رحیم گل کا ناول "جنت کی تلاش” اردو ادب میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ ناول نہ صرف ایک دلچسپ کہانی ہے بلکہ معاشرے کی سماجی حقیقتوں، عورت کی جدوجہد اور انسانی رشتوں کی پیچیدگیوں کا عکاس بھی ہے۔ اس ناول میں مصنفہ نے کردار نگاری کے فن کا بہترین مظاہرہ کیا ہے اور ہر کردار کو اس طرح تراشا ہے کہ وہ زندہ اور حقیقی لگتا ہے۔
ناول کا مرکزی موضوع خوشی اور سکون کی تلاش ہے جسے ہر انسان اپنے اپنے انداز میں ڈھونڈتا ہے۔ رحیم گل نے اپنے کرداروں کے ذریعے یہ دکھایا ہے کہ جنت باہر نہیں بلکہ اندر ملتی ہے اور حقیقی خوشی مادی چیزوں میں نہیں بلکہ دل کے سکون میں ہے۔ ناول میں پاکستانی معاشرے کی مکمل تصویر موجود ہے جہاں روایت اور جدیدیت میں کشمکش ہے، عورت اپنی پہچان تلاش کر رہی ہے، اور انسان خوشیوں کی جستجو میں سرگرداں ہے۔
یہ ناول ایک نفسیاتی اور سماجی دستاویز ہے جو پڑھنے والے کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ رحیم گل نے کرداروں کی نفسیات کو اتنی گہرائی سے بیان کیا ہے کہ قاری ہر کردار کے ساتھ اپنا تعلق محسوس کرتا ہے۔ ان کی کردار نگاری کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ کوئی بھی کردار مکمل طور پر اچھا یا برا نہیں بلکہ سب میں انسانی کمزوریاں اور خوبیاں موجود ہیں۔
کردار نگاری کی اہمیت
کسی بھی ناول کی کامیابی کا انحصار اس کے کرداروں پر ہوتا ہے۔ اگر کردار مضبوط، حقیقی اور قابل یقین ہوں تو قاری ناول سے جڑ جاتا ہے۔ جنت کی تلاش میں رحیم گل نے کردار نگاری کے تمام اصولوں کو مدنظر رکھا ہے۔ ان کے کردار نہ تو مکمل طور پر اچھے ہیں اور نہ ہی مکمل طور پر برے، بلکہ وہ انسانی فطرت کی تمام تر پیچیدگیوں کے ساتھ ہمارے سامنے آتے ہیں۔ ہر کردار کی اپنی شخصیت، اپنی خوبیاں اور اپنی خامیاں ہیں جو انہیں حقیقی بناتی ہیں۔
ادب میں کردار نگاری کا فن یہ ہے کہ مصنف ایسے کردار تخلیق کرے جو قاری کو متاثر کریں اور ان کے ذہن میں گھر کر جائیں۔ رحیم گل اس فن میں بہت ماہر ہیں۔ انہوں نے اپنے کرداروں کو محض کہانی کی ضرورت کے لیے نہیں بلکہ ایک مقصد کے تحت تخلیق کیا ہے۔ ہر کردار معاشرے کے کسی نہ کسی پہلو کی نمائندگی کرتا ہے اور قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
مرکزی کردار: نرگس
نرگس اس ناول کا مرکزی کردار ہے جس کے گرد پوری کہانی گھومتی ہے۔ نرگس ایک ایسی عورت ہے جو زندگی کے مختلف مراحل سے گزرتی ہے اور ہر مرحلے پر اسے نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ ایک حساس اور جذباتی عورت ہے جو خوشیوں کی تلاش میں ہے لیکن زندگی کی حقیقتیں اسے بار بار مایوس کرتی ہیں۔
نرگس کا کردار انتہائی مضبوط اور کثیر جہتی ہے۔ ناول کے آغاز میں وہ ایک معصوم اور خوابوں میں کھوئی ہوئی لڑکی ہے جو زندگی سے بہت سی امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہے۔ اس نے اپنی شادی کے بارے میں بہت سے خواب دیکھے ہیں اور سوچتی ہے کہ شادی کے بعد اس کی زندگی جنت بن جائے گی۔ لیکن شادی کے بعد جب اسے حقیقت کا سامنا ہوتا ہے تو اس کی دنیا بدل جاتی ہے۔ اس کی شادی شدہ زندگی میں وہ مصائب اور تکالیف برداشت کرتی ہے جو اسے ایک مضبوط عورت بنا دیتے ہیں۔
رحیم گل نے نرگس کے کردار کو بہت خوبصورتی سے نشوونما دیا ہے۔ وہ ابتدا میں ایک کمزور اور بے بس عورت نظر آتی ہے لیکن آہستہ آہستہ حالات اسے مضبوط بنا دیتے ہیں۔ اس کی شخصیت میں آنے والی تبدیلی بہت فطری اور قابل یقین ہے۔ نرگس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ مشکلات سے ہار نہیں مانتی اور ہمیشہ بہتر زندگی کی امید رکھتی ہے۔ جب اس کا شوہر اسے دھوکہ دیتا ہے تو وہ ٹوٹ نہیں جاتی بلکہ اپنے بچوں کی خاطر مضبوطی سے کھڑی رہتی ہے۔
نرگس کے کردار میں مصنفہ نے ایک عام پاکستانی عورت کی تمام خصوصیات سمو دی ہیں۔ اس کی جدوجہد، اس کی قربانیاں، اور اس کی خواہشیں ہر عورت سے مماثلت رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قاری نرگس کے کردار سے گہرا لگاؤ محسوس کرتا ہے۔ وہ صرف ایک افسانوی کردار نہیں بلکہ ہر اس عورت کی آواز ہے جو معاشرے میں اپنی جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
نرگس کی شخصیت میں صبر، حوصلہ، اور استقامت کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔ جب اس کی زندگی میں طوفان آتے ہیں تو وہ ان کا مقابلہ بہادری سے کرتی ہے۔ وہ اپنے بچوں کی پرورش اکیلے کرتی ہے اور انہیں بہترین تعلیم دینے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کی ماں بننے کی ذمہ داریاں اسے اور بھی مضبوط بنا دیتی ہیں۔ نرگس کا سفر دراصل خود شناسی کا سفر ہے جہاں وہ اپنی حقیقی طاقت کو پہچانتی ہے اور سمجھتی ہے کہ خوشی باہر نہیں بلکہ اندر ہے۔
سلمیٰ: ایک متضاد کردار
سلمیٰ ناول کا ایک اور اہم کردار ہے جو نرگس سے بالکل مختلف ہے۔ سلمیٰ ایک جدید اور آزاد خیال عورت ہے جو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرتی ہے۔ وہ روایتی قدروں سے منحرف نظر آتی ہے اور اپنی خوشی کو سب سے اہم سمجھتی ہے۔ سلمیٰ کا کردار دراصل معاشرے میں ابھرتی ہوئی جدید عورت کی علامت ہے۔
سلمیٰ کا کردار دراصل ان عورتوں کی نمائندگی کرتا ہے جو معاشرے کی پابندیوں سے نکلنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ زندگی کو اپنے انداز سے جینا چاہتی ہے اور کسی کی پرواہ نہیں کرتی۔ لیکن ناول میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ اس کی یہ آزادی اسے حقیقی خوشی نہیں دے پاتی۔ اس کی زندگی میں خلا ہے اور وہ اندر سے خالی محسوس کرتی ہے۔
رحیم گل نے سلمیٰ کے کردار کے ذریعے یہ پیغام دیا ہے کہ مطلق آزادی بھی انسان کو خوشی نہیں دے سکتی اگر اس میں اقدار اور اصول نہ ہوں۔ سلمیٰ کا کردار ایک آئینہ ہے جس میں جدید دور کی عورت کی الجھنیں دکھائی دیتی ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے شادی کرتی ہے، اپنی مرضی سے طلاق لیتی ہے، اور پھر دوبارہ شادی کرتی ہے۔ لیکن ہر مرحلے پر وہ بے چینی محسوس کرتی ہے۔
سلمیٰ کا کردار بہت پیچیدہ ہے۔ ظاہری طور پر وہ بہت خوش اور مطمئن نظر آتی ہے لیکن اندر سے وہ ٹوٹی ہوئی ہے۔ اس کی آزادی اسے تنہائی کی طرف لے جاتی ہے۔ مصنفہ نے اس کردار کے ذریعے یہ دکھایا ہے کہ انسان کو توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ تو مکمل پابندی اچھی ہے اور نہ ہی مکمل آزادی۔ سلمیٰ جب نرگس کو دیکھتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ شاید اس کے پاس کچھ ایسا ہے جو اس کے پاس نہیں۔
علی: ناقابل اعتماد شوہر
