بانجھ پن کے علاج میں بڑی کامیابی: سائنسدانوں نے بچوں کی پیدائش کے راز جاننے کیلئے ’چپ‘ بنا ڈالی

Baby

چینی اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف زولوجی کی قیادت میں ایک بین الاقوامی ٹیم نے دنیا کی پہلی منی وومب آن اے چپ تیار کی ہے۔ یہ جدید 3D مائیکرو فلوئیڈک چپ انسانی رحم کی دیوار کی نقل کرتی ہے اور جنین کے امپلانٹیشن کے عمل کو لیبارٹری میں مکمل طور پر دہراتے ہوئے دیکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ یہ تحقیق بانجھ پن کی وجوہات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ نئے علاج کے امکانات کھول رہی ہے۔ یہ ایجاد بانجھ پن میں نئی کامیابی کی طرف ایک اہم قدم ہے اور بچوں کی پیدائش کے راز کو کھولنے میں مدد دے گی۔

حمل کے ابتدائی مراحل اور امپلانٹیشن کا عمل

حمل کا آغاز ایک ننھے جنین سے ہوتا ہے جسے بلاسٹوسسٹ کہا جاتا ہے۔ یہ جنین ماں کے رحم کی دیوار سے چپک کر امپلانٹ ہوتا ہے، جو حمل کی کامیابی کا سب سے اہم مرحلہ ہے۔ اس عمل کو سائنس کی زبان میں امپلانٹیشن کہتے ہیں۔ پہلے یہ عمل انسانی جسم کے اندر ہونے کی وجہ سے مشاہدہ کرنا ناممکن تھا، جس سے بانجھ پن اور اسقاط حمل کی بہت سی وجوہات پر پردہ پڑا رہتا تھا۔

اب چینی سائنسدانوں کی ٹیم نے ایک ایسی چپ تیار کی ہے جو انسانی اینڈومیٹریل ٹشو کی 3D نقل بناتی ہے۔ اس چپ پر حقیقی انسانی جنین یا لیبارٹری میں تیار کردہ بلاسٹوئیڈز رکھ کر امپلانٹیشن کا پورا عمل دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ چپ مائیکرو فلوئیڈک چینلز کی مدد سے غذائی اجزا اور آکسیجن فراہم کرتی ہے، جس سے جنین دیوار میں گھس کر پلاسنٹا کی ابتدائی ساخت بناتا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ سائنسدانوں کو جنین کی "انویژن” یعنی رحم کی دیوار میں گھسنے کا عمل مکمل طور پر دیکھنے کا موقع ملا ہے۔

منی وومب چپ کیسے کام کرتی ہے؟

یہ چپ ایک چھوٹے سے پلاسٹک ڈیوائس کی شکل میں ہے جس میں انسانی رحم کی لائننگ کی نقل تیار کی جاتی ہے۔ سائنسدان مریضہ کے رحم سے حاصل کردہ ٹشو کو استعمال کر کے یہ لائننگ بناتے ہیں۔ پھر اس پر بلاسٹوسسٹ یا بلاسٹوئیڈز رکھے جاتے ہیں۔ مائیکروسکوپ کی مدد سے دیکھا جاتا ہے کہ جنین کیسے دیوار سے چپکتا ہے، کیسے گھستا ہے اور کیسے پلاسنٹا کی ابتدائی جڑیں بنتی ہیں۔

اہم خصوصیات:

  • اخلاقی مسائل سے بچاؤ کے لیے زیادہ تر تجربات بلاسٹوئیڈز پر کیے جاتے ہیں، جو سٹیم سیلز سے بنائے جاتے ہیں۔
  • چپ پر ہزاروں FDA منظور شدہ ادویات کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے تاکہ امپلانٹیشن بہتر کرنے والی دوائیں تلاش کی جائیں۔
  • یہ ماڈل ذاتی نوعیت کا ہے، یعنی ہر مریضہ کے ٹشو سے الگ چپ بنائی جا سکتی ہے۔

تحقیق میں دیکھا گیا کہ بانجھ پن کا شکار خواتین کے ٹشو سے بنی چپ پر بلاسٹوئیڈز کی امپلانٹیشن کی صلاحیت کم ہوتی ہے، جو مسئلے کی درست نشاندہی کرتی ہے۔

بانجھ پن کے علاج میں ممکنہ فوائد

دنیا بھر میں ہر چھ میں سے ایک جوڑا بانجھ پن کا شکار ہے۔ پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں بھی یہ شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بانجھ پن کی بہت سی وجوہات میں امپلانٹیشن کی ناکامی سب سے اہم ہے، خاص طور پر IVF کے بار بار ناکام ہونے والے کیسز میں۔

یہ چپ کس طرح مدد دے گی؟

  • ڈاکٹرز مریضہ کے رحم کے ٹشو سے چپ بنا کر دیکھ سکیں گے کہ امپلانٹیشن کیوں ناکام ہو رہی ہے۔
  • نئی ادویات اور تھراپیز تیار کی جا سکیں گی جو امپلانٹیشن کو بہتر بنائیں۔
  • IVF کی کامیابی کی شرح بڑھ سکتی ہے، جو فی الحال 30-40 فیصد کے قریب ہے۔
  • بار بار اسقاط حمل یا ریکرنٹ امپلانٹیشن فیلئر کی وجوہات کا پتہ چل سکے گا۔
  • مستقبل میں ذاتی علاج ممکن ہو گا، یعنی ہر مریضہ کے لیے الگ تھراپی۔

یہ سائنسی تحقیق بانجھ پن کیلئے نئی ٹیکنالوجی کا آغاز ہے اور لاکھوں جوڑوں کو ماں باپ بننے کی نئی امید دے رہی ہے۔

موجودہ حدود اور مستقبل کے امکانات

اگرچہ یہ چپ ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن یہ ابھی مکمل انسانی رحم کی نقل نہیں ہے۔ اس میں خون کی نالیاں، پلاسنٹا کی مکمل ساخت اور مدافعتی نظام شامل نہیں، جو حمل کی کامیابی کے لیے ضروری ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ ماڈل ابتدائی مراحل تک محدود ہے اور مکمل حمل کی نشوونما ابھی ممکن نہیں۔

مستقبل میں اس ٹیکنالوجی کو بہتر بنا کر خون کی سپلائی اور مدافعتی خلیوں کو شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف بانجھ پن بلکہ قبل از وقت پیدائش اور جینیاتی امراض کی تحقیق میں بھی مدد دے گی۔ اخلاقی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، حقیقی جنین کا استعمال محدود رکھا گیا ہے اور بلاسٹوئیڈز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

یہ منی وومب چپ کیا ہے؟

یہ ایک لیبارٹری ڈیوائس ہے جو انسانی رحم کی دیوار کی 3D نقل بناتی ہے اور جنین کے امپلانٹیشن کو دیکھنے کی اجازت دیتی ہے۔

کیا اس سے مکمل حمل ممکن ہو گا؟

نہیں، یہ صرف ابتدائی امپلانٹیشن کے مرحلے تک محدود ہے۔ مکمل حمل ابھی سائنس فکشن ہے۔

بانجھ پن کے مریضوں کو کیسے فائدہ ہو گا؟

یہ وجوہات کا پتہ لگانے اور نئی ادویات تیار کرنے میں مدد دے گی، جس سے IVF کی کامیابی بڑھ سکتی ہے۔

کیا یہ اخلاقی طور پر درست ہے؟

ہاں، زیادہ تر تجربات بلاسٹوئیڈز پر کیے جاتے ہیں۔ حقیقی جنین کا استعمال محدود اور رضامندی سے ہوتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی کب عام استعمال میں آئے گی؟

ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہے، کلینکل استعمال میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

IVF سے یہ کیسے مختلف ہے؟

IVF جنین بناتا ہے لیکن امپلانٹیشن جسم میں ہوتا ہے۔ یہ چپ امپلانٹیشن کو لیب میں دیکھنے کی سہولت دیتی ہے۔

یہ ایجاد سائنسی تحقیق بانجھ پن کی جدید تحقیق کی طرف ایک انقلاب ہے۔ بانجھ پن کا علاج اب مزید موثر اور ذاتی ہو سکتا ہے، جو کروڑوں جوڑوں کی زندگی بدل دے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں: کیا یہ ٹیکنالوجی بانجھ پن کا مستقل حل بن سکتی ہے؟ کمنٹس میں بتائیں اور آرٹیکل شیئر کریں!

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں: تازہ ترین سائنسی خبروں، صحت کے ٹپس اور دلچسپ اپ ڈیٹس کیلئے ابھی ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں۔ روزانہ نوٹیفیکیشنز حاصل کریں اور کبھی کوئی اہم خبر miss نہ کریں – یہ آسان اور مفت ہے!

نوٹ: یہ معلومات عوامی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ صحت سے متعلق کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے