پاکستان کی شوبز انڈسٹری کی سینئر اور معتبر اداکارہ صبا فیصل کئی دہائیوں سے ٹیلی ویژن ڈراموں اور مختلف پروگرامز میں اپنا لوہا منوا چکی ہیں۔ وہ نہ صرف اداکاری میں مہارت رکھتی ہیں بلکہ اکثر مارننگ شوز اور ٹاک شوز میں شرکت کر کے گھریلو زندگی، شادی بیاہ اور خاندانی معاملات پر کھل کر بات کرتی ہیں۔ ان کی گفتگو میں اکثر روایتی پاکستانی اقدار اور جدید دور کے چیلنجز کا امتزاج نظر آتا ہے۔ حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل کے مشہور مارننگ شو میں ان کی شرکت اور وہاں کیے گئے ایک تبصرے نے سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا ہے۔ یہ تبصرہ نئی نویلی دلہن کے سسرال میں داخلے کے بعد آرام اور ذمہ داریوں سے متعلق تھا، جس پر کچھ لوگوں نے شدید تنقید کی جبکہ کچھ نے اسے عملی مشورہ قرار دیا۔
صبا فیصل کا متنازع بیان کیا تھا؟
مارننگ شو کے دوران میزبان نے نئی دلہنوں کے سسرال میں ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں سوال کیا۔ صبا فیصل نے بڑے تفصیل سے جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شادی کے فوراً بعد سسرال میں رشتہ داروں اور مہمانوں کی آمد ہوتی ہے۔ اس موقع پر گھر کی تمام ذمہ داریاں عموماً ساس کے کندھوں پر ہوتی ہیں کیونکہ وہ گھر کی مالکن ہوتی ہیں۔ نئی دلہن پر ابتدائی دنوں میں کوئی خاص بوجھ نہیں ڈالا جاتا، لیکن اگر دلہن کو تھکاوٹ کی وجہ سے آرام کی ضرورت ہو تو بہتر ہے کہ ساس خود اسے آرام کرنے کی اجازت دے۔
اگر ساس خود نہ کہے تو نئی دلہن کو شائستگی سے ساس یا گھر کی شادی شدہ نند سے پوچھ لینا چاہیے کہ کیا وہ آرام کر سکتی ہے۔ اداکارہ نے زور دیا کہ بات کرنے کا انداز بہت اہم ہوتا ہے۔ اگر دلہن براہ راست حکم کی طرح کہے کہ "مجھے آرام کرنا ہے” تو یہ سسرال میں اچھا نہیں لگتا، لیکن اگر وہ ادب سے پوچھے تو بری سے بری ساس بھی منع نہیں کرے گی۔
یہ بیان سننے میں سادہ لگتا ہے، مگر اس میں روایتی پاکستانی خاندانی نظام کی گہری جھلک نظر آتی ہے جہاں احترام، شائستگی اور بڑوں کی رضا کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا پر تنقید کا سیلاب
صبا فیصل کی اس گفتگو کا کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی تنقید کا ایک بڑا سیلاب آ گیا۔ زیادہ تر صارفین، خاص طور پر خواتین نے اس بیان کو فرسودہ اور خواتین کے حقوق کے منافی قرار دیا۔ کچھ اہم تنقید یہ تھیں:
- بہت سے لوگوں نے پوچھا کہ کیا سسرال کوئی جیل ہے جہاں آرام کرنے کے لیے بھی اجازت درکار ہو؟
- کئی خواتین نے کہا کہ شادی کے بعد سسرال بھی دلہن کا اپنا گھر ہوتا ہے، اسے وہاں آرام کا مکمل حق ہے بغیر کسی سے پوچھے۔
- جدید تعلیم یافتہ نسل نے اسے صنفی مساوات کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ یہ روایتیں خواتین پر غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہیں۔
- کچھ صارفین نے طنز کیا کہ کیا دلہن کو کھانا کھانے، باتھ روم جانے یا سونے کے لیے بھی اجازت مانگنی پڑے گی؟
دوسری طرف کچھ لوگوں نے صبا فیصل کا دفاع بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اداکارہ نے جبر کی بات نہیں کی بلکہ خاندانی ہم آہنگی اور احترام کی بات کی ہے۔ روایتی خاندانوں میں شائستگی سے بات کرنا مسائل کو کم کرتا ہے اور رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں ساس، نند اور نئی دلہن کے تعلقات
