حکومتِ سندھ نے صوبے بھر میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے نئے اور سخت جرمانوں کا نفاذ کر دیا ہے۔ محکمۂ ٹرانسپورٹ اور سندھ پولیس کی جانب سے جاری کردہ نئے ضوابط کے تحت اب خطرناک ڈرائیونگ، نابالغ ڈرائیورز، ایک وہیلنگ، اور نشے میں ڈرائیونگ جیسے جرائم پر ایک لاکھ روپے تک کے جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
یہ اقدام صوبے میں بڑھتے ہوئے حادثات، غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ، اور سڑکوں پر بدانتظامی کے خاتمے کے لیے ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
نئے ٹریفک قوانین: سندھ حکومت کا سخت اقدام
سندھ حکومت کے تازہ ٹریفک قوانین کا مقصد صوبے میں ٹریفک نظم و ضبط قائم کرنا اور ڈرائیورز کو قانون کی پاسداری پر مجبور کرنا ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق اب تیز رفتاری، غلط سمت میں گاڑی چلانے، بغیر لائسنس ڈرائیونگ، اور پارکنگ کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے کیے جائیں گے۔
تیز رفتاری پر جرمانے — نئی شرح
حکومت سندھ نے مختلف اقسام کی گاڑیوں کے لیے رفتار کی حد سے تجاوز کرنے پر درج ذیل جرمانے مقرر کیے ہیں:
- موٹرسائیکل: 5,000 روپے
- کار یا جیپ: 10,000 روپے
- پبلک سروس اور لائٹ ٹرانسپورٹ: 15,000 روپے
- ہیوی ٹرانسپورٹ: 20,000 روپے
یہ فیصلہ رفتار سے متعلق حادثات میں کمی لانے کے لیے کیا گیا ہے، جو صوبے میں اموات کی بڑی وجہ قرار دیے جاتے ہیں۔
بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر سخت کارروائی
حکومت نے بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے والوں کے خلاف سخت جرمانے مقرر کیے ہیں:
- کار ڈرائیور: 20,000 روپے
- پبلک سروس / لائٹ ٹرانسپورٹ: 25,000 روپے
- ہیوی ٹرانسپورٹ: 30,000 روپے
مزید برآں، پولیس کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ بغیر لائسنس گاڑی چلانے والوں کی گاڑیاں فوری طور پر ضبط کرے۔
لاپرواہ اور خطرناک ڈرائیونگ: بھاری جرمانے نافذ
غفلت یا لاپرواہی سے ڈرائیونگ کے لیے اب بھاری جرمانے عائد ہوں گے:
- کار اور جیپ: 25,000 روپے
- پبلک سروس اور ہیوی گاڑیاں: 50,000 روپے
اسی طرح، اگر کوئی ڈرائیور ون وے سڑک پر غلط سمت میں گاڑی چلائے تو اسے درج ذیل جرمانے ادا کرنا ہوں گے:
- موٹرسائیکل: 25,000 روپے
- کار: 30,000 روپے
- پبلک سروس گاڑی: 50,000 روپے
- ہیوی گاڑی: 100,000 روپے
یہ جرمانے اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ سندھ میں اب غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ برداشت نہیں کی جائے گی۔
غلط سمت میں گاڑی چلانے پر سزائیں
سڑک کے غلط رخ پر گاڑی چلانا شہری علاقوں میں ایک عام مسئلہ بن چکا ہے۔ اب اس خلاف ورزی پر درج ذیل جرمانے لاگو ہوں گے:
- موٹرسائیکل: 5,000 روپے
- کار: 10,000 روپے
- پبلک سروس گاڑی: 15,000 روپے
- ہیوی ٹرانسپورٹ: 20,000 روپے
مزید یہ کہ، اسمارت سرویلنس سسٹم کے ذریعے ایسے ڈرائیورز کی نشاندہی اور خودکار جرمانہ کیا جائے گا۔
پارکنگ قوانین کی خلاف ورزی پر نئے جرمانے
نئی پالیسی کے تحت غلط پارکنگ کرنے والوں کے لیے بھی سخت سزائیں رکھی گئی ہیں، تاکہ سڑکوں پر ہجوم اور رکاوٹوں میں کمی لائی جا سکے۔
- فٹ پاتھ پر یا 0.5 میٹر سے زیادہ فاصلے پر پارکنگ:
- موٹرسائیکل: 2,000 روپے
- دیگر گاڑیاں: 10,000 تا 20,000 روپے
- ساتھ ہی 2 ڈی میرٹ پوائنٹس
- کسی اور گاڑی سے 5 میٹر سے کم فاصلے پر یا زیبرا کراسنگ پر پارکنگ:
- وہی جرمانے لاگو ہوں گے۔
یہ اقدامات خاص طور پر کراچی، حیدرآباد، سکھر اور دیگر شہری علاقوں میں نافذ کیے جا رہے ہیں۔
دیگر صوبوں سے تقابلی جائزہ
جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا نے بھی حالیہ برسوں میں ٹریفک قوانین میں ترامیم کی ہیں، سندھ کا نیا نظام اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں ہیوی گاڑیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ جرمانہ ایک لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا بڑا اعلان: 80 ہزار اسکالرشپ اور 1 لاکھ 18 ہزار مفت لیپ ٹاپ طلبہ کے لیے
مثال کے طور پر، لاہور میں حال ہی میں 40 برقی بسیں متعارف کروائی گئی ہیں، جو پائیدار ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ سخت نفاذ کے اصولوں کو فروغ دے رہی ہیں۔
نئی پالیسی کی اہمیت
محکمۂ ٹرانسپورٹ سندھ کے مطابق، صوبے میں ہر سال ہزاروں حادثات تیز رفتاری، کم عمری میں ڈرائیونگ، اور لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔
یہ نئی پالیسی درج ذیل فوائد فراہم کرے گی:
- ٹریفک قوانین پر عملدرآمد میں بہتری
- سڑکوں پر حادثات میں کمی
- ڈرائیورز میں ذمہ داری کا احساس
- ڈیجیٹل ای ٹکٹنگ سسٹم کے نفاذ میں مدد
ماہرین کی رائے
ٹریفک ماہرین نے اس اقدام کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔
کراچی ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے ایک سینئر افسر کے مطابق:
“یہ نیا نظام سندھ کو بین الاقوامی معیار کے قریب لاتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ عوامی آگاہی مہمات، واضح سائن بورڈز، اور ڈرائیور تربیت کے اقدامات بھی ضروری ہیں۔”
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال 1: کیا یہ نئے جرمانے فوراً نافذ ہو گئے ہیں؟
جواب: جی ہاں، یہ جرمانے صوبائی نوٹیفکیشن کے فوراً بعد مؤثر ہو چکے ہیں۔
سوال 2: کیا جرمانے آن لائن ادا کیے جا سکتے ہیں؟
جواب: جی ہاں، شہری سندھ پولیس کے آن لائن پورٹل یا بینک برانچز کے ذریعے جرمانے ادا کر سکتے ہیں۔
سوال 3: بار بار قانون توڑنے والوں کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟
جواب: مسلسل خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیورز کے لائسنس معطل یا گاڑیاں ضبط کی جا سکتی ہیں۔
سوال 4: کم عمر ڈرائیورز کے لیے کیا سزا ہے؟
جواب: نابالغ ڈرائیونگ پر سخت کارروائی کی جائے گی، جس میں بھاری جرمانے اور گاڑی کی ضبطی شامل ہے۔
نتیجہ: سندھ حکومت کی سڑکوں پر نظم و ضبط کی نئی شروعات
نئے سندھ ٹریفک قوانین صوبے میں محفوظ سفر، ڈرائیوروں کی تربیت، اور عوامی تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ہیں۔
اب ایک لاکھ روپے تک کے جرمانے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت سڑکوں پر بدانتظامی ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔
قانون پر عمل کریں، درست سمت میں چلیں، اور اپنی اور دوسروں کی جان کی حفاظت کریں۔