نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ایک اہم کارروائی میں لاہور کے ایچرا ایریا کے رہائشی اسیم محمد قاسم کو اسلام آباد سے گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گرفتاری ایک بین الاقوامی بچوں کے استحصال کے نیٹ ورک کی تحقیقات کا نتیجہ ہے، جس میں آسٹریلوی حکام کی مدد حاصل کی گئی۔ ملزم نے تفتیش کے دوران سات نابالغ لڑکیوں، جن میں اس کے قریبی رشتہ دار شامل ہیں، کے جنسی استحصال کا اعتراف کیا اور ان ویڈیوز کو ڈارک ویب پر بیچنے کا انکشاف کیا۔ یہ جرائم 2008 سے 2022 تک جاری رہے، جن میں 50 سے زائد ویڈیوز کی تیاری اور تقسیم شامل ہے۔
اس واقعہ نے لاہور کرائم نیوز اپ ڈیٹ کو نئی جہت دی ہے، جہاں ڈیجیٹل ثبوتوں کی بازیابی نے کیس کو مضبوط بنایا۔ NCCIA کے مطابق، ملزم نے واٹس ایپ، ٹیلی گرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے مواد تقسیم کیا۔ یہ گرفتاری لاہور پولیس کیس رپورٹ کا حصہ ہے اور پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو اجاگر کرتی ہے۔
تفتیش کی تفصیلات اور ڈیجیٹل ثبوتوں کی بازیابی
تفتیش تقریباً ایک سال سے جاری تھی، جو سنگاپور میں ایک ویڈیو کی نشاندہی سے شروع ہوئی۔ NCCIA نے ملزم کے موبائل فون، ہارڈ ڈرائیو اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھاری ڈیجیٹل ثبوت برآمد کیے۔ ان میں خاندان کی دو نابالغ لڑکیوں کے خلاف جرائم کی تفصیلات شامل تھیں۔
- ملزم نے 14 سال سے زائد عرصے تک جرائم کیے، جن میں خاندان کے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔
- 50 سے زائد ویڈیوز کی تیاری، جنہیں آن لائن کرائم لاہور کے نیٹ ورکس کے ذریعے بیچا گیا۔
- ڈارک ویب پر فروخت، جو بچوں کے خلاف جرائم پاکستان میں ایک بڑا چیلنج ہے۔
یہ ڈیجیٹل ایویڈنس انویسٹی گیشن نے کیس کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے میں مدد دی۔ لاہور بریکنگ نیوز کے مطابق، مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
بین الاقوامی روابط اور نیٹ ورک کی تفصیلات
تحقیقات سے پتہ چلا کہ اسیم محمد قاسم برازیل کی "ساسی” اور پرتگال کی "ٹونکل” جیسے غیر ملکی ساتھیوں سے جڑا ہوا تھا۔ عالمی گروپس جیسے "رینبو” اور "مائی لو ڈولی کان” کے ساتھ روابط بھی سامنے آئے، جو دنیا بھر میں غیر فحش مواد شیئر کرتے تھے۔
سنگاپور، آسٹریليا، پرتگال اور برازیل کی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کیا۔ یہ پاکستانی لاء انفورسمنٹ ایکشن کا ایک کامیاب مثال ہے، جو آن لائن کرائم لاہور کو روکنے میں مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔
پاکستان میں بچوں کی حفاظت کے قوانین اور 2025 کی اپ ڈیٹس
پاکستان میں بچوں کی حفاظت کے قوانین کو مضبوط بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ 2025 میں اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ نافذ ہوا، جو بچوں کی شادیوں پر پابندی لگاتا ہے۔ نیشنل کمیشن فار چائلڈ ویلفیئر اینڈ ڈویلپمنٹ (NCCWD) نے جسمانی تشدد، جنسی استحصال اور بچوں کی محنت کے خلاف قوانین کو اپ ڈیٹ کیا۔
یونیسف پاکستان کے مطابق، بچوں کی حفاظت کے لیے چائلڈ پروٹیکشن لاز ان پاکستان کو مزید نافذ کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر خیبر پختونخوا میں جہاں قانونی رکاوٹیں بڑھ رہی ہیں۔ 2025 میں ٹیکسٹائل سیکٹر میں چائلڈ لیبر کے خلاف چائلڈ رائٹس ایکشن ہب بھی لانچ ہوا۔
ان قوانین کا مقصد بچوں کی حفاظت آگاہی پاکستان کو بڑھانا ہے، جو جرائم کے خلاف پاکستان میں ایک اہم قدم ہے۔
بچوں کے خلاف جرائم کے اعداد و شمار: ایک تشویشناک رجحان
2024 میں پاکستان بھر میں 3350 سے زائد بچوں کے استحصال کی رپورٹس سامنے آئیں، جن میں جنسی استحصال، اغوا اور بچوں کی شادیاں شامل ہیں – یعنی روزانہ 9 کیسز۔ ایک رپورٹ کے مطابق، 7608 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ سزاؤں کی شرح 1 فیصد سے کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں سٹری کتوں کو مارنے والوں کو اب جیل کی سزا مل سکتی ہے
پاکستان آن لائن چائلڈ سیکسچوئل ابیوز میٹریل کی رپورٹنگ میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ کی 2024 رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ اسٹیٹ آف چلڈرن ان پاکستان میں تشدد کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کرائم پریوینشن کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
بچوں کی حفاظت کے لیے عملی تجاویز: والدین اور کمیونٹی کے لیے گائیڈ
بچوں کی حفاظت آگاہی پاکستان کو بڑھانے کے لیے، یہاں کچھ قدم بہ قدم تجاویز ہیں جو ڈیجیٹل دنیا میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:
- آن لائن سرگرمی کی نگرانی کریں: بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس چیک کریں اور پرائیویسی سیٹنگز فعال رکھیں۔
- نشانیوں کی پہچان: اچانک خاموشی، ڈر یا رویے میں تبدیلی کو نوٹ کریں اور فوری رپورٹ کریں۔
- تعلیم اور بات چیت: بچوں کو اچھے اور برے رابطوں کی پہچان سکھائیں، خاص طور پر خاندانی ماحول میں۔
- ہیلپ لائنز استعمال کریں: NCCIA یا UNICEF کی ہاٹ لائنز پر رپورٹ کریں؛ 2025 میں نئی ایپس دستیاب ہیں۔
- کمیونٹی پروگرامز: مقامی سطح پر آگاہی سیشنز میں حصہ لیں تاکہ جرائم کی روک تھام ہو سکے۔
یہ تجاویز پاکستانی کرمنل جسٹس سسٹم کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور لاہور لیگل پروسیڈنگز کو سپورٹ کرتی ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
ڈارک ویب کیا ہے؟
یہ انٹرنیٹ کا پوشیدہ حصہ ہے جہاں غیر قانونی مواد شیئر ہوتا ہے؛ اسے روکنے کے لیے NCCIA کام کر رہی ہے۔
بچوں کے خلاف جرائم کیسے رپورٹ کریں؟
قریبی پولیس سٹیشن یا سائبر کرائم ہیلپ لائن 1991 پر کال کریں۔
پاکستان میں سزائیں کیا ہیں؟
جنسی استحصال پر 10 سال قید اور جرمانہ؛ 2025 اپ ڈیٹس میں سختی بڑھی ہے۔
والدین کیا کر سکتے ہیں؟
باقاعدہ چیک اپ اور تعلیم؛ مزید معلومات کے لیے UNICEF ویب سائٹ دیکھیں۔
یہ FAQs صارفین کی انٹینٹ کو پورا کرتے ہیں اور ٹائم آن سائٹ بڑھاتے ہیں۔
پول: پاکستان میں بچوں کی حفاظت کا سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟
A) قانونی نافذکاری B) آگاہی کی کمی C) ٹیکنالوجی کا غلط استعمال (اپنا ووٹ کمنٹ میں دیں!)
اختتام: ایک محفوظ مستقبل کی طرف
یہ گرفتاری لاہور اَریسٹ نیوز کا ایک اہم موڑ ہے، جو سائبر کرائم انویسٹی گیشن لاہور کی کامیابی کو ظاہر کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بریک تھرو دیگر عالمی رِنگز کو توڑنے میں مدد دے گا۔ بچوں کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے – آئیے مل کر پاکستان کرائم پریوینشن کو مضبوط بنائیں۔
کال ٹو ایکشن: آپ کے خیالات کیا ہیں؟ کمنٹ سیکشن میں شیئر کریں اور اس آرٹیکل کو سوشل میڈیا پر پھیلائیں تاکہ مزید لوگ آگاہ ہوں۔ تازہ ترین لاہور کرائم نیوز اپ ڈیٹس اور بریکنگ نیوز کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں – ہر روز الرٹس اور خصوصی انسائٹس ملنے کی ضمانت! جوائن کرنے کے لیے لنک پر کلک کریں: [واٹس ایپ جوائن] (بائیں طرف فلوٹنگ بٹن، نوٹیفکیشن پاپ اپ کے ساتھ – ابھی جوائن کریں اور اپنے خاندان کو محفوظ بنائیں!)۔
Disclaimer: The provided information is published through public reports.