خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے واضح موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا ہے۔ ہر ایک نے صوبے کو تجربہ گاہ بنایا، جس کے نتیجے میں بے امنی پیدا ہوئی، لیکن اب صوبے کو مزید تجربہ گاہ نہیں بننے دیں گے۔
وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ پختونخوا میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ تعلیم، صحت، اسپورٹس اور دیگر شعبوں میں صلاحیتوں سے بھرپور نوجوان موجود ہیں۔ اصل مسئلہ مواقع کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سوچتا ہے کہ ڈرا دھمکا کر بند کمروں کے فیصلے منوا لے گا تو یہ اس کی بھول ہے۔ آواز اٹھانا جنازے اٹھانے سے بہتر ہے۔ ہم ناکام پالیسیوں کا حصہ نہیں بنیں گے۔
وزیراعلیٰ کا امن و امان پر زور
سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں امن و امان کو صوبے کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امن قائم ہوگا تو ترقی کا راستہ کھلے گا۔ پاکستان میں اداروں کی آپس میں دخل اندازی معاشی استحکام میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی وجہ سے صنعت کار ملک چھوڑ رہے ہیں اور بہترین دماغ بیرون ملک جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ہمیشہ امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔ بعض لوگ نہیں چاہتے کہ صوبہ ترقی کرے۔ وفاق نے صوبے کے چار ہزار ارب روپے سے زیادہ روک رکھے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ عوام کی مدد سے یہ رقم وفاق سے وصول کی جائے گی۔
نوجوانوں کے لیے اقدامات اور ترقی کی راہ
وزیراعلیٰ نے جامعات میں بے روزگاروں کی کھیپ تیار ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے نوجوان روزگار کے بغیر نہ رہیں۔ صوبے کے مفاد کے لیے ہر کسی کے ساتھ بیٹھیں گے، چاہے کوئی کتنا ہی ناپسند ہو۔
خیبر پختونخوا کو ترقی کی طرف لے جانے کے لیے چند اہم اقدامات:
- امن و امان کی بحالی کے لیے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں اضافہ
- نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے ووکیشنل ٹریننگ اور جدید ٹیکنالوجی پروگرام
- وفاق سے روکے گئے فنڈز کی قانونی اور سیاسی جدوجہد سے وصولی
- تعلیم اور صحت کے شعبوں میں مواقع بڑھانا
- صنعت کاروں کو واپس لانے اور معاشی استحکام کے لیے پالیسیاں
یہ اقدامات صوبے کو تجربہ گاہ سے ترقی کی منزل تک لے جائیں گے۔
پول
کیا وزیراعلیٰ کا وفاق سے فنڈز وصول کرنے کا اعلان صوبائی ترقی کے لیے اہم قدم ہے؟
- ہاں، بالکل ضروری ہے
- جزوی طور پر فائدہ مند ہوگا
- نہیں، دیگر مسائل زیادہ اہمیت رکھتے ہیں
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔
یہ بھی پڑھیں: کن شرائط پر بشریٰ بی بی کو اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت ملی؟
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
خیبر پختونخوا کو تجربہ گاہ کیوں کہا جاتا ہے؟
ماضی میں مختلف پالیسیوں اور تجربات کی وجہ سے بے امنی پیدا ہوئی، اب وزیراعلیٰ اسے روکنے کا پختہ عزم رکھتے ہیں۔
وفاق نے کتنے روپے روک رکھے ہیں؟
وزیراعلیٰ کے مطابق چار ہزار ارب روپے سے زیادہ، جو صوبے کے حق میں واپس لیے جائیں گے۔
نوجوانوں کی بے روزگاری کا حل کیا ہے؟
تعلیم کو روزگار سے جوڑنا، ہنر مند بنانا اور صوبے میں مواقع پیدا کرنا۔
اس آرٹیکل کو شیئر کریں اور اپنے خیالات کمنٹس میں لکھیں۔ ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں تاکہ خیبر پختونخوا کی تازہ ترین خبروں، وزیراعلیٰ کے بیانات اور ترقیاتی اپ ڈیٹس فوری طور پر آپ تک پہنچیں۔ ابھی جوائن کریں اور صوبے کی بہتری کا حصہ بنیں!
Please confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.