ہر شخص کو احتجاج اور جلسے کی اجازت ہے لیکن سڑکیں بند کرنے نہیں دینگے: وزیراعلیٰ سندھ

سید مراد علی شاہ

سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احتجاج اور جلسے جلوسوں کے حوالے سے واضح موقف اپنایا۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو احتجاج اور جلسے کی مکمل اجازت ہے، لیکن آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو بھی سڑکیں بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کے لیے کئی مخصوص مقامات موجود ہیں جہاں لوگ اپنا حق استعمال کر سکتے ہیں، مگر مرکزی شاہراہوں اور اہم سڑکوں پر احتجاج کی وجہ سے عوام کو مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت عوام کی سہولت اور ٹریفک کی روانی کو ترجیح دیتی ہے۔ آزادی اظہار رائے کا حق آئین میں موجود ہے، لیکن اسے استعمال کرتے ہوئے دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں کی جا سکتی۔ اس بیان کے بعد یوم کشمیر کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ کے عوام کشمیری بھائیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور کشمیر کی آزادی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

سندھ میں احتجاج

سندھ حکومت کی پالیسی کے تحت احتجاج کی اجازت تو ہے، لیکن سڑکیں بند کرنے پر سختی سے پابندی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ عوامی تکلیف اور ٹریفک کی بندش ہے۔ کراچی جیسے مصروف شہر میں مرکزی سڑکوں پر دھرنے یا ریلیاں عوام کی روزمرہ زندگی، کاروبار اور ہنگامی خدمات کو شدید متاثر کرتی ہیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ احتجاج امن کے دائرے میں رہ کر کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے مخصوص مقامات جیسے پارکس، میدان اور دیگر عوامی جگہوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے جہاں ٹریفک پر اثر نہ پڑے۔

  • احتجاج کے دوران ٹریفک کی بندش پر ردعمل سڑکیں بند کرنے سے ہونے والی مشکلات کو روکنے کے لیے حکومت سخت اقدامات کرے گی۔
  • عوامی مقامات پر جلسوں کا ضابطہ جلسے اور ریلیاں مخصوص علاقوں تک محدود رکھی جائیں گی۔
  • وزیراعلیٰ سندھ کا عوامی احتجاج پر موقف مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ منتخب حکومت عوام کی خدمت کے لیے ہے، نہ کہ ان کے راستوں میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے۔

احتجاج کی اجازت حاصل کرنے کا طریقہ کار

سندھ میں احتجاج یا جلسہ منعقد کرنے کے خواہشمند افراد درج ذیل اقدامات اختیار کر سکتے ہیں:

  1. مقامی پولیس سٹیشن یا ڈپٹی کمشنر آفس میں تحریری درخواست جمع کروائیں۔
  2. احتجاج کی جگہ، تاریخ، وقت اور مقصد کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔
  3. اجازت نامہ حاصل کرنے کے بعد صرف منظور شدہ مقام پر احتجاج کریں۔
  4. قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا امکان رہتا ہے۔

یہ طریقہ کار احتجاج کے حق کو یقینی بناتا ہے اور ساتھ ہی عوامی امن و امان کو بھی برقرار رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میں اور بھائی والد عمران خان سے ملنے پاکستان آنا چاہتے ہیں، حکومت ویزا درخواستوں پر کارروائی نہیں کر رہی: قاسم خان

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

کیا سندھ میں احتجاج کی اجازت ہے؟

جی ہاں، لیکن مخصوص مقامات اور شرائط کے ساتھ۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کیا کہا؟

ہر شخص کو احتجاج اور جلسے کی اجازت ہے لیکن سڑکیں بند نہیں ہونے دیں گے۔

سڑکیں کیوں بند نہیں ہونے دی جائیں گی؟

عوام کو تکلیف اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے۔

احتجاج اور جلسے پر سندھ حکومت کی پالیسی کیا ہے؟

اجازت موجود ہے مگر قوانین کی پابندی لازمی ہے۔

احتجاج کے لیے اجازت کیسے ملتی ہے؟

متعلقہ سرکاری دفاتر میں درخواست دے کر۔

پول

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ احتجاج کے دوران مرکزی سڑکوں کو بند کرنا جائز ہے؟

کمنٹ میں اپنی رائے دیں یا ہاں/نہیں کا ووٹ دیں۔

یہ بیان سندھ میں احتجاج، جلسوں اور عوامی اجتماعات کے قوانین کو واضح کرتا ہے۔ مزید تازہ ترین خبروں اور اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو فوراً جوائن کریں۔ بائیں طرف موجود فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفیکیشن آن کریں اور اہم خبریں سب سے پہلے حاصل کریں – یہ مکمل طور پر مفت اور انتہائی آسان ہے!

اپنے خیالات کمنٹ میں شیئر کریں، اس آرٹیکل کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور متعلقہ خبروں کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کرتے رہیں۔

Confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے