ہماری پارٹی میں عمران خان کے بعد ہرکوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، جنید اکبر

_عمران خان and جنید اکبر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اہم رہنما جنید اکبر نے اڈیالہ جیل روڈ پر میڈیا سے بات چیت میں پارٹی کی اندرونی صورتحال پر کھل کر اظہار رائے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بعد پارٹی میں ہر رہنما خود کو لیڈر سمجھتا ہے۔ یہ بیان پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست، قیادت کے بحران اور رہنماؤں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو واضح طور پر سامنے لاتا ہے۔

جنید اکبر نے بار بار زور دیا کہ وہ عمران خان کے ہر فیصلے کے ساتھ پورے طور پر کھڑے ہیں۔ بانی پی ٹی آئی جو بھی کہیں گے، وہی حتمی فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے پارٹی کو اپنا گھر قرار دیا اور کہا کہ یہاں ناراضی، جھگڑے اور شکوے روزمرہ کی بات ہیں جو ماضی میں بھی چلتے رہے اور آئندہ بھی جاری رہیں گے۔

پارٹی کا جمہوری کلچر

جنید اکبر کے مطابق پی ٹی آئی کا کلچر دیگر جماعتوں سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں جمہوریت کی وجہ سے ہر رہنما کو آگے بڑھنے، ذمہ داریاں سنبھالنے اور قیادت کا دعویٰ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اسی وجہ سے پارٹی میں قیادت کی دوڑ اور اختلافات زیادہ نظر آتے ہیں۔

انہوں نے دیگر سیاسی جماعتوں کا موازنہ کیا جہاں خاندانی نظام یا آمریت کی وجہ سے قیادت پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مسلم لیگ (ن) میں مریم نواز وزیراعلیٰ پنجاب اور شہباز شریف وزیراعظم کے لیے واضح امیدوار ہیں۔ آنے والی نسلیں بھی اسی ترتیب سے اقتدار میں آتی رہتی ہیں۔ پی ٹی آئی میں یہ جمہوری آزادی ہی ہے جو ہر فرد کو خود کو لیڈر کہنے کی جرأت دیتی ہے۔

انہوں نے محمود خان اچکزئی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئے شامل ہونے والے رہنماؤں کو پارٹی کے کلچر، روایات اور ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ جنید اکبر نے واضح کیا کہ اچکزئی پر کوئی ذاتی تحفظات نہیں ہیں۔

آڈیو ٹیپ، ناراضی کا اظہار اور پارلیمانی تنازع

اس بیان سے پہلے جنید اکبر کی ایک آڈیو ٹیپ سامنے آئی تھی جس میں انہوں نے پارلیمانی کمیٹی میں بولنے کا مناسب موقع نہ ملنے پر شدید ناراضی ظاہر کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اب برداشت ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے چیف وہپ کے روزانہ فیصلوں پر سوال اٹھایا کہ کون تقریر کرے گا۔ اس موقع پر انہوں نے اسپیکر کو خط لکھنے کا اعلان کیا تھا کہ انہیں الگ نشست دی جائے اور وہ پارلیمانی کمیٹی کا حصہ نہیں رہیں گے۔

بعد میں انہوں نے وضاحت کی کہ یہ استعفیٰ نہیں تھا بلکہ صرف ناراضی اور شکوے کا اظہار تھا۔ یہ واقعہ پارٹی کے اندر فیصلہ سازی، تقریروں کی تقسیم اور رہنماؤں کے درمیان عدم مساوات کو نمایاں کرتا ہے۔

پی ٹی آئی کی اندرونی صورتحال

پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست حالیہ برسوں میں مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ بانی قائد عمران خان کی طویل قید، صحت کے مسائل اور پارٹی کی مستقبل کی سمت پر سوالات نے رہنماؤں میں بے چینی پیدا کی ہے۔ جنید اکبر کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پارٹی میں اتحاد برقرار رکھنے کے لیے اندرونی سطح پر زیادہ مشاورت، کھلا مکالمہ اور ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم بہت ضروری ہے۔

یہ جمہوری کلچر پارٹی کی سب سے بڑی طاقت بھی ہے اور سب سے بڑا چیلنج بھی۔ اگر اختلافات کو مثبت انداز میں حل کیا جائے تو پارٹی نہ صرف مضبوط ہوگی بلکہ اپنے اصولوں پر بھی قائم رہ سکے گی۔

پی ٹی آئی قیادت بحران کی اہم وجوہات

  • ہر رہنما کی خود کو لیڈر سمجھنے اور آگے بڑھنے کی شدید خواہش
  • تقریروں، فیصلہ سازی اور ذمہ داریوں میں عدم توازن
  • جمہوری ماحول کی وجہ سے کھلے اور زیادہ تعداد میں اختلافات
  • بانی قائد کی غیر موجودگی اور پارٹی کی سمت پر ابہام
  • نئے رہنماؤں کا پارٹی کی روایات اور کلچر میں ایڈجسٹ ہونے کا مسئلہ

ان مسائل کو حل کرنے کے لیے پارٹی کو اندرونی بات چیت کو فروغ دینا چاہیے تاکہ اتحاد مضبوط رہے اور عوامی مینڈیٹ پر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی صحت ٹھیک ہے، بیرسٹر سلمان صفدرکا اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد بیان

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

کیا جنید اکبر نے پی ٹی آئی چھوڑ دی ہے؟

نہیں، انہوں نے صرف ناراضی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ وہ پارٹی کے ساتھ ہیں اور عمران خان کے فیصلوں پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔

عمران خان کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کا کیا منظرنامہ ہے؟

جنید اکبر کے مطابق عمران خان کے فیصلے ہی حتمی ہوں گے، لیکن پارٹی میں ہر رہنما خود کو لیڈر سمجھتا ہے۔

پی ٹی آئی میں اختلافات دیگر جماعتوں سے زیادہ کیوں ہیں؟

جمہوری کلچر کی وجہ سے جہاں ہر فرد کو موقع ملتا ہے، جبکہ دیگر جماعتوں میں آمریت یا خاندانی نظام کی وجہ سے اختلاف کم ہوتے ہیں۔

محمود خان اچکزئی پر جنید اکبر کے کیا تحفظات ہیں؟

کوئی ذاتی تحفظات نہیں ہیں، البتہ نئے رہنماؤں کو پارٹی کلچر میں ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔

پارٹی میں قیادت کا بحران حل کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

زیادہ مشاورت، ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم، کھلے مکالمے اور اختلافات کو مثبت انداز میں حل کرنا۔

یہ مضمون پڑھنے کا شکریہ! اپنے خیالات کمنٹس میں ضرور شیئر کریں، مضمون کو دوستوں کے ساتھ بانٹیں اور تازہ ترین سیاسی اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ فوری نوٹیفکیشن حاصل کریں اور پاکستان کی سیاست سے جڑے رہیں – ابھی جوائن کریں!

Please confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے