پنجاب کے مختلف اضلاع میں شدید بارش اور سردی کی لہر: الرٹ جاری

بارش

پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) اور محکمہ موسمیات کے جاری کردہ حالیہ مراسلے کے مطابق، صوبہ پنجاب کے طول و عرض میں موسمیاتی تبدیلیوں کے پیشِ نظر ایک ہنگامی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق مغربی ہواؤں کا ایک طاقتور سلسلہ ملک کے بالائی اور وسطی حصوں میں داخل ہو رہا ہے، جس کے باعث پنجاب کے میدانی اور شہری علاقوں میں بارش، ژالہ باری اور پہاڑی علاقوں میں شدید برف باری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اس الرٹ کا مقصد شہریوں کو قبل از وقت مطلع کرنا ہے تاکہ وہ اپنے سفری اور کاروباری معاملات کو موسم کی شدت کے مطابق ترتیب دے سکیں۔

پنجاب میں بارش کی پیش گوئی اور مغربی سسٹم کا اثر

محکمہ موسمیات کی تکنیکی رپورٹ کے مطابق، 16 جنوری سے شروع ہونے والا یہ مغربی ہواؤں کا سلسلہ 19 جنوری تک پنجاب کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھے گا۔ ماہرینِ موسمیات کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم گزشتہ چند ہفتوں کے مقابلے میں زیادہ شدت کا حامل ہے، جو نہ صرف درجہ حرارت میں نمایاں کمی لائے گا بلکہ فضائی آلودگی یعنی اسموگ کی سطح کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔ تاہم، اس کے ساتھ ہی سردی کی ایک نئی اور شدید لہر (Cold Wave) پورے صوبے میں پھیل جائے گی۔

پنجاب کے اضلاع بشمول لاہور، سیالکوٹ، نارووال، گوجرانوالہ، اور فیصل آباد میں درمیانے درجے کی بارش متوقع ہے، جبکہ بعض مقامات پر بوند باندی اور ٹھنڈی ہوائیں چلنے سے سردی کا احساس دوگنا ہو جائے گا۔ جنوبی پنجاب کے اضلاع ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان میں بھی بادل برسنے کے امکانات موجود ہیں، جس سے وہاں موجود خشک سردی کا خاتمہ ہوگا۔

مری اور گلیات کے لیے شدید برف باری کی وارننگ

سیاحوں کے لیے سب سے اہم وارننگ مری، گلیات اور مضافاتی پہاڑی علاقوں کے لیے جاری کی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق 20 سے 23 جنوری کے دوران ان علاقوں میں شدید برف باری متوقع ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ برف باری کے دوران سڑکوں پر پھسلن بڑھ جاتی ہے اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بھی موجود رہتا ہے۔ سیاحوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اگر جانا ناگزیر ہو تو گاڑی کے ٹائروں کے لیے زنجیر اور دیگر حفاظتی سامان ساتھ رکھیں۔ مری کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو کسی بھی مشکل گھڑی میں مدد فراہم کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں : اسپین میں ٹرین حادثات میں اضافہ: بارسلونا کے قریب ٹرین پٹری سے اتر گئی؛ ڈرائیور ہلاک، درجنوں زخمی

سرکاری اداروں کی حکمت عملی اور اقدامات

صوبائی حکومت نے تمام ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ممکنہ بارشوں کے پیشِ نظر نکاسی آب کے نظام کو مکمل طور پر فعال رکھیں۔ واسا (WASA) اور میونسپل کمیٹیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ نشیبی علاقوں میں ڈی واٹرنگ سیٹس کی موجودگی یقینی بنائیں۔

  1. محکمہ صحت: سردی کی لہر کے دوران نمونیا اور سانس کی بیماریوں میں اضافے کے پیشِ نظر ہسپتالوں میں ادویات کا اسٹاک مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
  2. ٹریفک پولیس: دھند اور بارش کے دوران شاہراہوں پر حادثات سے بچنے کے لیے پیٹرولنگ میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
  3. محکمہ زراعت: کسانوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بارش کے پیشِ نظر اپنی فصلوں کی آبپاشی اور کھاد کے استعمال کو ری شیڈول کریں۔

شدید سردی اور بارش کے دوران حفاظتی تدابیر

شہریوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ درج ذیل حفاظتی اقدامات پر عمل کریں:

  • گرم لباس کا استعمال: گھر سے باہر نکلتے وقت تہوں والے گرم کپڑے پہنیں تاکہ جسمانی درجہ حرارت برقرار رہے۔
  • گیس ہیٹر سے احتیاط: رات کو سوتے وقت گیس ہیٹر یا کوئلوں کی انگیٹھی ہرگز روشن نہ چھوڑیں۔ یہ عمل آکسیجن کی کمی اور کاربن مونو آکسائیڈ کے پھیلاؤ کا باعث بن کر جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
  • محفوظ ڈرائیونگ: بارش کے دوران گاڑی کی رفتار کم رکھیں اور بریک کا استعمال احتیاط سے کریں تاکہ پھسلن کی وجہ سے گاڑی بے قابو نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں : برطانیہ کی جانب سے پاکستان کے لیے بڑی پیشکش: جیولوجیکل سروے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 400 ملین ڈالر کی معاونت

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)

سوال 1: کیا بارش سے اسموگ مکمل طور پر ختم ہو جائے گی؟

جی ہاں، بارش فضا میں موجود آلودگی کے ذرات کو زمین پر بٹھا دیتی ہے، جس سے ہوا کا معیار (AQI) بہتر ہوتا ہے اور اسموگ کی شدت میں نمایاں کمی آتی ہے۔

سوال 2: کیا مری میں راستے بند ہونے کا خدشہ ہے؟

شدید برف باری کی صورت میں 20 جنوری کے بعد کچھ لنکر روڈز عارضی طور پر بند ہو سکتے ہیں۔ سیاحوں کو مشورہ ہے کہ وہ سفر سے پہلے 1122 یا لوکل ٹریفک پولیس سے رابطہ کریں۔

سوال 3: سردی کی یہ لہر کب تک جاری رہے گی؟

موجودہ سسٹم کے بعد جنوری کے آخر تک پنجاب میں سردی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے۔

Disclaimer:

This information is based on public reports. Please verify all details with official sources before taking any action.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے