میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل کیسے ہیں؟ صدر ٹرمپ کا شہباز شریف سے دلچسپ سوال

شہباز شریف

اسلام آباد سے موصول ہونے والی سرکاری اطلاعات اور عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ورلڈ اکنامک فورم (ڈبلیو ای ایف) ڈیووس 2026 کے اجلاس کے دوران پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی شرکت انتہائی اہم رہی۔ یہ اجلاس 19 سے 23 جنوری 2026 تک سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوا، جہاں غزہ کے لیے قائم کیے جانے والے "بورڈ آف پیس” کے چارٹر پر دستخط کی تقریب ہوئی۔ اس تقریب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں متعدد عالمی رہنما موجود تھے، اور پاکستان کو اس بورڈ میں شامل کیا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس چارٹر پر دستخط کیے، جو غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کے درمیان مختصر مگر دلچسپ بات چیت ہوئی، جو عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ وزیراعظم نے بعد میں میڈیا سے گفتگو میں اس ملاقات کی تفصیلات شیئر کیں، جو پاکستان کی عالمی سفارتکاری کی کامیابی کی عکاسی کرتی ہیں۔

صدر ٹرمپ کا شہباز شریف سے غیر معمولی سوال

وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق، غزہ بورڈ آف پیس کے معاہدے پر دستخط کی تقریب کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان سے پوچھا: "میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل کیسے ہیں؟”۔ یہ سوال سن کر وزیراعظم نے مہمانوں کی اگلی صف میں بیٹھے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کر دیا اور کہا: "وہاں ہیں، مسٹر پریذیڈنٹ۔” اس لمحے پر صدر ٹرمپ مسکرائے اور فیلڈ مارشل کی طرف اشارہ بھی کیا۔ یہ منظر دنیا بھر کے ٹی وی چینلز پر لائیو نشر ہوا۔

یہ واقعہ نہ صرف ذاتی گرمجوشی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ پاکستان کی عسکری قیادت کی عالمی سطح پر پذیرائی کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ماضی میں بھی متعدد مواقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خدمات کی تعریف کی ہے۔ یہ ریمارکس پاکستان اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات کی علامت ہیں۔

غزہ بورڈ آف پیس: پاکستان کا اہم کردار

غزہ بورڈ آف پیس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اہم اقدام ہے، جو جنگ زدہ علاقے میں امن کی بحالی، فلسطینی عوام کو بنیادی حقوق کی فراہمی اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے قائم کیا گیا۔ اس بورڈ میں پاکستان سمیت متعدد ممالک کو شامل کیا گیا، اور وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں اس کے چارٹر پر دستخط کیے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سے ملاقات میں اس اقدام کی تعریف کرتے ہوئے کہا: "اگر آپ فلسطینی عوام کو امن، وقار اور بنیادی حقوق یقینی بنانے میں کامیاب ہو گئے اور غزہ کی تعمیر نو کا عمل مکمل ہوا تو تاریخ آپ کو ایک عظیم رہنما کے طور پر یاد رکھے گی۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام خطے میں مستقل امن کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔

اس بورڈ کی تشکیل میں پاکستان کی شمولیت اس بات کی دلیل ہے کہ عالمی برادری پاکستان کو مشرق وسطیٰ کے امن عمل میں ایک کلیدی پارٹنر سمجھتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت کی ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کی وکالت کی ہے۔

پاکستان-بھارت کشیدگی میں ٹرمپ کا کردار اور پاکستان کی تعریف

ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے صدر ٹرمپ کے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے مؤثر کردار پر بھی خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا: "مسٹر پریذیڈنٹ، تاریخ آپ کو ایک ایسے عظیم رہنما کے طور پر یاد رکھے گی جس نے بروقت اور موثر مداخلت سے خطے میں لاکھوں جانیں بچائیں۔”

یہ ریمارکس خطے میں حالیہ کشیدگی کے تناظر میں اہم ہیں، جہاں صدر ٹرمپ کی سفارتکاری نے تناؤ کم کرنے میں مدد کی۔ یہ ملاقات پاکستان-امریکہ تعلقات کی مضبوطی اور خطے میں امن کے لیے مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔

ڈیووس ملاقات کی سفارتی اہمیت

یہ مختصر ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی اور نہایت مثبت رہی۔ ڈیووس فورم میں پاکستان کی نمایاں شرکت سے ملک کی عالمی پوزیشن مزید مضبوط ہوئی۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی اور صدر ٹرمپ کا ان کے بارے میں گرمجوش سوال پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کی عالمی پذیرائی کو اجاگر کرتا ہے۔

عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ واقعہ پاکستان کی جیو پولیٹیکل اہمیت میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ امریکی صدر کا پاکستان کے آرمی چیف کو "پسندیدہ فیلڈ مارشل” کہنا ایک غیر معمولی اعزاز ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک پارٹنرشپ کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان-امریکہ تعلقات کا مستقبل

ڈیووس ملاقات پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں نئی گرمجوشی کی علامت ہے۔ حالیہ مہینوں میں صدر ٹرمپ نے متعدد بار پاکستان کی قیادت کی تعریف کی ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان معاشی، دفاعی اور سفارتی تعاون میں اضافے کا اشارہ ہے۔ غزہ امن عمل میں پاکستان کی شمولیت سے خطے میں پاکستان کا کردار مزید فعال ہو گا۔

یہ واقعات پاکستان کی خارجہ پالیسی کی کامیابی ہیں، جو ملک کو عالمی مسائل کے حل میں ایک ذمہ دار پارٹنر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

ڈیووس فورم 2026 کب منعقد ہوا؟

ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس 2026 کا اجلاس 19 سے 23 جنوری 2026 تک سوئٹزرلینڈ میں ہوا۔

غزہ بورڈ آف پیس کیا ہے اور پاکستان کا اس میں کیا کردار ہے؟

یہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اقدام ہے جو غزہ میں امن کی بحالی اور تعمیر نو کے لیے قائم کیا گیا۔ پاکستان اس بورڈ کا رکن ہے اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس کے چارٹر پر دستخط کیے۔

صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو "میرے پسندیدہ فیلڈ مارشل” کیوں کہا؟

صدر ٹرمپ نے متعدد مواقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بہادری اور خدمات کی تعریف کی ہے، جو پاکستان-امریکہ تعلقات کی گرمجوشی کی عکاسی ہے۔

اس ملاقات سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوا؟

یہ ملاقات پاکستان کی عالمی سفارتکاری کی کامیابی ہے، جو ملک کی جیو پولیٹیکل اہمیت میں اضافے اور امن عمل میں فعال کردار کی نشاندہی کرتی ہے۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا رینک کیسے ملا؟

یہ پاکستان کی تاریخ میں اعلیٰ ترین عسکری رینک ہے، جو ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔

یہ تمام معلومات عوامی رپورٹس اور سرکاری بیانات پر مبنی ہیں۔

آپ کی رائے کیا ہے؟ اس اہم سفارتی واقعے پر کمنٹس میں اپنے خیالات شیئر کریں، آرٹیکل کو شیئر کریں اور تازہ ترین خبریں فوری حاصل کرنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – نوٹیفیکیشنز براہ راست آپ کے موبائل پر!

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے