وفاقی حکومت کے اہم رکن اور وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت اور بالخصوص وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے طرزِ حکمرانی پر کڑی تنقید کی ہے۔ جہلم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب خیبرپختونخوا دہشت گردی، بے روزگاری اور بنیادی سہولتوں کے بحران سے دوچار ہے تو وزیراعلیٰ کا دیگر صوبوں کے سیاسی دوروں پر جانا کہاں کی دانشمندی ہے؟ ان کے مطابق اصل نقصان خیبرپختونخوا کے عوام کو ہو رہا ہے، جن کے مسائل پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔
جہلم کا دورہ اور الیکٹرک بس میں عوام کے ساتھ سفر
بلال اظہر کیانی نے اپنے انتخابی حلقے جہلم کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے:
- الیکٹرک بس میں عام شہریوں کے ساتھ سفر کیا
- خود ٹکٹ خرید کر سفری نظام کا جائزہ لیا
- خواتین سے سفری سہولتوں سے متعلق براہِ راست گفتگو کی
ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی منصوبے کی کامیابی جانچنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ عوام کے درمیان جا کر اس کا عملی تجربہ کیا جائے۔
الیکٹرک بس سروس
وزیر مملکت کے مطابق:
- جہلم میں الیکٹرک بس سروس کامیابی سے جاری ہے
- مسافروں نے سروس کے معیار کو سراہا
- خواتین اور بزرگ شہریوں کے لیے سہولت میں نمایاں بہتری آئی
انہوں نے اعلان کیا کہ:
- بسوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا
- نئے روٹس متعارف کرائے جائیں گے
- پبلک ٹرانسپورٹ کو مزید سستا اور مؤثر بنایا جائے گا
ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرک بس اور کیتھ لیب دونوں وعدے عوام سے کیے گئے تھے، جو اب پورے ہو چکے ہیں۔
خیبرپختونخوا کی حکومت پر براہِ راست تنقید
میڈیا سے گفتگو میں بلال کیانی نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا:
- وزیراعلیٰ اپنے صوبے میں کام کرنے کے بجائے دیگر صوبوں کے دورے کر رہے ہیں
- خیبرپختونخوا میں عوامی مسائل جوں کے توں ہیں
- پہیہ جام کی سیاست سے صوبے کے عوام کو نقصان پہنچ رہا ہے
ان کا کہنا تھا:
“خیبرپختونخوا کے عوام کا کیا قصور ہے کہ انہیں ایسی حکومت ملی جو ان کی خدمت کے بجائے سیاسی تماشے دکھا رہی ہے؟”
پرامن احتجاج اور پی ٹی آئی
وزیر مملکت نے واضح کیا کہ:
- پرامن احتجاج ایک آئینی حق ہے
- مگر پی ٹی آئی کا طرزِ عمل پرامن احتجاج کے زمرے میں نہیں آتا
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی سندھ میں پہیہ جام کرنے کے بجائے:
- پشاور میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات کریں
- پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط بنائیں
- عوام کی جان و مال کے تحفظ کو ترجیح دیں
دہشت گردی کے معاملے پر سخت مؤقف
بلال اظہر کیانی نے پی ٹی آئی پر الزام عائد کیا کہ:
- یہ جماعت دہشت گرد کو دہشت گرد کہنے سے کتراتی ہے
- دہشت گردی کے خلاف قومی جنگ میں عملی کردار ادا نہیں کرتی
- مذاکراتی عمل میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے
ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے:
- قومی مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کیا
- سیاسی مفادات کو قومی سلامتی پر ترجیح دی
مذاکرات، پارلیمنٹ اور پی ٹی آئی کا کردار
وزیر مملکت نے یاد دلایا کہ:
- گزشتہ سال اسپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں مذاکرات شروع ہوئے
- پی ٹی آئی بات چیت کے دوران خود اٹھ کر چلی گئی
ان کا کہنا تھا کہ:
- پارلیمنٹ کے فلور سے بہتر مذاکراتی فورم کوئی نہیں
- پی ٹی آئی نے سنجیدہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں دکھائی
فلسطین اور قومی سلامتی پر پی ٹی آئی کی غیر حاضری
بلال کیانی نے مزید کہا کہ:
- فلسطین کے معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی گئی
- پی ٹی آئی نے شرکت نہیں کی
اسی طرح:
- پہلگام واقعے کے بعد سیکیورٹی بریفنگ ہوئی
- اپوزیشن ہونے کے باوجود پی ٹی آئی شریک نہیں ہوئی
ان کے مطابق سوال کرنا اپوزیشن کا بنیادی کام ہوتا ہے، مگر پی ٹی آئی اس ذمہ داری سے بھی گریز کر رہی ہے۔
تقابلی جائزہ: پنجاب بمقابلہ خیبرپختونخوا
بلال کیانی کے مطابق:
- پنجاب میں صحت، سفر اور انفراسٹرکچر میں بہتری آئی
- جہلم جیسے شہروں میں بھی جدید سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں
جبکہ خیبرپختونخوا میں:
- دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ
- ترقیاتی منصوبوں کی سست روی
- سیاسی احتجاج کو حکمرانی پر فوقیت
یہ تقابل عوام کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اصل خدمت کہاں ہو رہی ہے۔
پول
آپ کے خیال میں خیبرپختونخوا کے عوامی مسائل کی بڑی وجہ کیا ہے؟
A. صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی
B. سیاسی احتجاج اور پہیہ جام
C. دہشت گردی کے خلاف کمزور حکمت عملی
D. تمام عوامل
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال 1: بلال اظہر کیانی نے کس بات پر تنقید کی؟
جواب: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دیگر صوبوں کے دوروں پر۔
سوال 2: انہوں نے جہلم میں کیا سرگرمی کی؟
جواب: الیکٹرک بس میں عوام کے ساتھ سفر کیا۔
سوال 3: الیکٹرک بس سروس کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: معیار کو سراہا اور توسیع کا اعلان کیا۔
سوال 4: دہشت گردی کے حوالے سے پی ٹی آئی پر کیا الزام لگایا؟
جواب: دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف نہ اپنانا۔
سوال 5: مذاکراتی عمل سے متعلق کیا کہا گیا؟
جواب: پی ٹی آئی نے پارلیمانی مذاکرات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔
نتیجہ
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کا بیان ملکی سیاست میں ایک واضح تقسیم کو اجاگر کرتا ہے۔ ایک جانب وہ ترقیاتی منصوبوں، عوامی سہولتوں اور پارلیمانی سیاست کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب خیبرپختونخوا کی حکومت پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ عوامی خدمت کے بجائے احتجاجی سیاست میں مصروف ہے۔ یہ صورتحال آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا سکتی ہے۔
کال ٹو ایکشن (CTA)
ملک کی اہم سیاسی خبریں، حکومتی بیانات اور عوامی مفاد سے جڑی تازہ ترین اپڈیٹس سب سے پہلے حاصل کرنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں جانب موجود فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں اور مستند خبریں براہِ راست اپنے موبائل پر پائیں۔
اس خبر پر اپنی رائے کمنٹس میں دیں اور اسے شیئر کریں۔
Disclaimer (English):
This information is based on public reports. Please verify all details from official sources before taking any action.