گلگت بلتستان کے محکمہ تعلیم نے حال ہی میں ایک اہم نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس میں نجی تعلیمی اداروں کو اپنے اساتذہ کو کم از کم 37 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ صوبائی بجٹ میں بھی شامل تھا اور اس کا مقصد اساتذہ کے استحصال کو روکنا ہے۔ تاہم، سکردو میں یہ نوٹیفکیشن ایک تنازع کا باعث بن گیا ہے، جہاں نجی سکول مالکان نے اس کی مخالفت کی ہے۔
سکردو کی پرسکون فضا میں پہلا ارتعاش اس وقت پیدا ہوا جب دکانداروں نے قابض فٹ پاتھوں اور تجاوزات کو خود گرانا شروع کیا۔ عوام نے اسے مفاد عامہ کا کام قرار دیا۔ اسی طرح، برگے نالے میں ہر سال سیلاب آتا ہے جو کھیتوں اور مکانات کو نقصان پہنچاتا ہے، کیونکہ نالے کی قدرتی گزرگاہ تنگ کر دی گئی ہے۔ بلدیاتی انتخابات 2009 سے 2025 تک نہ ہونے کی وجہ سے نگرانی کا کام متاثر ہوا ہے۔
اب سکردو ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ٹاؤن پلاننگ مکمل کر لی ہے، مگر فائلیں منظوری کے لیے پھنسی ہوئی ہیں۔
تعلیم کیا ہے اور پاکستان میں اس کی حیثیت
تعلیم ایک بنیادی حق ہے جو معاشرے کی ترقی کا ضامن ہے۔ پاکستان کے آئین کے مطابق، بنیادی تعلیم حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تاہم، گلگت بلتستان میں سرکاری سکولوں کا معیار ناقص ہے، جس کی وجہ سے والدین نجی سکولوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ناراض بیوی کو منانے کا اسلامی وظیفہ: محبت و ہم آہنگی کے روحانی طریقے
گلگت بلتستان میں 6 سے 16 سال کے بچوں کی انرولمنٹ شرح بلند ہے، مگر 2021 کے بعد طلبہ سرکاری سے نجی سکولوں کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ یہ رجحان سرکاری نظام پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
تعلیم میں رکاوٹیں: بچوں تک رسائی کیوں محدود ہے؟
پاکستان میں لاکھوں بچے سکول سے باہر ہیں۔ گلگت بلتستان میں، جغرافیائی مسائل، ناقص انفراسٹرکچر، اور غربت بڑی رکاوٹیں ہیں۔
- معیاری تعلیم کی عدم دستیابی: سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی کمی اور ناقص سہولیات۔
- طبقاتی تقسیم: انگریزی میڈیم سکول اشرافیہ کے لیے، جبکہ اردو میڈیم نچلے طبقے کے لیے۔
- معاشی مسائل: والدین محدود وسائل کے باوجود نجی سکولوں کا انتخاب کرتے ہیں۔
تعلیم کاروبار کیوں بن رہی ہے؟
نجی سکول تیزی سے منافع بخش کاروبار بن چکے ہیں۔ سکردو میں، ضلعی انتظامیہ کے نوٹیفکیشن کے خلاف نجی مالکان نے مذہبی تنظیم کے ذریعے مزاحمت کی۔ وہ کہتے ہیں کہ تنخواہیں بڑھانے سے فیسیں بڑھیں گی، جو "قوم کا نقصان” ہے۔ تاہم، یہ دلیل کمزور ہے کیونکہ ادارے پہلے ہی اضافی فیسوں سے منافع کما رہے ہیں۔
گلگت بلتستان میں، نجی سکولوں نے تعلیمی شرح میں اضافہ کیا، مگر یہ اساتذہ کی کم تنخواہوں پر مبنی ہے۔ 2025 میں، حکومت نے نجی اداروں کو 37 ہزار روپے کم از کم اجرت کی ہدایت دی، مگر عملدرآمد میں مسائل ہیں۔
طلبہ کی وجہ سے چلنے والے کاروبار: ٹرانسپورٹ اور ہوٹلز
تعلیم صرف سکولوں تک محدود نہیں۔ طلبہ سکول جاتے ہیں تو ٹرانسپورٹ کمپنیاں چلتی ہیں، ہوٹلز اور دکانیں منافع کماتی ہیں۔ گلگت بلتستان میں، سیاحتی مقامات پر سکول ٹرپس سے مقامی معیشت کو فائدہ ہوتا ہے۔ تاہم، یہ سب تعلیم کی تجارتی کاری کو مزید فروغ دیتا ہے۔
- ٹرانسپورٹ: طلبہ سے بسوں کا کرایہ۔
- ہوٹلز: سکول کے قریب کینٹین اور ریستوران۔
- دیگر: کتابیں، یونیفارم، اور سٹیشنری کا کاروبار۔
حقیقی مثالیں اور کیس اسٹڈیز
گلگت بلتستان میں، 8ویں کلاس کے نتائج صرف 40% پاس ریٹ دکھاتے ہیں، جو تعلیمی بحران کو اجاگر کرتے ہیں۔ مئی 2025 میں، سرکاری اساتذہ نے پروموشن کے لیے احتجاج کیا، جس سے کلاسز بند رہیں۔
عملی اقدامات: تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے ٹپس
- حکومت کے لیے: بلدیاتی انتخابات کرائیں اور ٹاؤن پلاننگ کو نافذ کریں۔
- والدین کے لیے: سکولوں کی آمدنی کا جائزہ لیں اور استحصال کی شکایت کریں۔
- اساتذہ کے لیے: یونینز بنائیں اور حقوق کی آواز اٹھائیں۔
FAQs
سوال: گلگت بلتستان میں انرولمنٹ شرح کتنی ہے؟
جواب: بلند ہے مگر معیار کم ہے۔
سوال: کم از کم تنخواہ کتنی ہے؟
جواب: 37 ہزار روپے ماہانہ۔
سوال: تعلیم کاروبار کیوں ہے؟
جواب: منافع کی ہوس اور سرکاری ناکامی کی وجہ سے۔
آپ کا خیال کیا ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ نجی سکولوں کو کم از کم تنخواہ نافذ کرنی چاہیے؟
- ہاں، اساتذہ کے حقوق ضروری ہیں۔
- نہیں، فیسیں بڑھ جائیں گی۔
- نہیں معلوم۔
اپنے جواب کمنٹس میں شیئر کریں!
اگر تعلیم کو کاروبار سمجھا جاتا رہے گا، تو معاشرہ نہیں سنور سکے گا۔ اب وقت ہے عملی اقدامات کا۔ کمنٹ کریں، شیئر کریں، اور ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں لنک کے ذریعے۔ نوٹیفکیشن آن کریں تازہ خبروں کے لیے۔