وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے ملاقات میں دہشت گردی کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان گٹھ جوڑ کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں اور دشمن کی جانب سے دہشت گردوں کو ہر قسم کے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ یہ بیان اسلام آباد میں 16 جنوری 2026 کو سامنے آیا جو پاکستان کی سلامتی اور قومی یکجہتی کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔
شہباز شریف نے زور دیا کہ دہشت گردی کا ناسور دوبارہ سر اٹھا رہا ہے اور اسے 2018 کی طرح مکمل طور پر کچل دیا جائے گا۔ تمام مکتبہ فکر کے جید علماء کی موجودگی کو قومی اتحاد کی علامت قرار دیتے ہوئے مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی اپیل کی۔
شہباز شریف کے بیان کی تفصیلات
وزیراعظم کی گفتگو کے اہم نکات یہ تھے:
- دہشت گردی کا ناسور دوبارہ فعال ہو رہا ہے، 2018 والے دور کی طرح اس کا خاتمہ کیا جائے گا۔
- دہشت گردوں کو پاکستان کی سرحدوں سے باہر نکال کر بحر ہند میں ڈبو دیا جائے گا۔
- افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ کے ٹھوس ثبوت دستیاب ہیں۔
- دشمن عناصر دہشت گردوں کو مالی، عسکری اور لاجسٹک وسائل فراہم کر رہے ہیں۔
- تمام مکاتب فکر کے علماء کی موجودگی خوش آئند ہے، قومی یکجہتی کی آج پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔
- مل جل کر بیٹھنا اور معاملات کا پرامن حل نکالنا ضروری ہے۔
یہ بیان نہ صرف دہشت گردی کے خلاف حکومت کا عزم بلکہ قومی سطح پر اتحاد کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کی موجودہ لہر
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات حالیہ برسوں میں دوبارہ شدت اختیار کر چکے ہیں۔ 2025 میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حملوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ مجموعی طور پر ہزاروں آپریشنز کیے گئے جن میں سیکیورٹی فورسز نے ہزاروں دہشت گردوں کو ختم کیا۔
خیبر پختونخوا، جو افغان سرحد سے ملحق ہے، دہشت گردی کا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ بن چکا ہے۔ یہاں ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں جبکہ بلوچستان میں الگ تھلگ گروہ فعال ہیں۔ ماضی کے مقابلے میں شہری اور فوجی ہلاکتیں 70 فیصد تک بڑھ گئیں۔
یہ اعداد و شمار وزیراعظم کے بیان کی صداقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ دہشت گردی منظم گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے اور اسے روکنے کے لیے جامع حکمت عملی درکار ہے۔
افغان طالبان اور ٹی ٹی پی گٹھ جوڑ
افغان طالبان کی 2021 میں اقتدار میں آمد کے بعد سے پاکستان میں دہشت گردی کی لہر بڑھ گئی۔ ٹی ٹی پی، جو افغان سرحد پار سے آپریشنز چلاتی ہے، کو مبینہ طور پر افغان علاقوں میں پناہ گاہیں مل رہی ہیں۔ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اس گٹھ جوڑ کے ٹھوس ثبوت انٹیلی جنس رپورٹس اور گرفتار دہشت گردوں کے اعترافات سے ملتے ہیں۔
اس گٹھ جوڑ کے اثرات:
- سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی چیلنجز کا اضافہ۔
- اندرونی استحکام پر خطرہ، خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں۔
- معاشی نقصانات، جہاں دہشت گردی کی وجہ سے سرمایہ کاری رک گئی ہے۔
- قومی یکجہتی کی ضرورت، کیونکہ دہشت گردی فرقہ وارانہ رنگ بھی لے رہی ہے۔
2014-2018 کے آپریشنز ضرب عضب اور رد الفساد نے دہشت گردی کو کچل دیا تھا، مگر اب نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
دہشت گردی کے خلاف قومی حکمت عملی
2018 میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب مہم چلائی جس میں فوجی آپریشنز، انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں اور علماء کی مدد سے فتویٰ جاری کیے گئے۔ آج بھی یہی ماڈل دوبارہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کا بیان اسی سمت میں اشارہ کرتا ہے۔
حکومت کی ممکنہ حکمت عملی میں شامل ہو سکتے ہیں:
- سرحدی رکاوٹوں کی مضبوطی اور ڈرون نگرانی کا توسیع۔
- انٹیلی جنس نیٹ ورک کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا۔
- متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی پروگرامز شروع کرکے نوجوانوں کو دہشت گردی سے دور رکھنا۔
- علماء کونسلز کے ذریعے دہشت گردی کی مذہبی توجہیات کا خاتمہ۔
- علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر سفارتی دباؤ، خاص طور پر افغانستان پر۔
قومی پیغام امن کمیٹی کا کردار اہم ہے جو تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر لاتی ہے۔
عوام کا کردار
عوام بھی اس جنگ کا حصہ بن سکتے ہیں۔ عملی اقدامات یہ ہیں:
- مشکوک سرگرمیوں کی فوری رپورٹنگ ہیلپ لائن 199 پر کریں۔
- سوشل میڈیا پر دہشت گرد پروپیگنڈا کی نشاندہی اور بلاک کریں۔
- مقامی علماء اور مساجد سے رابطہ کرکے یکجہتی کی مہم چلائیں۔
- متاثرہ خاندانوں کی مدد کریں اور امن کی تبلیغ کریں۔
- سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر قومی سلامتی کو ترجیح دیں۔
یہ اقدامات دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے میں مدد دیں گے۔
انٹرایکٹو پول
کیا پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف 2018 جیسی سخت کارروائی دوبارہ شروع کرنی چاہیے؟
- ہاں، فوری فوجی آپریشن ضروری ہے
- نہیں، سفارتی اور معاشی دباؤ کافی ہے
- دونوں کا امتزاج بہتر ہے
- دیکھتے ہیں، حکومت کا کیا پلان ہے
اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں اور بحث میں شامل ہوں!
مختصر FAQs
سوال 1: وزیراعظم نے افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: دونوں کے گٹھ جوڑ کے ٹھوس ثبوت ہیں اور دشمن وسائل فراہم کر رہا ہے۔
سوال 2: دہشت گردی کی موجودہ صورتحال کیسی ہے؟
جواب: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حملوں میں اضافہ، ہلاکتیں ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر۔
سوال 3: 2018 کا حوالہ کیوں دیا گیا؟
جواب: تب دہشت گردی کو کچل دیا گیا تھا، اب اسی طرح کا عزم ظاہر کیا گیا۔
سوال 4: قومی پیغام امن کمیٹی کا مقصد کیا ہے؟
جواب: تمام مکاتب فکر کے علماء کو اکٹھا کرکے دہشت گردی کے خلاف فتوٰیٰ اور یکجہتی پیدا کرنا۔
سوال 5: عوام کیا کر سکتے ہیں؟
جواب: مشکوک سرگرمیاں رپورٹ کریں، یکجہتی کی مہم چلائیں اور امن کی تبلیغ کریں۔
متعلقہ خبروں اور سلامتی تجزیوں پر مزید پڑھیں اور اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔ کیا آپ شہباز شریف کے بیان سے متفق ہیں؟ آرٹیکل کو شیئر کریں تاکہ افغان طالبان ٹی ٹی پی گٹھ، دہشت گردی پاکستان اور قومی یکجہتی کی حقیقت زیادہ لوگوں تک پہنچے۔
ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں تاکہ تازہ ترین سیاسی بیانات، دہشت گردی کی اپڈیٹس اور قومی سلامتی کے تجزیوں کی براہ راست اطلاع ملتی رہے۔ بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور ابھی جوائن ہو جائیں – پاکستان کی سلامتی سے جڑے رہنے کا سب سے تیز اور قابل اعتماد ذریعہ!
ڈس کلیمر: The provided information is published through public reports. Please confirm all discussed information before taking any steps.