اقرار الحسن نے نئی سیاسی جماعت کے نام اور جھنڈے کی رونمائی کر دی: ‘پاکستان عوام راج تحریک’ کیا ہے؟

اقرار الحسن

پاکستان کے معروف صحافی، سماجی کارکن اور ‘سرِ عام’ فلاحی گروپ کے بانی سید اقرار الحسن نے باضابطہ طور پر اپنی نئی نوجوان مرکز (Youth-centered) سیاسی تحریک اور جماعت "پاکستان عوام راج تحریک” کے قیام کا اعلان کر دیا ہے۔ جمعرات، 15 جنوری 2026 کو لاہور پریس کلب میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران پارٹی کے جھنڈے کی رونمائی کی گئی اور شہریوں کے لیے رجسٹریشن کے ابتدائی عمل کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ یہ اقدام پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں ایک معروف میڈیا شخصیت نے براہِ راست نظام کی تبدیلی کے لیے سیاسی میدان میں قدم رکھا ہے۔

ایک نیا دور: ‘عوام راج’ موروثی سیاست کو چیلنج کرے گی

"عوام راج تحریک” کا بنیادی فلسفہ اقتدار کو مخصوص خاندانوں سے منتقل کر کے پاکستان کے عام شہریوں کے سپرد کرنا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اقرار الحسن نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جماعت کسی ایک فرد یا خاندان کی ملکیت نہیں ہوگی بلکہ اس کے مالک عام لوگ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے نام پر موروثی بادشاہتیں قائم ہیں، جنہیں ختم کرنا اب وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔

تحریک کے کلیدی مقاصد:

  1. موروثی سیاست کا خاتمہ: خاندانی سیاسی جماعتوں کے اس تسلسل کو توڑنا جس نے دہائیوں سے قومی نظام کو کمزور کر رکھا ہے۔
  2. اداروں کی تعمیر: سیاست کو شخصیات کے گرد گھمانے کے بجائے مضبوط اور شفاف اداروں سے جوڑنا۔
  3. میرٹ پر مبنی قیادت: ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا جہاں باصلاحیت افراد کسی سفارش کے بغیر جمہوری عمل کے ذریعے آگے بڑھ سکیں۔
  4. نوجوانوں کی بااختیاری: سیاسی منظرنامے میں حقیقی اور عملی تبدیلی لانے کے لیے نوجوانوں کی جدوجہد پر توجہ مرکوز کرنا۔
  5. عام آدمی کی آواز: معاشرے کے پسے ہوئے طبقات، محنت کشوں اور مزدوروں کو ایوانوں تک پہنچانا۔

یہ بھی پڑھیں : کراچی: گل پلازہ میں ہولناک آگ؛ ابتدائی فوٹیج سامنے آگئی، 100 افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ

"مقدس عہد”: اقرار الحسن کوئی عوامی عہدہ نہیں لیں گے

روایتی سیاسی رہنماؤں سے خود کو الگ ثابت کرنے کے لیے اقرار الحسن نے ایک بڑا اور تاریخی عہد کیا۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو حاضر و ناظر جان کر اعلان کیا کہ انہیں اقتدار یا کسی حکومتی عہدے کی کوئی تمنا نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی کسی سیاسی، سرکاری یا حکومتی عہدے کے لیے امیدوار نہیں بنیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد "تخت” کے لیے نہیں بلکہ عوام کی بااختیاری کے لیے ہے۔ وہ کسی امیدوار کے بجائے اس تحریک کے نظریاتی سرپرست (Mentor) کے طور پر رہنا چاہتے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تحریک اپنے بنیادی مقاصد سے کبھی انحراف نہ کرے۔ اقرار الحسن کے مطابق، ان کا کام صرف راستہ دکھانا اور ایک ایسا نظام وضع کرنا ہے جس میں اہل لوگ خود بخود قیادت کے لیے سامنے آئیں۔

پاکستان بمقابلہ مغربی جمہوری نظام

اقرار الحسن نے پاکستان اور مغربی جمہوری ریاستوں (جیسے امریکہ اور برطانیہ) کے سیاسی نظاموں کا موازنہ کرتے ہوئے چند اہم نکات اٹھائے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مغرب میں سیاسی جماعتیں اداروں کے طور پر کام کرتی ہیں جہاں قیادت میرٹ اور باقاعدہ جمہوری عمل سے تبدیل ہوتی ہے۔ وہاں کوئی شخص اپنی پوری زندگی پارٹی کا سربراہ نہیں رہتا اور نہ ہی اپنی اولاد کو قیادت منتقل کرتا ہے۔

