راولپنڈی پولیس نے تھانہ واہ کینٹ کی حدود میں پیش آنے والے ایک سنگین واقعے کا فوری نوٹس لیا ہے۔ سی پی او راولپنڈی سید خالد ہمدانی کی ہدایات پر مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔ یہ واردات غیرت کے نام پر قتل کی ایک اور مثال ہے جو معاشرے میں موجود گہرے سماجی مسائل کی سنگینی کو عیاں کرتی ہے۔
واقعے کی مکمل تفصیلات
مقتولہ سمیرہ عزیز قطر میں اپنے شوہر سلیمان کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔ ایک ہفتہ قبل وہ اپنے چچا شوکت اور فیصل کے ہمراہ پاکستان واپس آئیں۔ یہ افسوسناک واقعہ دسمبر 2025 کی آخری شبوں میں تھانہ واہ کینٹ کے علاقے لالہ زار کالونی میں والد کے گھر پیش آیا۔
مقتولہ کی بہن ثناء خان کے بیان پر درج مقدمے میں تفصیلات یہ ہیں کہ:
- شام کے وقت ملزمان ولید، اسرار اور صابر گھر میں داخل ہوئے۔
- انہوں نے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مشورہ کیا۔
- قطر سے شوہر سلیمان کی ویڈیو کال آئی جس میں واضح احکامات دیے گئے کہ سمیرہ کو "ٹھکانے لگا دیا جائے”۔
- اس کے فوراً بعد ولید اور اسرار نے پستول نکال کر سمیرہ عزیز پر متعدد فائر کھول دیے۔
- گولیاں جسم کے مختلف حصوں میں لگیں اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئیں۔
- فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے جبکہ چچا شوکت اور فیصل نعش کو گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے گئے۔
پولیس نے مقدمہ قتل، غیرت کے نام پر قتل اور اعانت جرم کی دفعات کے تحت درج کر لیا ہے۔ نامزد ملزمان میں ولید، اسرار، صابر، شوہر سلیمان، چچا امتیاز، شوکت اور فیصل شامل ہیں۔ جنوری 2026 تک پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔
کیس کی تازہ ترین صورتحال
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، واہ کینٹ پولیس ابھی تک نامزد ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی۔ یہ کیس راولپنڈی قتل کیس کے طور پر میڈیا میں زیر بحث رہا، اور جنوری 2026 کے آغاز میں بھی تفتیش جاری ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مقیم ملزمان کی گرفتاری کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
غیرت کے نام پر قتل: پاکستان میں ایک سنگین سماجی مسئلہ
پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات بدستور ایک بڑا چیلنج ہیں۔ ہر سال سینکڑوں خواتین اس جرم کا شکار ہوتی ہیں۔ پنجاب اور سندھ میں سب سے زیادہ کیسز سامنے آتے ہیں۔
یہ جرائم اکثر خاندانی جرگوں، مبینہ "عزت” کی بحالی اور روایتی دباؤ کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ عام محرکات میں شامل ہیں:
- شادی کی مرضی کا استعمال
- طلاق کا مطالبہ
- مبینہ غیر اخلاقی تعلقات کا شبہ
- سوشل میڈیا استعمال یا جدید لباس
2016 میں قانون میں ترمیم کے بعد غیرت کے نام پر قتل کو ناقابل معافی جرم قرار دیا گیا، لیکن عملی طور پر خاندان کی معافی یا ناقص تفتیش کی وجہ سے ملزمان اکثر بچ نکلتے ہیں۔
راولپنڈی جیسے شہری علاقوں میں بھی یہ واقعات پیش آ رہے ہیں، جو بتاتے ہیں کہ مسئلہ صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ملوث ہونا ایک نیا رجحان ہے، جہاں ویڈیو کالز اور سوشل میڈیا کے ذریعے احکامات دیے جاتے ہیں۔
اس مسئلے کی جڑیں اور ممکنہ حل
غیرت کے نام پر قتل کی جڑیں گہری patriarchal سوچ، جرگہ نظام اور جنسی مساوات کی کمی میں ہیں۔ معاشرے میں خواتین کو "عزت” کا نشان سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی ذاتی آزادیوں پر پابندی لگائی جاتی ہے۔
ممکنہ حل میں شامل ہیں:
- قانون کی سخت نفاذ اور پولیس کی تربیت
- سکولوں اور میڈیا کے ذریعے شعور بیداری مہمات
- خواتین کے لیے تحفظ مراکز کا قیام
- جرگوں پر مکمل پابندی
- سوشل میڈیا پر ایسے جرائم کی رپورٹنگ کو فروغ دینا
اگر معاشرتی تبدیلی نہ آئی تو یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
غیرت کے نام پر قتل کیا ہے؟
یہ وہ قتل ہے جو خاندان کی مبینہ "عزت” بحال کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، اغلباً خواتین کو شبہ کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
پاکستان میں اس کے خلاف قوانین کیا ہیں؟
دفعہ 302 قتل، 311 فساد فی الارض اور 2016 کی ترمیم کے تحت ناقابل معافی جرم۔ لیکن معافی کا آپشن اب بھی مسائل پیدا کرتا ہے۔
ایسے واقعات سے بچاؤ کیسے ممکن ہے؟
خاندانی دباؤ کی بجائے قانونی مدد لیں۔ خواتین ہیلپ لائنز جیسے 15، 1043 یا ویمن پروٹیکشن سینٹرز سے رابطہ کریں۔
کیس میں ملزمان کی گرفتاری کیوں نہیں ہو رہی؟
کچھ ملزمان بیرون ملک ہیں، پولیس چھاپے مار رہی ہے۔
معاشرے کا کردار کیا ہے؟
شعور بیداری اور روایتی سوچ کو چیلنج کرنا ضروری ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تعلیم اسے روک سکتی ہے؟
اپنی رائے کا اظہار کریں، شیئر کریں اور مزید خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں! بائیں طرف floating WhatsApp بٹن پر کلک کر کے نوٹیفیکیشنز آن کریں – تازہ ترین اپ ڈیٹس براہ راست آپ کے فون پر!