سانحہ بھاٹی گیٹ: تفتیش نااہل افسران تک پہنچ گئی

بھاٹی گیٹ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور کے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے سانحے پر فوری اور سخت ایکشن لیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں سنگین واقعات پر "مٹی پاؤ” کا دور ختم ہو گیا۔ اب پنجاب کی بیٹیوں کے خون کا حساب لیا جائے گا۔

سانحہ بھاٹی گیٹ کی تفصیلات

لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب ایک خاتون سعدیہ اور ان کی 10 ماہ کی معصوم بچی رida فاطمہ کھلے مین ہول (سیوریج لائن) میں گر کر جاں بحق ہو گئیں۔ یہ حادثہ داتا دربار ایکسٹینشن پروجیکٹ کے دوران پیش آیا جہاں تعمیراتی کام جاری تھا۔ ابتدائی طور پر متعلقہ اداروں نے واقعے کی تردید کی، مگر تقریباً 10 گھنٹے بعد لاشیں 3 کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے اسے مجرمانہ غفلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعدیہ اور ان کی ننھی پری کے زخم پنجاب کے ماتھے پر لگے ہیں۔ ہنستا بستا گھرانہ اجاڑنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ان کا مشن ہے۔

تفتیش میں اہم پیش رفت

وزیراعلیٰ کے نوٹس کے بعد سانحہ بھاٹی گیٹ کی جگہ کو ‘ڈیتھ ٹریپ’ سے محفوظ زون میں تبدیل کر دیا گیا۔ سائٹ پر جدید سیفٹی پروٹوکولز نافذ کیے گئے اور حفاظتی اقدامات کے بغیر کام پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ تفتیش کا دائرہ نجی کمپنی سے بڑھ کر نااہل افسران تک پہنچ گیا۔

  • نجی کمپنی کو کام سے روک دیا گیا
  • کمپنی کے مالکان، سیفٹی آفیسر اور دیگر ملزمان گرفتار
  • عدالت نے ملزمان کو جسمانی ریمانڈ منظور کیا
  • پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے، جس سے کیس تیزی سے آگے بڑھے گا
  • مقدمے میں سنگین دفعات شامل کی گئیں

یہ بھی پڑھیں : پنجاب کے سرکاری محکموں میں پٹرول گاڑیوں پر پابندی: "گرین پنجاب” کی جانب بڑا قدم

انکوائری رپورٹ میں متعدد سرکاری افسران کو قصوروار قرار دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے انتظامیہ، واسا اور دیگر اداروں کے افسران کی کارکردگی پر سخت تنقید کی۔ متعدد افسران معطل اور منتقل کیے گئے۔

ذمہ داروں پر کارروائی

حادثے کے ذمہ داروں کی نااہلی سامنے آئی۔ کنٹریکٹر کو خاندان کو معاوضہ ادا کرنے اور روزگار کی سہولت دینے کا حکم دیا گیا۔ صوبہ بھر میں تعمیراتی مقامات پر مین ہول کور کرنے، رات کو لائٹس جلانے اور حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی گئی۔

یہ اقدامات پنجاب میں حفاظتی معیارات کو بہتر بنانے اور مجرمانہ غفلت پر صفر برداشت کا پیغام ہیں۔

نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے تصدیق کر لیں۔

عمومی سوالات (FAQs)

سوال 1: سانحہ بھاٹی گیٹ کب پیش آیا؟

جواب: یہ حادثہ جنوری کے آخر میں لاہور کے بھاٹی گیٹ علاقے میں پیش آیا۔

سوال 2: وزیراعلیٰ مریم نواز نے کیا اقدامات کیے؟

جواب: انہوں نے فوری نوٹس لیا، ملزمان گرفتار کروائے، تفتیش کا دائرہ بڑھایا اور حفاظتی پابندیاں عائد کیں۔

سوال 3: کیا خاندان کو معاوضہ ملے گا؟

جواب: ہاں، کنٹریکٹر سے معاوضہ اور حکومت کی طرف سے روزگار کی سہولت کا اعلان کیا گیا ہے۔

سوال 4: تفتیش کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟

جواب: تفتیش جاری ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے اور سرکاری افسران بھی احتساب کے دائرے میں ہیں۔

یہ سانحہ ہمیں بنیادی حفاظت کی اہمیت یاد دلاتا ہے۔ کیا آپ اس معاملے میں احتساب کو کتنا موثر سمجھتے ہیں؟ کمنٹس میں بتائیں، آرٹیکل شیئر کریں اور تازہ خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں تاکہ اہم اپ ڈیٹس فوری ملیں۔

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے