برطانیہ میں دو پاکستانی نوجوانوں کے قتل کیس: ٹک ٹاکر مہک بخاری کی سزا میں نمایاں کمی

ویب ڈیسک: برطانیہ کی اپیل کورٹ نے فروری 2022 کے ایک دل دہلا دینے والے قتل کیس میں ملوث پاکستانی نژاد ٹک ٹاکر مہک بخاری کی سزا میں اہم کمی کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ برطانوی عدالتی نظام کی انسانی جہتوں کو اجاگر کرتا ہے، جہاں ملزم کی عمر اور ذہنی حالت کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ ابتدائی طور پر 31 سال اور 8 ماہ کی قید کی سزا پانے والی مہک بخاری کو اب کم از کم 26 سال اور 285 دن کی قید کا حکم دیا گیا ہے، جو مجموعی طور پر تقریباً 27 سال بنتا ہے۔ یہ کیس برطانوی پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک گہرا سماجی سبق ہے، جو خاندانی رازوں اور جذباتی فیصلوں کی تباہ کن نوعیت کو واضح کرتا ہے۔

مقدمے کا پس منظر: ایک منصوبہ بند قتل کی داستان

فروری 2022 میں برطانیہ کے شہر لیسٹر کے قریب ایک ہائی ویز پر پیش آیا یہ واقعہ ایک عام کار حادثے کی بجائے ایک خوفناک سازش کا نتیجہ ثابت ہوا۔ رپورٹس کے مطابق، 21 سالہ سعقِب حسین اور محمد ہاشم اِجاز الدین، جو دونوں پاکستانی نژاد نوجوان تھے، ایک کار چیش کا شکار ہوئے۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ حادثہ لگا، مگر پولیس کی گہری تفتیش سے سامنے آیا کہ یہ قتل مہک بخاری اور ان کی والدہ انصیہ بخاری کی طرف سے منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔

  • واقعے کی تفصیلات: مہک بخاری (اس وقت 21 سالہ) اور ان کی والدہ نے ایک قریبی شخص کے ساتھ مل کر متاثرین کی کار کا پیچھا کیا۔ مقصد انصیہ بخاری کے خفیہ معاشقے کو عالمی سطح پر افشا ہونے سے روکنا تھا، جو سعقِب حسین کے پاس ویڈیو شواہد کی صورت میں موجود تھا۔
  • سماجی پس منظر: مہک بخاری، جو ٹک ٹاک پر 40 ہزار سے زائد فالوورز رکھنے والی انفلوئنسر تھیں، اس کیس نے سوشل میڈیا کی دنیا کو بھی ہلا دیا۔ یہ واقعہ برطانوی پاکستانی کمیونٹی میں خاندانی رازوں کی سنگینی کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ کیس برطانیہ قتل کیس مہک بخاری کے طور پر عالمی میڈیا میں مشہور ہو گیا، جہاں دو نوجوان قتل کیس برطانیہ مہک بخاری کی تلاش میں ہزاروں سرچز ریکارڈ ہوئیں۔

عدالت کا ابتدائی فیصلہ: سخت سزائیں اور انصاف کی تلاش

2023 میں Leicester Crown Court نے اس مقدمے کا فیصلہ سنایا، جو برطانوی عدالتی تاریخ میں ایک اہم مثال بنا۔ عدالت نے مہک بخاری کو لائف imprisمنٹ کی سزا سنائی، جس کا کم از کم عرصہ 31 سال اور 8 ماہ مقرر کیا گیا۔ ان کی والدہ انصیہ بخاری کو بھی لائف imprisمنٹ ملی، مگر کم از کم 26 سال اور 9 ماہ کی قید کا حکم دیا گیا۔

  • فیصلے کی بنیاد: عدالت نے شواہد کی بنیاد پر یہ طے کیا کہ دونوں ملزمان نے دانستہ طور پر کار چیش کا اہتمام کیا، جو ایک غیر اخلاقی تعلق کو چھپانے کی کوشش تھی۔ یہ اقدام جان بوجھ کر جان لیوا ثابت ہوا۔
  • قانونی ماہرین کی رائے: برطانوی وکلاء کے مطابق، ایسے کیسز میں ہomicide laws کے تحت minimum tariff کا تعین جرم کی شدت پر ہوتا ہے، جو یہاں double murder کی وجہ سے سخت تھا۔

سزا میں کمی کی وجوہات: انسانی عناصر کا کردار

تازہ ترین اپیل کورٹ کے فیصلے (اکتوبر 2025) نے مہک بخاری سزا میں کمی کو ممکن بنایا۔ عدالت نے مہک بخاری ٹک ٹاکر کیس کی اپیل میں پیش کردہ دلائل کو قبول کرتے ہوئے سزا کو 26 سال اور 285 دن تک کم کر دیا۔

  • اہم عوامل:
    • عمر اور نابالغی: مہک بخاری اس وقت صرف 21 سال کی تھیں، جو Court of Appeal نے "wholly disproportionate” قرار دیا۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ UK sentencing guidelines میں youth کو mitigating factor سمجھا جاتا ہے۔
    • ندامت اور نفسیاتی حالت: ملزمہ نے ندامت کا اظہار کیا، اور شواہد سے ثابت ہوا کہ جذبات اور دباؤ نے فیصلہ سازی متاثر کی۔
    • تازہ اعداد و شمار: BBC کی رپورٹ کے مطابق، UK میں 2024-2025 میں 15% اپیلز میں سزا میں کمی دیکھی گئی، خاص طور پر youth offenders میں۔

یہ فیصلہ پاکستانی نژاد ٹک ٹاکر مہک بخاری برطانیہ کی تلاش کو مزید بڑھا رہا ہے، جہاں مہک بخاری والدہ انصیہ بخاری قتل مقدمہ جیسے LSI keywords سرفہرست ہیں۔

مہک بخاری کا مؤقف: افسوس اور اپیل کی داستان

سماعت کے دوران مہک بخاری نے عدالت سے رحم کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا، "میں اپنے عمل پر گہرے افسوس کا شکار ہوں۔ یہ ایک غلط فیصلہ تھا جو جذبات کے غلبے میں لیا گیا، مقصد کسی کی جان لینا بالکل نہیں تھا۔” ان کی اپیل میں نفسیاتی رپورٹس پیش کی گئیں، جو دکھاتی تھیں کہ خاندانی دباؤ نے ان کی ذہنی حالت کو متاثر کیا۔

یہ بیان مہک بخاری عمر قید کم ہوئی کی سرچز میں مرکزی ہے، جو صارفین کو جذباتی سطح پر جوڑتا ہے۔

متاثرہ خاندانوں کا ردعمل: انصاف کی ادھور پن کی آواز

دوسری طرف، مقتولین کے اہل خانہ نے اس فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ سعقِب حسین کے والد نے میڈیا سے کہا، "ہم نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا نقصان برداشت کیا، اور اب سزا میں کمی سے انصاف ادھورا لگتا ہے۔” خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ یہ فیصلہ victims’ rights کو نظر انداز کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کرکٹ ٹیم چھاتی کے سرطان سے آگاہی مہم کے تحت گلابی کٹ میں میدان میں اُترے گی

  • حقائق: ITV News کی رپورٹ کے مطابق، متاثرین کے خاندان اب مزید قانونی چیلنجز پر غور کر رہے ہیں، جو UK میں 20% murder cases میں دیکھا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر ردعمل: بحث اور سبق

سزا میں کمی کے بعد ٹک ٹاکر قتل مقدمہ برطانیہ جیسے ٹرینڈز سوشل میڈیا پر چھا گئے۔ صارفین کی رائے تقسیم ہے:

  • کئی نے عدالت کے انسانی پہلوؤں کی تعریف کی، جبکہ دوسرے نے انصاف کی کمی پر تنقید کی۔
  • پاکستانی صارفین نے لکھا کہ یہ واقعہ نئی نسل کو سکھاتا ہے کہ سوشل میڈیا کی شہرت خاندانی اقدار پر حاوی نہ ہو۔

Dawn News اور ARY News کی رپورٹس (مہک بخاری سزا 31 برس 8 ماہ Dawn News+2 urdu.arynews.tv+2) سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بحث 50 ہزار سے زائد انٹرایکشنز حاصل کر چکی ہے۔

مستقبل کا لائحہ عمل: بحالی اور سبق

قانونی ماہرین کے مطابق، مہک بخاری اب بھی 27 سال جیل میں گزاریں گی، مگر اچھی کارکردگی اور rehabilitation programs سے مزید رعایت مل سکتی ہے۔ UK parole board 2024 میں 30% cases میں early release منظور کرتا ہے۔

  • عمل درآمد کے اقدامات:
    1. جیل میں نفسیاتی علاج اور کونسلنگ میں شرکت۔
    2. کمیونٹی سروس اور تعلیم کے پروگرامز۔
    3. قانونی اپیلز کا تسلسل، اگر نئی شواہد سامنے آئیں۔

یہ کیس برطانوی پاکستانی کمیونٹی کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ خفیہ تعلقات غلط فیصلوں کو جنم دیتے ہیں۔

FAQs: عام سوالات کے جوابات

مہک بخاری کی نئی سزا کیا ہے؟

26 سال اور 285 دن کی کم از کم قید، جو 31 سال 8 ماہ سے کم ہے۔

کیا انصیہ بخاری کی سزا میں بھی کمی ہوئی؟

نہیں، ان کی سزا میں ابھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

یہ کیس کیوں مشہور ہوا؟

ٹک ٹاک انفلوئنسر کی شمولیت اور خاندانی راز کی وجہ سے عالمی توجہ حاصل کی۔

نتیجہ: ایک سماجی المیہ اور عدالتی توازن

مہک بخاری کیس نہ صرف ایک قانونی مقدمہ ہے بلکہ سماجی سبق بھی، جو جذباتی دباؤ اور خاندانی رازوں کی تباہ کاری کو واضح کرتا ہے۔ برطانوی عدالتی نظام کا یہ فیصلہ انسانی عناصر کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی تلاش کو مضبوط بناتا ہے، مگر متاثرین کی آواز بھی اہم ہے۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں! بائیں طرف فلوٹنگ WhatsApp بٹن پر کلک کریں – روزانہ بریکنگ نیوز، تجزیے اور ایکسکلوسیو انسائٹس آپ کی نوٹیفکیشن میں ملیں گی۔ ابھی جوائن کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں!

کیا آپ کا خیال ہے کہ سزا میں کمی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے دیں اور اس آرٹیکل کو شیئر کریں تاکہ مزید لوگ اس سبق سے مستفید ہوں۔ متعلقہ مضامین کے لیے سائٹ ایکسپلور کریں۔

Disclaimer: This information is based on public reports. Verify with official sources before any action.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے