کراچی: گل پلازہ میں ہولناک آگ؛ ابتدائی فوٹیج سامنے آگئی، 100 افراد کے پھنسے ہونے کا خدشہ

آگ

کراچی پولیس، محکمہ فائر بریگیڈ اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے اعلیٰ حکام کی جانب سے فراہم کردہ ہنگامی تفصیلات کے مطابق، شہر کے قلب میں واقع ایم اے جناح روڈ کے مصروف ترین کاروباری مرکز، گل پلازہ میں لگنے والی آگ نے ایک بڑی انسانی اور مالی تباہی کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آگ لگنے کا واقعہ صبح کے وقت پیش آیا جس نے چند ہی لمحوں میں کثیر المنزلہ عمارت کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یہ رپورٹ اس المناک واقعے کے تمام پہلوؤں، ریسکیو آپریشن کے چیلنجز اور نقصانات کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔

گل پلازہ کراچی: تجارتی مرکز کی تباہی اور خوفناک مناظر

کراچی کا ایم اے جناح روڈ اپنی تجارتی سرگرمیوں کے باعث شہر کی شہ رگ کہلاتا ہے، جہاں گل پلازہ الیکٹرونکس، کپڑوں اور دیگر اشیاء کی ہول سیل مارکیٹ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آج یہاں لگنے والی آگ نے نہ صرف اربوں روپے کے اثاثوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی شدید خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آگ گراؤنڈ فلور پر واقع ایک دکان سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے سیڑھیوں اور لفٹ کی شافٹ کے راستے بالائی منزلوں تک پہنچ گئی۔ Gul Plaza Fire Karachi کی سامنے آنے والی ابتدائی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے تیسری اور چوتھی منزل کی کھڑکیوں سے لٹک رہے ہیں، جبکہ نیچے موجود شہری کپڑے اور گدے پھیلا کر انہیں بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

آتشزدگی کی ابتدائی وجوہات اور ہولناک فوٹیج

ابتدائی تکنیکی معائنے کے بعد فائر حکام کا شبہ ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی۔ عمارت میں موجود بجلی کی تاروں کے پرانے نظام اور گنجان آباد دکانوں نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔ منظر عام پر آنے والی ویڈیو کلپس میں دکانوں کے اندر موجود پلاسٹک کے کھلونوں اور کپڑوں کے بنڈلوں کو آگ پکڑتے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد پوری عمارت زہریلے دھوئیں سے بھر گئی۔

ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ دم گھٹنے کی وجہ سے لوگ بے ہوش ہو کر گر رہے ہیں، جبکہ سیکیورٹی گارڈز اور رضاکاروں کی جانب سے "باہر نکلیں” کی چیخیں فضا کو مزید سوگوار بنا رہی ہیں۔

جانی و مالی نقصان: 5 اموات اور درجنوں زخمی

اس افسوسناک واقعے میں اب تک 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والے تمام افراد کی موت آگ سے جلنے کے بجائے "اسموک انہیلیشن” یعنی زہریلا دھواں پھیپھڑوں میں بھر جانے کی وجہ سے ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ پنجاب نے 47 ارب روپے کے ‘رمضان نگہبان پیکج’ کی منظوری دیدی

  • زخمیوں کی صورتحال: سول ہسپتال کے برن سینٹر میں 20 سے زائد زخمی زیر علاج ہیں، جن میں سے 6 کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
  • مالی نقصان: تاجروں کی ابتدائی تنظیم کے مطابق، گل پلازہ میں لگی اس آگ سے تقریباً 400 سے زائد دکانیں متاثر ہوئی ہیں، جس سے تاجروں کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔

100 افراد لاپتہ: ریسکیو آپریشن کا سنگین مرحلہ

گل پلازہ ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ ابھی تک عمارت کے اندر 80 سے 100 افراد لاپتہ ہیں جن سے کوئی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔ یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ عمارت کے گوداموں یا پچھلے حصوں میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں دھواں سب سے زیادہ ہے۔

Karachi Fire News Today کے مطابق، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے فائر ٹینڈرز کو بھی طلب کر لیا گیا ہے تاکہ آگ پر قابو پایا جا سکے، لیکن عمارت کے اندرونی حصوں تک رسائی ابھی تک ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

عمارت کی ساخت کو خطرات

انجینئرز کی ایک ٹیم نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور بتایا کہ مسلسل 9 گھنٹوں سے زائد کی تپش نے کنکریٹ کے ستونوں کو کمزور کر دیا ہے۔

  1. شگاف: عمارت کے بیرونی ڈھانچے میں واضح شگاف نظر آنے لگے ہیں۔
  2. گرنے کا خطرہ: اگر کولنگ کا عمل جلد مکمل نہ ہوا تو عمارت کے کسی بھی حصے کے منہدم ہونے کا قوی امکان ہے، جو امدادی کارکنوں کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔

ریسکیو آپریشن میں درپیش رکاوٹیں

کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں آگ بجھانے کے لیے فائر فائٹرز کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گل پلازہ کی آگ کے معاملے میں درج ذیل عوامل نے آپریشن کو متاثر کیا:

1. ہائیڈرنٹس کی کمی اور پانی کی فراہمی

شہر کے مرکز میں پانی کے ہائیڈرنٹس کی دوری کی وجہ سے فائر ٹینڈرز کو بار بار پانی بھرنے کے لیے دور جانا پڑ رہا ہے، جس سے آگ بجھانے کے عمل میں تسلسل برقرار نہیں رہ پاتا۔

2. تجاوزات اور تنگ راستے

ایم اے جناح روڈ پر دکانوں کے باہر رکھے گئے سامان اور غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے بڑی اسنارکل گاڑیوں کو پوزیشن لینے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

3. غیر تربیت یافتہ ہجوم

کسی بھی حادثے کی صورت میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد جائے وقوعہ پر جمع ہو جاتی ہے، جو نہ صرف ریسکیو گاڑیوں کا راستہ روکتی ہے بلکہ اپنی جان بھی خطرے میں ڈالتی ہے۔

کراچی میں ہولناک آگ: ماضی کے واقعات سے سبق

کراچی میں آتشزدگی کے واقعات کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ اس سے قبل بھی بلدیہ ٹاؤن فیکٹری اور دیگر مارکیٹوں میں لگنے والی آگ سینکڑوں جانیں لے چکی ہے۔ گل پلازہ کا واقعہ ایک بار پھر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ہماری تجارتی عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کی کتنی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی: کیا یہ خریداری کا بہترین وقت ہے؟

زیادہ تر عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ (ہنگامی اخراج کے راستے) یا تو موجود نہیں ہیں یا پھر انہیں گودام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی حادثے کی صورت میں موت کا پھندا ثابت ہوتے ہیں۔

آگ لگنے کی صورت میں حفاظتی تدابیر: آپ کی جان کیسے بچ سکتی ہے؟

اگر آپ کسی ایسی عمارت میں موجود ہوں جہاں آگ لگ جائے، تو درج ذیل اقدامات آپ کی زندگی بچا سکتے ہیں:

  • دھوئیں سے بچیں: آگ سے زیادہ دھواں خطرناک ہوتا ہے۔ فرش کے قریب رہ کر رینگتے ہوئے باہر نکلیں کیونکہ صاف ہوا نیچے ہوتی ہے۔
  • لفٹ کا استعمال کبھی نہ کریں: آگ کے دوران بجلی منقطع ہو سکتی ہے، جس سے آپ لفٹ میں پھنس سکتے ہیں۔ ہمیشہ سیڑھیوں کا انتخاب کریں۔
  • دروازے چیک کریں: کسی بھی کمرے کا دروازہ کھولنے سے پہلے اسے ہاتھ کی پشت سے چھو کر دیکھیں، اگر وہ گرم ہے تو اس کا مطلب ہے باہر آگ موجود ہے۔
  • گیلا کپڑا: سانس لینے کے لیے ناک پر گیلا رومال رکھیں تاکہ زہریلی گیسیں پھیپھڑوں تک نہ پہنچیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQs)

1. کراچی گل پلازہ میں آگ لگنے کی سب سے بڑی وجہ کیا ہے؟

ابتدائی رپورٹس کے مطابق شارٹ سرکٹ بنیادی وجہ ہے، تاہم پولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ آیا یہ محض حادثہ تھا یا غفلت۔

2. کیا عمارت کے اندر پھنسے ہوئے تمام افراد کو نکال لیا گیا ہے؟

ابھی تک ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ تقریباً 40 افراد کو بحفاظت نکالا گیا ہے جبکہ 100 کے قریب افراد کے تاحال لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔

3. آگ بجھانے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے؟

فائر بریگیڈ کے مطابق آگ پر قابو پایا جا چکا ہے لیکن ‘کولنگ آپریشن’ میں مزید 12 سے 24 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

تجزئیہ اور مستقبل کی حکمت عملی

کراچی جیسے میٹروپولیٹن شہر کے لیے ضروری ہے کہ ہر تجارتی مرکز میں خودکار فائر سسٹم (Automatic Sprinklers) اور دھواںdetect کرنے والے آلات نصب ہوں۔ گل پلازہ کا واقعہ حکام کے لیے ایک وارننگ ہے کہ وہ شہر کی تمام پرانی عمارتوں کا سیفٹی آڈٹ کروائیں اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔

Disclaimer:

This report is based on initial public and news sources. Please verify all information with official government departments before taking any action.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے