پنجاب حکومت نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے لیے ایک نئی لگژری طیارہ خریدنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ طیارہ گلف اسٹریم جی 500 (Gulfstream G500) ماڈل کا ہے جس کی قیمت تقریباً 10 ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔ طیارے کا رجسٹریشن نمبر N144S ہے جو فی الحال امریکی رجسٹریشن پر ہے اور پاکستان میں ابھی رجسٹرڈ نہیں ہوا۔
یہ طیارہ وی آئی پی پروٹوکول کے لیے استعمال ہو رہا ہے اور اس کی پروازیں لاہور سے ملتان، کوئٹہ، سیالکوٹ اور راولپنڈی تک ہو چکی ہیں۔ یہ خریداری پنجاب حکومت کے فضائی سفر انتظامات کو بہتر بنانے کی کوششوں کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔
حکومتی موقف
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وضاحت کی کہ یہ طیارہ "ائیر پنجاب” کے منصوبے کے تحت فلیٹ بنانے کا حصہ ہے۔ اس فلیٹ میں مختلف اقسام کے جہاز شامل کیے جائیں گے جن میں سے کچھ خریدے جائیں گے اور کچھ لیز پر لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اور جلد ہی تمام معاملات مکمل ہونے پر تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ بعض لوگ ادھوری باتوں سے سیاسی بیان بازی کر رہے ہیں۔ اگر ٹیکس چوریوں جیسے معاملات پر مکمل بحث کی جائے تو اسے سیاسی انتقام قرار دیا جاتا ہے۔
عوامی اور سوشل میڈیا ردعمل
اس خبر کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تنقید سامنے آئی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ معاشی مشکلات اور مہنگائی کے دور میں عوام کے پیسوں سے 10 ارب روپے کا لگژری طیارہ خریدنا مناسب نہیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ سرکاری اخراجات میں مالی شفافیت لازمی ہے اور پبلک فنڈز کو ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے۔
یہ بحث پاکستان کی سیاست میں وی آئی پی سہولیات اور حکومتی خریداریوں پر اکثر اٹھتی رہتی ہے۔
طیارے کی تفصیلات
گلف اسٹریم جی 500 ایک جدید لانگ رینج بزنس جیٹ ہے جو اعلیٰ سطح کے سفر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کی بین الاقوامی قیمت تقریباً 38 سے 42 ملین امریکی ڈالر ہوتی ہے جو پاکستانی روپوں میں 10 سے 11 ارب کے قریب بنتی ہے۔ یہ طیارہ تیز رفتار، آرام دہ سیٹنگ اور لمبی پروازوں کے لیے جانا جاتا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ قدم صوبائی سطح پر فضائی سہولیات کو مضبوط کرنے اور مستقبل میں ائیر پنجاب کے ذریعے عام لوگوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان عدالتوں سے سزا یافتہ مجرم ہیں، انہیں رعایت دینے کی خبریں بے بنیاد ہیں: عطا تارڑ
متعلقہ سوالات
کیا یہ طیارہ صرف وزیراعلیٰ کے لیے ہے؟
حکومتی موقف کے مطابق نہیں، یہ ائیر پنجاب فلیٹ کا حصہ ہے۔
قیمت کی تصدیق ممکن ہے؟
مارکیٹ ریٹ کے مطابق 10 ارب روپے کے قریب درست لگتی ہے۔
اپوزیشن کا ردعمل کیا رہا؟
ٹیکس دہندگان کے پیسوں کے استعمال پر شدید تنقید۔
نتیجہ
یہ فیصلہ پنجاب حکومت کے حکومتی بجٹ اور ترجیحات کو ظاہر کرتا ہے۔ جبکہ حکومت اسے صوبائی ترقی اور خودمختاری کا حصہ قرار دے رہی ہے، ناقدین اسے غیر ضروری اخراجات قرار دے رہے ہیں۔
اس خبر پر آپ کیا سوچتے ہیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں، مضمون شیئر کریں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں۔ بائیں جانب موجود فلوٹنگ بٹن پر کلک کرکے ابھی جوائن ہو جائیں تاکہ اہم خبروں کی فوری اطلاع ملتی رہے۔
یہ معلومات عوامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ براہ مہربانی کسی بھی قدم سے پہلے تمام تفصیلات کی تصدیق کر لیں۔