اس کے برعکس، انہوں نے پاکستان کے موجودہ نظام کو جمہوریت کے لبادے میں ایک "بڑی آمریت” قرار دیا، جہاں اقتدار دہائیوں تک چند ناموں کے درمیان ہی گھومتا رہتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان کے 24 کروڑ عوام میں ان چند خاندانوں کے علاوہ کوئی اہل قیادت موجود نہیں؟ اسی خلا کو پر کرنے کے لیے "پاکستان عوام راج تحریک” کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔

تقابلی جائزہ: روایتی سیاست بمقابلہ عوام راج تحریک

مندرجہ ذیل جدول روایتی سیاسی جماعتوں اور اقرار الحسن کی نئی تحریک کے درمیان فرق کو واضح کرتا ہے:

خصوصیتروایتی پاکستانی سیاستپاکستان عوام راج تحریک
ملکیتخاندانی / موروثیعام شہریوں کی ملکیت
قیادتموروثی / خون کا رشتہمیرٹ پر مبنی / جمہوری
بنیادی مقصدحصولِ اقتدار و مفاداتعوامی بااختیاری و اصلاح
ساختشخصیت پرستیادارہ جاتی و نظریاتی
عہدہ داریدائمی قیادتمدت پر مبنی تبدیلیاں

"اب راج کرے گی خلقِ خدا”: 2026 کا وژن

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ (سابقہ ٹویٹر) پر اقرار الحسن نے پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے اپنے وژن کا اظہار کرتے ہوئے ایک جذباتی پوسٹ لکھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملٹری راج، بھٹو راج، خان راج اور گورنر راج دیکھا، لیکن اب یہ ملک حقیقی معنوں میں ‘عوام راج’ دیکھے گا۔

یہ تحریک صرف ایک پارٹی نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب کا نام ہے جو تعلیم، صحت اور انصاف کے نظام میں بنیادی اصلاحات کا خواہاں ہے۔ 2026 کے اوائل میں باضابطہ آغاز کے ساتھ، پارٹی اب اگلے عام انتخابات کی تیاری کر رہی ہے اور ملک بھر کے نوجوانوں کو اس مہم کی قیادت سنبھالنے کی دعوت دی گئی ہے۔ اقرار الحسن کا ماننا ہے کہ اگر نوجوان متحد ہو جائیں تو وہ کسی بھی فرسودہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

عوامی رائے: آپ کی آواز اہمیت رکھتی ہے

کیا آپ کو یقین ہے کہ ایک غیر موروثی اور نوجوانوں پر مبنی جماعت پاکستان میں رائج فرسودہ نظام (Status Quo) کو چیلنج کر سکتی ہے؟ آپ کی رائے ہمارے لیے اہم ہے۔

  • جی ہاں: ملک کو اسی طرح کی انقلابی سوچ کی ضرورت ہے۔
  • جی نہیں: پاکستان کے سیاسی کلچر میں نیا نظام لانا بہت مشکل ہے۔
  • شاید: یہ سب ان کی مستقبل کی کارکردگی اور منشور کی عملی صورت پر منحصر ہے۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ پنجاب نے 47 ارب روپے کے ‘رمضان نگہبان پیکج’ کی منظوری دیدی

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)

1. اقرار الحسن کی پارٹی کا باضابطہ نام کیا ہے؟

پارٹی کا مکمل نام ‘پاکستان عوام راج تحریک’ (Pakistan Awaam Raaj Tehreek) ہے، جسے مختصراً PART بھی کہا جا رہا ہے۔

2. کیا عام شہری اس پارٹی کی رکنیت حاصل کر سکتے ہیں؟

جی ہاں، لاہور پریس کلب میں ہونے والی تقریب کے بعد رجسٹریشن کا عمل باقاعدہ شروع ہو چکا ہے۔ اقرار الحسن نے عام شہریوں، خاص طور پر نوجوانوں کو اس جماعت کا "مالک” بننے کی دعوت دی ہے۔

3. کیا اقرار الحسن مستقبل میں وزیر اعظم کے امیدوار ہوں گے؟

جی نہیں۔ اقرار الحسن نے باضابطہ اور حلفیہ عہد کیا ہے کہ وہ کبھی کوئی حکومتی، سیاسی یا سرکاری عہدہ نہیں سنبھالیں گے۔ ان کا مقصد صرف ایک شفاف نظام کی بنیاد رکھنا ہے۔

4. اس تحریک کا مالی نظام کیا ہوگا؟

اقرار الحسن کے مطابق، یہ جماعت عام لوگوں کے چھوٹے چھوٹے چندوں سے چلے گی تاکہ کسی بڑے سرمایہ کار یا مافیا کے زیرِ اثر نہ آئے۔

Disclaimer:

This post is based on public reports. Please verify all information independently before taking any steps.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے