پاکستانی سکیورٹی فورسز کے پیچھے پاکستانی پولیٹکل فورسز یک زبان نہیں: طلال چوہدری کا اہم بیان

طلال چوہدری

وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے جیو نیوز کے پروگرام "آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں شرکت کی۔ اس انٹرویو میں انہوں نے پاکستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالی اور سیاسی قوتوں کی عدم اتحاد کی طرف اشارہ کیا۔ طلال چوہدری پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما ہیں اور وزارت داخلہ میں کلیدی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ ان کا بیان موجودہ سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں خاصا اہم ہے۔

طلال چوہدری کے بیان کی تفصیلات

طلال چوہدری نے واضح طور پر کہا کہ اس وقت پاکستانی سکیورٹی فورسز کے پیچھے پاکستانی سیاسی قوتیں یک زبان نہیں ہیں۔ ان کے مطابق، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا فرق تحریک انصاف (PTI) اور اس کی خیبر پختونخوا حکومت ڈال رہی ہے۔

انہوں نے مثال دی کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور NFC ایوارڈ کی میٹنگوں میں تو پیسے لینے کے لیے حاضر ہوتے ہیں، لیکن وزیراعظم کی سربراہی میں دہشت گردی کے حوالے سے ہونے والی اہم میٹنگوں میں کبھی شرکت نہیں کرتے۔ یہ رویہ قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔

طلال چوہدری نے انکشاف کیا کہ عوامی سطح پر بات کرنے سے پہلے پس پردہ کئی کوششیں کی گئیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر سیاسی اتفاق رائے پیدا ہو سکے، مگر یہ کوششیں ناکام رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو ہدایات دیں کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں لڑیں گے، ورنہ وہ بھی ANP، PPP، PML-N اور JUI-F جیسی پارٹیوں کی طرح ختم ہو جائیں گے۔

انہوں نے یہ بیانیہ PTI کے بانی عمران خان سے جوڑا اور کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ جتنی ریاست دباؤ میں اور منتشر رہے گی، اتنا ہی انہیں سیاسی فائدہ ہوگا۔ یہ بیانات پاکستان کی سیاست اور سکیورٹی کے تناظر میں انتہائی اہم ہیں، جہاں سیاسی اختلافات پاکستان کی وجہ سے سکیورٹی فورسز پر سیاست ہو رہی ہے۔

2025 میں پاکستان کی دہشت گردی کی صورتحال: اعدادوشمار اور حقائق

2025 پاکستان کے لیے دہشت گردی کے لحاظ سے ایک انتہائی مشکل سال ثابت ہوا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق، ملک میں دہشت گرد حملوں میں 25 سے 34 فیصد تک اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز (PIPS) کی رپورٹ کے مطابق، 699 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں 1,034 افراد ہلاک اور 1,366 زخمی ہوئے۔

DG ISPR لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جنوری 2026 میں پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ 2025 میں کل 5,397 دہشت گرد واقعات ہوئے، جن میں سے 71 فیصد (3,811) خیبر پختونخوا میں اور 29 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔ اس سال 75,175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے، جن میں 2,597 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

DG ISPR نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی زیادہ تعداد کی وجہ سیاسی ماحول ہے جو دہشت گردوں کے لیے سازگار ہے۔ انہوں نے سیاسی-دہشت گرد نیکسس کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ ماحول ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔

  • خیبر پختونخوا کا کردار — 71-80 فیصد حملے یہاں ہوئے، سیاسی عدم دلچسپی کی وجہ سے۔
  • سکیورٹی فورسز کی قربانیاں — 1,235 اہلکار اور شہری شہید ہوئے۔
  • دہشت گردوں کی ہلاکتیں — ریکارڈ 2,597 دہشت گرد مارے گئے، جو ایک دہائی کی بلند ترین سطح ہے۔

یہ سیاسی اختلافات پاکستان قومی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

سکیورٹی فورسز پر سیاست: ایک گہرا چیلنج

پاکستان میں سکیورٹی فورسز پر سیاست ایک پرانا مسئلہ ہے، مگر 2025 میں یہ مزید سنگین ہو گیا۔ طلال چوہدری جیسے رہنماوں کا کہنا ہے کہ بعض سیاسی قوتیں دہشت گردی کے خلاف متحد نہیں، جو سکیورٹی فورسز کی قربانیوں پر سوالیہ نشان لگاتا ہے۔

DG ISPR نے بھی خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید کی کہ وہ سکیورٹی میٹنگز میں شرکت نہیں کرتی اور سیاسی فائدے کے لیے ریاست کو کمزور کر رہی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف انسداد دہشت گردی مہم کو متاثر کر رہی ہے بلکہ قومی اتحاد کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔ اگر سیاسی قوتیں متحد نہ ہوئیں تو سکیورٹی فورسز کی قربانیاں ضائع ہو سکتی ہیں۔

سیاسی اختلافات اور قومی سلامتی پر اثرات

پاکستان کی سیاست اور سکیورٹی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ 2025 میں دیکھا گیا کہ سیاسی بیانیے دہشت گردوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ طلال چوہدری نے PTI پر الزام لگایا کہ ان کا بیانیہ ریاست کو منتشر کرنے کا ہے۔

دوسری طرف، سکیورٹی ادارے مسلسل آپریشنز کر رہے ہیں، مگر سیاسی حمایت نہ ہونے سے چیلنجز بڑھ رہے ہیں۔ یہ اختلافات نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک کی سلامتی کو متاثر کر رہے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق، پس پردہ کوششیں جاری ہیں کہ تمام سیاسی قوتیں دہشت گردی کے خلاف ایک صفحے پر آئیں۔

نتیجہ: قومی اتحاد کی ضرورت

طلال چوہدری کا بیان ایک یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیاسی اتحاد ناگزیر ہے۔ 2025 کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے ریکارڈ کارکردگی دکھائی، مگر سیاسی عدم اتحاد رکاوٹ بن رہا ہے۔

اگر تمام پاکستانی سیاسی قوتیں اور پاکستانی سکیورٹی فورسز ایک ہو جائیں تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاست کو سکیورٹی سے بالاتر نہ سمجھا جائے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

طلال چوہدری کا بیان کس پروگرام میں دیا گیا؟

جیو نیوز کے پروگرام "آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ” میں۔

2025 میں پاکستان میں کتنے دہشت گرد حملے ہوئے؟

مختلف رپورٹس کے مطابق 699 سے 5,397 تک، جن میں سے زیادہ تر خیبر پختونخوا میں۔

DG ISPR نے خیبر پختونخوا کے بارے میں کیا کہا؟

71 فیصد حملے یہاں ہوئے کیونکہ سیاسی ماحول دہشت گردوں کے لیے سازگار ہے۔

سکیورٹی فورسز نے 2025 میں کتنے دہشت گرد ہلاک کیے؟

2,597 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

کیا سیاسی اتفاق رائے ممکن ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے، مگر موجودہ اختلافات رکاوٹ ہیں۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

سیاسی عدم اتحاد اور بعض قوتوں کا بیانیہ جو ریاست کو کمزور کرتا ہے۔

خیبر پختونخوا حکومت کا کردار کیا رہا؟

NFC میٹنگز میں شرکت مگر سکیورٹی میٹنگز سے غیر حاضری، جو تنقید کا باعث بنی۔

2025 میں خودکش حملے کتنے ہوئے؟

27 خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے۔

آپ کا خیال کیا ہے؟ کیا سیاسی قوتیں دہشت گردی کے خلاف متحد ہو سکتی ہیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور شیئر کریں، آرٹیکل کو دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں۔ بائیں طرف floating WhatsApp بٹن پر کلک کرکے نوٹیفیکیشنز آن کریں – یہ آپ کو ہر اہم اپ ڈیٹ بروقت فراہم کرے گا، آسان اور قابل اعتماد!

Disclaimer: The provided information is based on public reports; please verify all discussed details independently before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے