریں اور بریکنگ نیوز سب سے پہلے حاصل کریں – ابھی جوائن کریں!
ڈس کلیمر: The provided information is published through public reports. Please confirm all discussed information before taking any steps.