پنجاب کی سینئر وزیر اطلاعات و نشریات اور ثقافت مریم اورنگزیب نے لاہور میں بسنت تہوار کی شاندار کامیابی کو پاکستان کی ثقافتی فتح قرار دیا ہے۔ اندرون لاہور کی تاریخی حویلی آصف جاہ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے بسنت کے انعقاد کے لیے مشکل فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کروایا۔ طویل وقفے کے بعد بسنت کی بحالی ہوئی اور یہ تہوار محفوظ، منظم اور پرجوش انداز میں منایا گیا۔ مریم اورنگزیب کا واضح موقف ہے کہ ثقافت اور کلچر پر تالے نہیں لگائے جاتے بلکہ انہیں مناسب طریقے سے مینج کیا جاتا ہے۔ لاہور کے اس تہوار نے اس بات کی زندہ مثال پیش کی۔
بسنت تہوار
بسنت پاکستان کی قدیم ترین ثقافتی روایات میں سے ایک ہے جو بہار کی آمد، فصلوں کی کٹائی اور خوشیوں کی علامت کے طور پر منایا جاتا رہا ہے۔ لاہور اس تہوار کا مرکز رہا جہاں آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا تھا۔ ماضی میں حفاظتی مسائل، خاص طور پر خطرناک ڈور کی وجہ سے ہونے والے حادثات نے اس پر پابندی لگوا دی تھی۔ اب حکومت نے جدید حفاظتی اقدامات کے ساتھ بسنت کی بحالی کی ہے جو پاکستانی ثقافتی ورثہ کی حفاظت اور ثقافتی آزادی کا روشن ثبوت ہے۔ مریم اورنگزیب نے اسے لاہور اور پورے پاکستان کی فتح قرار دیا کیونکہ تہوار نے نفرت اور تقسیم کی سیاست کو مسترد کر دیا۔
حکومت کے انتظامات اور اعداد و شمار
مریم اورنگزیب نے بسنت کے انعقاد کے دوران کیے گئے انتظامات کی تفصیلات بتائیں۔ حکومت نے فول پروف پلاننگ کی جس سے تہوار نہ صرف محفوظ رہا بلکہ ریکارڈ توڑ کامیابی حاصل کی۔ اہم اعداد و شمار یہ ہیں:
- 14 لاکھ موٹربائیکس پر سیفٹی راڈز لگائے گئے تاکہ ڈور سے گلے کٹنے والے واقعات مکمل طور پر روکے جا سکیں۔
- 512 بسوں سمیت سرکاری ٹرانسپورٹ پر مفت سروس دی گئی جس سے تین دن میں 20 لاکھ سے زائد شہریوں نے فائدہ اٹھایا۔
- لاہور میں 10 لاکھ گاڑیوں کی انٹری ریکارڈ کی گئی جو تہوار کی بے پناہ دلچسپی اور عوامی شرکت کو ظاہر کرتی ہے۔
ان اقدامات نے شہر میں ٹریفک مینجمنٹ، سیکیورٹی اور عوامی سہولیات کو بہتر بنایا۔
عوامی ردعمل اور معاشی فوائد
بسنت کی بحالی پر عوام کا ردعمل نہایت مثبت رہا۔ لاہور کی چھتیں پتنگوں سے سجیں، گلی محلوں میں بھنگڑا، موسیقی اور روایتی کھانوں کی محفلیں لگیں۔ تہوار نے ہوٹلز، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ اور خاص طور پر پتنگ سازی کی صنعت کو بہت فائدہ پہنچایا۔ غیر ملکی سیاحوں کی شرکت نے بھی پاکستان کے مثبت امیج کو دنیا بھر میں اجاگر کیا۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ کئی سالوں تک نفرت پھیلانے کی کوششیں کی گئیں مگر عوام نے مثبت اور خوشگوار طریقے سے جواب دیا۔
اگلے سال کی منصوبہ بندی اور حفاظتی ہدایات
مریم اورنگزیب نے اعلان کیا کہ اگلے سال بسنت اس سے بھی زیادہ بھرپور، منظم اور پرجوش ہوگا۔ تہوار کو محفوظ بنانے کے لیے اہم حفاظتی تجاویز یہ ہیں:
- صرف معیاری اور رجسٹرڈ پتنگیں اور ڈور استعمال کریں۔
- بچوں کو پتنگ بازی کے دوران مکمل نگرانی میں رکھیں، والدین ذمہ داری نبھائیں۔
- تمام موٹرسائیکلوں پر حفاظتی راڈز لازمی لگائیں۔
یہ اقدامات یہ ثابت کرتے ہیں کہ ثقافت کو ختم نہیں کیا جاتا بلکہ اسے ذمہ داری سے آگے بڑھایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کن شرائط پر بشریٰ بی بی کو اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت ملی؟
عمومی سوالات
بسنت تہوار کس لیے منایا جاتا ہے؟
بسنت بہار کی آمد، خوشیوں اور زرعی موسم کی تبدیلی کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ لاہور میں یہ پتنگ بازی سے مشہور ہے۔
حکومت نے بسنت کی بحالی کیوں کی؟
ثقافتی ورثہ کو زندہ رکھنے اور حفاظتی اقدامات کے ساتھ روایات بحال کرنے کے لیے۔
اہم حفاظتی اقدامات کیا تھے؟
سیفٹی راڈز، مفت ٹرانسپورٹ، بھاری پولیس تعیناتی اور شہریوں سے ذمہ داری کی اپیل۔
مریم اورنگزیب کا مرکزی پیغام کیا تھا؟
ثقافت اور کلچر پر تالے نہیں لگتے، انہیں مینج کیا جاتا ہے اور بسنت میں لاہور کی فتح ہوئی۔
اگلے سال بسنت کیسی ہوگی؟
مریم اورنگزیب کے مطابق اس سے بھی زیادہ شاندار اور بھرپور ہوگی۔
بسنت کی بحالی نے آپ کو کتنا خوش کیا؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور شیئر کریں۔ اس آرٹیکل کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور تازہ ترین ثقافتی خبروں کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں۔ ایک کلک سے تمام اپڈیٹس آپ تک پہنچیں گی – پاکستان کی روایات اور خوشیوں سے جڑے رہیں!
Confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.