علی نرگس کا شوہر ہے اور ناول کا ایک منفی کردار ہے۔ وہ ایک بے وفا، خود غرض اور ذمہ داریوں سے بھاگنے والا شخص ہے۔ علی کا کردار اس بات کی نمائندگی کرتا ہے کہ کس طرح ایک غیر ذمہ دار شوہر پوری خاندان کی زندگی کو تباہ کر سکتا ہے۔
علی کے کردار میں مصنفہ نے کوئی ہمدردی نہیں رکھی۔ وہ ایک ایسا شخص ہے جو اپنی خواہشات کو سب سے اوپر رکھتا ہے اور اپنی بیوی اور بچوں کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس کی بے وفائی اور خود غرضی نرگس کی زندگی کو اجیرن بنا دیتی ہے۔ شادی کے ابتدائی دنوں میں علی نرگس سے محبت کا اظہار کرتا ہے لیکن جلد ہی اس کی حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
لیکن علی کا کردار بھی بالکل غیر حقیقی نہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے بہت سے مرد ہیں جو اپنی ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں اور اپنے خاندان کو تکلیف دیتے ہیں۔ علی کی کمزوریاں اس کی شخصیت کا حصہ ہیں۔ وہ نہ تو مکمل طور پر شیطان ہے اور نہ ہی فرشتہ، بلکہ ایک کمزور انسان ہے جو اپنی خواہشات کا غلام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بیت الخلا میں موبائل استعمال کرنے کا طبی نقصان کیا ہے؟
علی کا کردار مصنفہ کے فن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے علی کو محض ایک کھلنایک نہیں بنایا بلکہ اس کی نفسیات کو بھی بیان کیا ہے۔ علی کی بے وفائی کی وجوہات بھی ہیں۔ شاید اس کی پرورش، شاید معاشرے کا اثر، یا شاید اس کی اپنی کمزوریاں۔ یہ کردار ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ انسان کیوں غلط راستے پر چلا جاتا ہے۔
عائشہ: روایتی قدروں کی علمبردار
عائشہ ناول میں ایک معاون کردار ہے لیکن اس کی اہمیت کم نہیں۔ وہ نرگس کی سہیلی ہے اور روایتی قدروں پر یقین رکھتی ہے۔ عائشہ کا کردار توازن پیدا کرتا ہے اور دکھاتا ہے کہ روایتی طریقے سے زندگی گزارنے میں بھی خوشی مل سکتی ہے۔
عائشہ کی شادی شدہ زندگی کامیاب ہے اور وہ مطمئن نظر آتی ہے۔ اس کا کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر رشتوں میں محبت، احترام اور سمجھ بوجھ ہو تو گھریلو زندگی جنت بن سکتی ہے۔ عائشہ نرگس کی مشکل وقت میں مددگار ثابت ہوتی ہے اور اسے سہارا دیتی ہے۔ جب نرگس کی شادی شدہ زندگی میں مسائل آتے ہیں تو عائشہ ہی ہے جو اسے تسلی دیتی ہے اور حوصلہ دیتی ہے۔
عائشہ کا کردار یہ پیغام دیتا ہے کہ روایات بری نہیں ہیں اگر وہ انسانیت کی خدمت کریں۔ عائشہ ایک روایتی عورت ہے لیکن وہ کمزور نہیں۔ وہ اپنے گھر کی ملکہ ہے اور اپنے شوہر سے پیار بھی کرتی ہے اور اس کا احترام بھی۔ اس کے کردار سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مسئلہ روایات میں نہیں بلکہ ان کے غلط استعمال میں ہے۔
احمد: امید کی کرن
احمد ناول کے بعد کے حصے میں داخل ہوتا ہے اور نرگس کی زندگی میں نیا موڑ لاتا ہے۔ وہ ایک اچھا، ذمہ دار اور سمجھدار شخص ہے جو نرگس کو عزت اور احترام دیتا ہے۔ احمد کا کردار اس بات کی علامت ہے کہ اندھیری رات کے بعد سویرا ضرور ہوتا ہے۔
