وزیراعظم کا مسجد خدیجۃ الکبریٰ کے شہدا کے ورثا کو 50 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان

وزیراعظم

وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع مسجد خدیجۃ الکبریٰ کا دورہ کیا۔ یہ دورہ 6 فروری 2026 کو نماز جمعہ کے دوران پیش آنے والے خودکش دہشت گرد حملے کے متاثرین سے ملاقات اور ان کے دکھ میں شریک ہونے کے لیے کیا گیا۔ وزیراعظم نے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیا اور اس وحشیانہ واقعے کی شدید مذمت کی۔

وزیراعظم کی مذمت اور قومی اتحاد کا پیغام

وزیراعظم نے فرمایا کہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ پر حملہ بدترین بربریت کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ واقعہ نفرت اور تفریق پھیلانے کی ناکام سازش تھا جسے قوم نے متحد ہو کر ناکام بنا دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایک صف میں کھڑا ہے اور کوئی بھی سازش قومی یکجہتی کو کمزور نہیں کر سکتی۔

متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان

وزیراعظم نے شہدا اور زخمیوں کے لیے فوری مالی امداد کا پیکج جاری کیا:

  • شہدا کے ورثا کو 50 لاکھ روپے فی کس
  • شدید زخمیوں کو 30 لاکھ روپے فی کس
  • معمولی زخمیوں کو 10 لاکھ روپے فی کس

یہ رقم حکومت پاکستان کی جانب سے جلد از جلد متاثرہ خاندانوں تک پہنچائی جائے گی۔

عون عباس شہید کی بہادری کی خراج تحسین

وزیراعظم نے خودکش حملہ آور کو روکنے والے 24 سالہ نوجوان عون عباس کے گھر جا کر ان کی بہادری کی تعریف کی۔ عون عباس نے نماز کی حالت میں خطرہ بھانپ کر حملہ آور سے لپٹ کر اسے نمازیوں کے درمیان جانے سے روکا۔ اس بہادری کی بدولت ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں جانیں بچ گئیں۔ وزیراعظم نے ان کی قربانی کو قوم کے لیے روشن مثال قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : ہماری پارٹی میں عمران خان کے بعد ہرکوئی کہتا ہے وہ لیڈر ہے، جنید اکبر

واقعے کا مختصر پس منظر

6 فروری 2026 کو نماز جمعہ کے دوران خودکش حملہ آور نے مسجد کے داخلی دروازے پر فائرنگ کی اور پھر دھماکہ کیا۔ اس سانحے میں 30 سے زائد افراد شہید اور تقریباً 170 زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا۔

عمومی سوالات (FAQs)

سوال 1: مسجد خدیجۃ الکبریٰ حملے میں کتنے افراد شہید ہوئے؟

جواب: ابتدائی اطلاعات کے مطابق 30 سے زائد افراد شہید اور 170 کے قریب زخمی ہوئے۔

سوال 2: شہدا کے ورثا کو کتنی امداد ملے گی؟

جواب: 50 لاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔

سوال 3: عون عباس شہید نے کیا کارنامہ انجام دیا؟

جواب: انہوں نے حملہ آور سے لپٹ کر اسے روکا اور ممکنہ بڑے جانی نقصان کو روکا۔

سوال 4: یہ امداد کب تک متاثرین تک پہنچے گی؟

جواب: حکومت نے فوری ادائیگی کا وعدہ کیا ہے اور عمل جلد شروع ہو جائے گا۔

اپنے خیالات کمنٹس میں شیئر کریں اور خبر کو آگے پھیلائیں۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں – ابھی لنک پر کلک کریں اور نوٹیفیکیشنز آن کریں!

ڈس کلیمر: The provided information is published through public reports. Please confirm all discussed details from official sources before taking any steps.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے