پاکستان کی سیاست میں مذاکرات، ڈائیلاگ اور پارلیمانی عمل ہمیشہ سے مرکزی اہمیت رکھتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور اور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے موجودہ موقف اور مستقبل کے سیاسی امکانات پر کھل کر بات کی۔ ان کے بیانات نے سیاسی حلقوں میں کافی بحث کو جنم دیا ہے کیونکہ یہ بیانات موجودہ سیاسی ڈیڈ لاک اور ممکنہ راہ نکلنے کے بارے میں واضح اشارے دیتے ہیں۔ رانا ثناء اللّٰہ کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان مذاکرات یا ڈائیلاگ کے حق میں نہیں ہیں اور پی ٹی آئی کو اپنے بعض معاملات میں فوری بہتری لانا ہوگی۔
رانا ثناء کا مرکزی بیان
رانا ثناء اللّٰہ نے واضح طور پر کہا کہ ان کی پی ٹی آئی کے مختلف رہنماؤں سے ملاقاتوں اور بات چیت کے تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کسی بھی قسم کے ڈائیلاگ یا مذاکرات کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کے مطابق جب بھی پی ٹی آئی کے رہنما ان سے ملتے ہیں تو تقریباً ایک ہی بات دہراتے ہیں کہ "بانی پی ٹی آئی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہیں”۔ یہ جملہ بار بار دہرایا جانا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پارٹی کی قیادت میں فی الحال کوئی لچک موجود نہیں ہے۔
تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی رہنما یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر انہیں بانی پی ٹی آئی سے براہ راست ملاقات کا موقع ملے تو وہ انہیں مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر کچھ رہنما ذاتی طور پر ڈائیلاگ کے حق میں ہیں مگر پارٹی کی مرکزی قیادت کا موقف مختلف ہے۔ یہ اندرونی تضاد پی ٹی آئی کی موجودہ سیاسی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔
پارلیمنٹ میں واپسی
رانا ثناء اللّٰہ نے پی ٹی آئی کو براہ راست مشورہ دیا کہ وہ پارلیمنٹ میں واپس آئیں اور اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں فعال نشست حاصل کریں۔ ان کا موقف تھا کہ پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جہاں سے سیاسی مسائل کا حل نکل سکتا ہے۔ احتجاجی سیاست کے بجائے پارلیمانی عمل میں شرکت کو ترجیح دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو کچھ منتخب قومی مسائل پر حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ ایسے معاملات جن پر دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق رائے ممکن ہو، وہاں تعاون سے سیاسی ماحول میں بہتری آ سکتی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے پی ٹی آئی کو تنبیہ کی کہ پارٹی کو اپنے داخلی معاملات میں بھی نمایاں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے۔ پارٹی کے اندر تنظیم نو، فیصلہ سازی کے عمل میں شفافیت اور قیادت کے کردار کو واضح کرنے جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔
8 فروری کی کال اور احتجاج کی ناکامی
رانا ثناء اللّٰہ نے پی ٹی آئی کی موجودہ تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ پارٹی 8 فروری کے الیکشن سے متعلق اپنی پرانی کال واپس لینے کے موڈ میں نہیں ہے۔ احتجاجی تحریکوں اور سڑکوں پر نعرے بازی کی حکمت عملی نے اب تک مطلوبہ نتائج نہیں دیے۔ اس صورتحال میں پارلیمنٹ میں بھرپور شرکت ہی پی ٹی آئی کے لیے سیاسی قوت کا مظاہرہ کرنے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کی ناکامی کے بعد اب پارلیمنٹ ہی وہ جگہ ہے جہاں سے پارٹی اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھا سکتی ہے اور حکومت پر دباؤ ڈال سکتی ہے۔ پارلیمانی عمل میں شرکت سے نہ صرف پارٹی کی سیاسی ساکھ بحال ہو سکتی ہے بلکہ عوام کے سامنے بھی ایک ذمہ دار اپوزیشن کا تاثر پیدا ہو گا۔
محمود خان اچکزئی کا معاملہ اور PML-N کا موقف
گفتگو کے دوران جب محمود خان اچکزئی کا ذکر آیا تو رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ انہیں نواز شریف اور محمود اچکزئی کے درمیان کسی خاص رابطے یا ملاقات کی کوئی ٹھوس اطلاع نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ محمود خان اچکزئی مشکل وقت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ نواز شریف اور شہباز شریف دونوں کے اچکزئی کے بارے میں مثبت تاثرات ہیں اور وہ انہیں قابل اعتماد سیاسی ساتھی سمجھتے ہیں۔
یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ PML-N اپنے روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط رکھنے کی پالیسی پر کاربند ہے اور مستقبل میں بھی اسی لائن پر چل سکتی ہے۔
سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی
رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی بتایا کہ اگلے ہفتے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کا عمل شروع ہو جائے گا۔ یہ قدم پارلیمانی جمہوریت کی بحالی اور اپوزیشن کے کردار کو بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی سے سینیٹ میں اپوزیشن کو رسمی طور پر آواز اٹھانے اور حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے کا موقع ملے گا۔
پاکستان کی سیاسی صورتحال
موجودہ سیاسی منظرنامہ دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ PML-N اور پی ٹی آئی کے درمیان مکمل ڈائیلاگ ابھی دور کی کوڑی ہے۔ تاہم رانا ثناء اللّٰہ کے بیانات سے یہ واضح ہے کہ حکومت کی طرف سے دروازہ کھلا رکھا گیا ہے۔ اگر پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں واپس آ کر کچھ معاملات پر تعاون کرے اور اپنے اندرونی معاملات درست کرے تو آہستہ آہستہ سیاسی ماحول میں بہتری آ سکتی ہے۔
سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ طویل مدتی سیاسی استحکام کے لیے دونوں بڑی جماعتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنے کے بجائے منتخب قومی ایشوز پر تعاون کی ضرورت ہے۔ معاشی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے، خارجہ پالیسی اور صوبائی ہم آہنگی جیسے مسائل ایسے ہیں جہاں اختلاف کے باوجود مشترکہ پالیسی بنائی جا سکتی ہے۔
پی ٹی آئی کے لیے عملی اقدامات کی تجاویز
- پارلیمنٹ اور اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں فوری شرکت یقینی بنائیں
- قومی سطح کے اہم ایشوز پر سلیکٹو تعاون کی پالیسی اپنائیں
- پارٹی کے اندرونی انتخابات اور تنظیم نو کو ترجیح دیں
- احتجاجی سیاست کو محدود کر کے پارلیمانی فورمز کو مضبوط کریں
- عوام سے براہ راست رابطے کے لیے نئی حکمت عملی بنائیں
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال 1: کیا عمران خان واقعی مذاکرات کے خلاف ہیں؟
جواب: رانا ثناء اللّٰہ کے مطابق ہاں، بانی پی ٹی آئی فی الحال ڈائیلاگ کے حق میں نہیں ہیں۔
سوال 2: پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں واپس آنا چاہیے؟
جواب: رانا ثناء اللّٰہ کا واضح مشورہ ہے کہ پارلیمنٹ میں واپسی اور اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں شرکت بہترین راستہ ہے۔
سوال 3: کیا PML-N اور پی ٹی آئی میں کوئی ڈائیلاگ ہو سکتا ہے؟
جواب: اگر پی ٹی آئی کچھ معاملات پر تعاون کرے اور اپنے موقف میں لچک لائے تو مستقبل میں محدود ڈائیلاگ ممکن ہے۔
سوال 4: سینیٹ اپوزیشن لیڈر کی تعیناتی کب ہوگی؟
جواب: اگلے ہفتے سے اس عمل کا آغاز متوقع ہے۔
یہ معلومات عوامی رپورٹس اور میڈیا بیانات پر مبنی ہیں۔ براہ مہربانی کسی بھی سیاسی فیصلے سے پہلے تصدیق کر لیں۔