وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے حالیہ پریس کانفرنس میں ملکی سلامتی، سیاسی صورتحال، معاشی بحالی اور سفارتی محاذ پر حکومت کی کارکردگی پر تفصیلی مؤقف پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا حکومت پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی سہولت کاری کا سنگین الزام عائد کیا، جس نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ عطا تارڑ کے بیانات نہ صرف قومی سلامتی سے جڑے اہم سوالات کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ صوبائی گورننس اور سیاسی ذمہ داریوں پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔
عطا تارڑ کا بیان
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق 2025 پاکستان کے لیے ہر لحاظ سے ایک اہم اور کامیاب سال ثابت ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں اور دشمن کے عزائم کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا۔ عطا تارڑ نے کہا کہ پاک فوج نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو شکست دی، جو ریاستی دفاعی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاک فضائیہ کی کارکردگی عالمی سطح پر تسلیم کی گئی اور دشمن کے جنگی طیارے مار گرانا دفاعی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابیاں محض دعوے نہیں بلکہ پیشہ ورانہ مہارت، جدید حکمت عملی اور مضبوط قیادت کا نتیجہ ہیں۔
قومی سلامتی اور دفاعی بیانیہ
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے نہ صرف سرحدوں کا دفاع کیا بلکہ ملکی خودمختاری کو درپیش خطرات کا بروقت اور مؤثر جواب دیا۔ ان کے مطابق قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
یہ بیان ایک واضح پیغام دیتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا اور کسی بھی تنظیم یا گروہ کو ریاستی رٹ چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
معاشی بحالی اور ڈیفالٹ سے بچاؤ
وفاقی وزیر اطلاعات نے معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اور سخت فیصلے نہ کیے جاتے تو ملک ڈیفالٹ کی طرف جا سکتا تھا، جس کے نتیجے میں شدید معاشی افراتفری پیدا ہو جاتی۔ ان کے مطابق حکومتی پالیسیوں کی بدولت معیشت کو استحکام ملا اور مالیاتی نظم و ضبط بحال ہوا۔
انہوں نے کہا کہ تاجروں، سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کا حکومت پر اعتماد بحال ہوا ہے، جو معاشی بحالی کی ایک مثبت علامت ہے۔ ان کے بقول کاروباری سرگرمیوں میں بہتری اور سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافہ حکومتی اقدامات کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔
سفارتی سطح پر پاکستان کی پوزیشن
عطا تارڑ نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم موجودہ حکومت کی سنجیدہ اور متوازن خارجہ پالیسی کے باعث پاکستان عالمی سطح پر دوبارہ مؤثر انداز میں اپنا مؤقف پیش کر رہا ہے۔
ان کے مطابق عالمی برادری میں پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر ابھر رہا ہے اور بین الاقوامی تعلقات میں بہتری اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی ادارے اور قیادت ایک واضح سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت پر گورننس کے سوالات
وفاقی وزیر اطلاعات نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں گورننس بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے پاس عوامی مسائل حل کرنے کے لیے کوئی واضح روڈ میپ موجود نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا صوبے کے اندر اصلاحات اور بہتری لانے کے بجائے دوسرے صوبوں کے دوروں میں مصروف ہیں، جو عوامی ترجیحات سے لاعلمی کا ثبوت ہے۔ عطا تارڑ کے مطابق عوام نے جن امیدوں کے ساتھ ووٹ دیا تھا، وہ پوری نہیں کی جا سکیں۔
خواتین کے خلاف بیانات کی شدید مذمت
عطا تارڑ نے خواتین کے خلاف نازیبا زبان اور تضحیک آمیز رویے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں خواتین کے خلاف طعنہ زنی اور خاص طور پر عظمیٰ بخاری کے بارے میں استعمال کیے گئے الفاظ قابلِ افسوس ہیں۔
ان کے مطابق خواتین کو نشانہ بنانا بزدلی کی علامت ہے اور ایک کمزور ذہنیت کا مظہر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہذب معاشروں میں اختلافِ رائے کا اظہار شائستگی اور اخلاقی حدود میں رہ کر کیا جاتا ہے۔
پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی تعلقات پر سنگین الزام
وفاقی وزیر اطلاعات کا سب سے سخت مؤقف پی ٹی آئی اور کالعدم ٹی ٹی پی کے تعلقات سے متعلق تھا۔ عطا تارڑ نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی کا سیاسی ونگ بن چکی ہے، اسی لیے اس جماعت کے ترجمان ٹی ٹی پی کی مذمت کرنے سے گھبراتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کی دشمن تنظیم ہے اور جو بھی اس کے خلاف واضح مؤقف اختیار نہیں کرتا، وہ دراصل قومی مفاد کے خلاف کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور دشمن عناصر کو مکمل طور پر ختم کیا جائے گا۔
سیاسی ذمہ داری اور قومی مفاد
عطا تارڑ کے مطابق سیاست میں اختلاف ہو سکتا ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملات پر تمام جماعتوں کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے پر خاموشی یا ابہام ناقابلِ قبول ہے۔
ان کے بقول قومی مفاد سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے اور عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے نمائندوں سے واضح اور دوٹوک مؤقف کی توقع کریں۔
مختصر سوالات و جوابات (FAQs)
سوال 1: عطا تارڑ نے پی ٹی آئی پر کیا الزام عائد کیا؟
جواب: انہوں نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی، ٹی ٹی پی کا سیاسی ونگ ہے۔
سوال 2: عطا تارڑ کے مطابق 2025 کیوں اہم سال تھا؟
جواب: دفاعی کامیابیوں، معاشی بحالی اور سفارتی پیش رفت کی وجہ سے۔
سوال 3: خیبرپختونخوا حکومت پر کیا تنقید کی گئی؟
جواب: گورننس کی ناکامی اور واضح روڈ میپ نہ ہونے پر۔
سوال 4: خواتین سے متعلق عطا تارڑ کا مؤقف کیا تھا؟
جواب: خواتین کو نشانہ بنانا بزدلی قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔
سوال 5: حکومت کا دہشت گردی سے متعلق مؤقف کیا ہے؟
جواب: دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس اور دشمن عناصر کے مکمل خاتمے کا عزم۔
Disclaimer : This information is based on publicly reported statements. Readers are advised to independently verify all details before taking any action.