احمد کے کردار میں مصنفہ نے تمام خوبیاں سمو دی ہیں جو ایک مثالی انسان میں ہونی چاہیے۔ وہ نہ صرف نرگس کا خیال رکھتا ہے بلکہ اس کی اولاد سے بھی محبت کرتا ہے۔ احمد کی موجودگی سے نرگس کی زندگی میں سکون آتا ہے اور وہ پھر سے خوشیوں کی تلاش میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ احمد نرگس کے ماضی کو قبول کرتا ہے اور اسے نئی زندگی دینے کی کوشش کرتا ہے۔
احمد کا کردار علی کی مکمل ضد ہے۔ جہاں علی خود غرض اور بے وفا تھا، وہیں احمد وفادار اور ذمہ دار ہے۔ جہاں علی نے نرگس کو تکلیف دی، وہیں احمد اسے خوشیاں دینا چاہتا ہے۔ احمد کے کردار سے یہ پیغام ملتا ہے کہ دنیا میں اچھے لوگ بھی ہیں اور برے تجربات کے بعد اچھے دن بھی آتے ہیں۔
معاون کردار اور ان کی اہمیت
ناول میں کئی معاون کردار بھی ہیں جو کہانی کو مکمل کرتے ہیں۔ نرگس کی ماں، اس کے بہن بھائی، پڑوسی، اور دوست سبھی اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ ہر کردار کی موجودگی ایک مقصد کو پورا کرتی ہے اور کہانی میں گہرائی پیدا کرتی ہے۔
نرگس کی ماں ایک روایتی عورت ہے جو بیٹی کی خوشی کے لیے فکرمند رہتی ہے۔ وہ نرگس کی شادی کے لیے پریشان رہتی ہے اور جب شادی ہو جاتی ہے تو اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔ لیکن جب اسے نرگس کی مشکلات کا پتہ چلتا ہے تو وہ بے بس محسوس کرتی ہے۔
نرگس کے بہن بھائی بھی اہم کردار ہیں۔ ان کے ذریعے خاندانی رشتوں کی اہمیت اور ان کی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔ کچھ بہن بھائی نرگس کا ساتھ دیتے ہیں جبکہ کچھ اپنی مصروفیات میں الجھے رہتے ہیں۔
کردار نگاری کی تکنیک
رحیم گل نے جنت کی تلاش میں کردار نگاری کے لیے کئی تکنیک استعمال کی ہیں۔ انہوں نے براہ راست بیان اور بالواسطہ بیان دونوں طریقے استعمال کیے ہیں۔ کرداروں کی شخصیت کو ان کی گفتگو، ان کے اعمال، اور دوسروں کے ردعمل کے ذریعے ظاہر کیا گیا ہے۔
مصنفہ نے نفسیاتی کردار نگاری پر بھی خاص توجہ دی ہے۔ کرداروں کی سوچ، ان کے جذبات اور ان کی ذہنی کشمکش کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر کردار مکمل اور تین جہتی نظر آتا ہے۔
موضوعات کا تجزیہ
عورت کی جدوجہد
ناول کا سب سے نمایاں موضوع عورت کی جدوجہد ہے۔ نرگس کا کردار اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح ایک عورت زندگی کی مشکلات سے لڑتی ہے اور اپنے لیے جگہ بناتی ہے۔ ناول میں دکھایا گیا ہے کہ عورت صرف گھر کی چار دیواری میں محدود نہیں بلکہ وہ اپنے وجود کی تلاش میں ہے۔ نرگس کی جدوجہد ہر اس عورت کی جدوجہد ہے جو معاشرے میں اپنا مقام بنانا چاہتی ہے۔
رحیم گل نے عورت کے مسائل کو بہت حساسیت سے پیش کیا ہے۔ ناول میں یہ دکھایا گیا ہے کہ عورت کو صرف گھر میں ہی نہیں بلکہ باہر کی دنیا میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرتی دباؤ، خاندانی ذمہ داریاں اور مالی مسائل سب عورت کی زندگی کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
خوشی کی تلاش
جنت کی تلاش کا مرکزی موضوع خوشی کی تلاش ہے۔ ہر کردار اپنے اپنے طریقے سے خوشی ڈھونڈ رہا ہے۔ نرگس مادی آسائشوں میں خوشی تلاش کرتی ہے لیکن بعد میں اسے احساس ہوتا ہے کہ حقیقی خوشی تو دل کے سکون میں ہے۔ سلمیٰ آزادی میں خوشی تلاش کرتی ہے لیکن وہ بھی ناکام رہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شادی سے ہونے والے حیرت انگیز فائدے سامنے آگئے: صحت اور خوشی میں اضافہ!
مصنفہ نے اس موضوع کو بڑی خوبصورتی سے نبھایا ہے۔ انہوں نے دکھایا ہے کہ خوشی باہر نہیں بلکہ اندر ہے۔ جب تک انسان اپنے آپ سے مطمئن نہیں ہوتا، اسے کوئی چیز خوشی نہیں دے سکتی۔ نرگس کا سفر اسی خود شناسی کا سفر ہے جہاں وہ آخر میں سمجھ جاتی ہے کہ جنت دراصل دل کے سکون کا نام ہے۔
خاندانی رشتے
ناول میں خاندانی رشتوں کی اہمیت اور ان کی پیچیدگیوں کو بھی دکھایا گیا ہے۔ شوہر بیوی کا رشتہ، ماں بیٹی کا رشتہ، اور دوستوں کا رشتہ سب کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ رشتے کرداروں کی شخصیت کو تشکیل دیتے ہیں۔
رحیم گل نے خاندانی رشتوں کی پیچیدگیوں کو بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ نرگس اور اس کے شوہر کے رشتے میں ابتدا میں محبت ہے لیکن بعد میں یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی ماں کا کردار بھی دلچسپ ہے جو روایتی سوچ رکھتی ہے لیکن بیٹی سے محبت کرتی ہے۔
روایت اور جدیدیت کی کشمکش
ناول میں روایت اور جدیدیت کی کشمکش بھی نظر آتی ہے۔ کچھ کردار روایتی قدروں کے پابند ہیں جبکہ کچھ جدید خیالات کے حامل۔ یہ کشمکش معاشرے کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے۔ نرگس اور سلمیٰ کے کرداروں میں یہ تضاد واضح طور پر نظر آتا ہے۔ نرگس روایت اور جدیدیت کے درمیان توازن تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ سلمیٰ مکمل طور پر جدیدیت کی طرف مائل ہے۔
مصنفہ نے یہ پیغام دیا ہے کہ نہ تو روایات کو مکمل طور پر ترک کرنا چاہیے اور نہ ہی جدیدیت کو مکمل طور پر قبول کرنا چاہیے۔ دونوں میں توازن ہونا چاہیے۔ ایسی روایات جو انسانیت کے خلاف ہیں انہیں چھوڑ دینا چاہیے لیکن اچھی روایات کو برقرار رکھنا چاہیے۔
کرداروں کا باہمی تعلق
جنت کی تلاش میں تمام کردار ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ نرگس اور سلمیٰ کا تعلق دوستی کا ہے لیکن ان کی سوچ بالکل مختلف ہے۔ یہ تضاد کہانی کو دلچسپ بناتا ہے۔ نرگس جب سلمیٰ کی آزاد زندگی دیکھتی ہے تو کبھی کبھی اسے رشک آتا ہے لیکن بعد میں وہ سمجھ جاتی ہے کہ سلمیٰ کی آزادی اسے سکون نہیں دے رہی۔
علی اور احمد کا موازنہ بھی دلچسپ ہے۔ دونوں مرد ہیں لیکن ان کی شخصیت میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ علی نرگس کی زندگی میں اندھیرا لاتا ہے جبکہ احمد اجالا۔ یہ تضاد قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ایک اچھا انسان کیسا ہونا چاہیے۔
عائشہ اور نرگس کی دوستی ناول میں ایک مثبت پہلو ہے۔ عائشہ نرگس کی ہر مشکل میں ساتھ دیتی ہے اور اسے حوصلہ دیتی ہے۔ ان کی دوستی یہ پیغام دیتی ہے کہ مشکل وقت میں سچے دوست ہی کام آتے ہیں۔
کردار نگاری میں علامتی استعمال
رحیم گل نے اپنے کرداروں کو محض افراد نہیں بلکہ علامتیں بنا دیا ہے۔ نرگس ہر اس عورت کی علامت ہے جو مشکلات سے لڑتی ہے۔ سلمیٰ جدید دور کی الجھنوں کی علامت ہے۔ علی ان تمام مردوں کی علامت ہے جو اپنی ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں۔ احمد امید اور نیکی کی علامت ہے۔
یہ علامتی استعمال ناول کو ایک وسیع تر معنی دیتا ہے۔ قاری صرف ایک کہانی نہیں پڑھتا بلکہ پورے معاشرے کی تصویر دیکھتا ہے۔ ہر کردار کسی نہ کسی سماجی طبقے یا سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔
کردار نگاری کی فنی خوبیاں
رحیم گل کی کردار نگاری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کے کردار حقیقی اور قابل یقین ہیں۔ کوئی بھی کردار مصنوعی یا بناوٹی نہیں لگتا۔ تمام کردار معاشرے میں موجود افراد کی نمائندگی کرتے ہیں۔
مصنف نے کرداروں کی نفسیات پر خاص توجہ دی ہے۔ ہر کردار کے اعمال کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔ کوئی بھی کردار بلاوجہ کچھ نہیں کرتا۔ ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی نفسیاتی وجہ ہے۔ کرداروں میں ارتقاء بھی نظر آتا ہے۔ خاص طور پر نرگس کا کردار جو ناول کے دوران بہت بدل جاتا ہے۔ یہ تبدیلی فطری اور قابل یقین ہے۔ کوئی کردار اچانک نہیں بدلتا بلکہ آہستہ آہستہ حالات کے زیر اثر تبدیل ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گھٹنوں کے درد سے بچاؤ کی آسان عادات
مصنف نے مکالموں کے ذریعے بھی کرداروں کی شخصیت کو ابھارا ہے۔ ہر کردار کا انداز گفتگو الگ ہے جو اس کی شخصیت کی عکاسی کرتا ہے۔ نرگس کی گفتگو میں نرمی اور احساس ہے، سلمیٰ کی گفتگو میں جرات اور بے باکی، علی کی گفتگو میں خود غرضی اور احمد کی گفتگو میں سنجیدگی اور سمجھداری۔
نتیجہ
جنت کی تلاش میں رحیم گل کی کردار نگاری انتہائی کامیاب ہے۔ انہوں نے ایسے کردار تخلیق کیے ہیں جو حقیقی، قابل یقین اور زندہ نظر آتے ہیں۔ ہر کردار کی اپنی شخصیت ہے اور ہر ایک کہانی کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ نرگس کا کردار خاص طور پر قابل تعریف ہے کیونکہ اس میں ایک عام عورت کی تمام خوبیاں اور کمزوریاں موجود ہیں۔ دوسرے کردار بھی اپنی اپنی جگہ اہم ہیں اور ناول کی کامیابی میں ان کا بڑا حصہ ہے۔ سلمیٰ، علی، احمد، اور عائشہ سب مل کر ناول کو مکمل کرتے ہیں۔
یہ ناول نہ صرف ایک دلچسپ کہانی ہے بلکہ معاشرے کی حقیقتوں کا آئینہ بھی ہے۔ کردار نگاری کے فن میں فرخندہ لودھی نے مہارت کا مظاہرہ کیا ہے اور ثابت کیا ہے کہ وہ ایک باکمال ادیب ہیں۔ ان کے کردار ہمیشہ قارئین کے ذہنوں میں زندہ رہیں گے۔ جنت کی تلاش کی کردار نگاری سے یہ سبق ملتا ہے کہ کامیاب ناول وہ ہوتا ہے جس کے کردار قاری کے دل میں اتر جائیں۔ رحیم گل نے یہ کام بہت خوبصورتی سے کیا ہے۔ ان کے کردار صرف کاغذ پر نہیں بلکہ قاری کے دل میں زندہ ہیں۔
یہ ناول اردو ادب میں ایک اہم اضافہ ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے کردار نگاری کی ایک بہترین مثال ہے۔ رحیم گل نے ثابت کیا ہے کہ مضبوط کردار ہی کسی ناول کی جان ہوتے ہیں اور اچھی کردار نگاری ہی ناول کو لافانی بناتی ہے۔