پاکستان میں مشترکہ خاندانی نظام اب بھی بہت عام ہے۔ اس نظام میں ساس، نند اور نئی دلہن کے درمیان تعلقات اکثر پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ پاکستانی ڈراموں میں بھی یہ تنازعات بار بار دکھائے جاتے ہیں، جو حقیقت کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔
روایتی طور پر ساس کو گھر کی سربراہ مانا جاتا ہے اور نئی دلہن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ احترام اور اطاعت کا مظاہرہ کرے۔ ابتدائی دنوں میں دلہن کو "مہمان” سمجھا جاتا ہے اور اسے آرام کی اجازت دی جاتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ گھر کے کام سیکھنے کی توقع بھی رکھی جاتی ہے۔
جدید دور میں صورتحال بدل رہی ہے۔ اب زیادہ تر لڑکیاں تعلیم یافتہ اور نوکری پیشہ ہوتی ہیں۔ وہ اپنے حقوق سے آگاہ ہوتی ہیں اور سسرال میں بھی اپنی آزادی چاہتی ہیں۔ اس لیے روایتی مشوروں پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ ساس نند تنازع کی بنیادی وجہ بات چیت کا فقدان اور غلط فہمیاں ہوتی ہیں۔ اگر دونوں طرف سے احترام اور سمجھ بوجھ ہو تو یہ مسائل کم ہو سکتے ہیں۔
شادی کے آداب اور جدید دور کے چیلنجز
پاکستانی شادی کے رواج بہت امیر ہیں۔ ولیمہ، مہندی، بارات اور دیگر رسومات کے دوران نئی دلہن پر توجہ کا مرکز ہوتی ہے۔ سسرال میں داخلے کے بعد بھی کئی دن مہمانوں کی آمد ہوتی ہے۔ ان دنوں دلہن کو خوبصورت رہنا، مسکراتے رہنا اور سب سے اچھا سلوک کرنا پڑتا ہے، جو واقعی تھکا دینے والا ہوتا ہے۔
روایتی آداب کے مطابق نئی دلہن کو بڑوں کے سامنے ادب سے پیش آنا چاہیے، ان کی خدمت کرنی چاہیے اور گھر کے کاموں میں حصہ لینا چاہیے۔ مگر اب لڑکیاں یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ کیا صرف دلہن پر ہی یہ ذمہ داریاں ہیں؟ کیا دولہا یا سسرال کے دیگر افراد پر کوئی ذمہ داری نہیں؟
ماہرین سماجیات کہتے ہیں کہ معاشرے میں تبدیلی آ رہی ہے۔ اب nuclear families بڑھ رہی ہیں، لڑکیاں مالی طور پر خود مختار ہیں اور وہ اپنے حقوق مانگتی ہیں۔ اس لیے روایتی مشورے اب ہر ایک پر فٹ نہیں بیٹھتے۔
نئی دلہن کے لیے عملی اور متوازن مشورے
اگر آپ جلد شادی کر رہی ہیں یا نئی دلہن ہیں تو یہاں کچھ متوازن مشورے ہیں جو روایت اور جدیدیت دونوں کا خیال رکھتے ہیں:
- سسرال والوں سے ہمیشہ ادب اور شائستگی سے پیش آئیں۔ یہ رشتوں کو مضبوط بناتا ہے۔
- اپنے حقوق سے آگاہ رہیں۔ آرام، پرائیویسی اور ذاتی وقت آپ کا حق ہے۔
- شوہر سے کھل کر بات کریں۔ وہ آپ اور سسرال کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔
- گھریلو کاموں میں حصہ لیں مگر اپنی صحت اور آرام کا بھی خیال رکھیں۔
- اگر کوئی تنازع ہو تو فوراً بات چیت سے حل کریں، دل میں نہ رکھیں۔
- صبر اور برداشت رکھیں کیونکہ نئے ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگتا ہے۔
- اگر ممکن ہو تو شادی سے پہلے سسرال والوں سے ملاقاتیں کریں تاکہ ایک دوسرے کو سمجھ سکیں۔
یہ مشورے نہ صرف روایتی اقدار کا احترام کرتے ہیں بلکہ جدید دور کی خواتین کی ضروریات کو بھی مدنظر رکھتے ہیں۔
نتیجہ: بحث سے آگے بڑھنے کا وقت
صبا فیصل کا بیان ایک روایتی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے جو کئی خاندانوں میں اب بھی موجود ہے۔ تاہم سوشل میڈیا پر تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرہ تیزی سے بدل رہا ہے اور خواتین اپنے حقوق کے بارے میں زیادہ آگاہ ہو رہی ہیں۔
اس بحث سے سبق یہ ملتا ہے کہ خاندانی رشتوں میں احترام، بات چیت اور باہمی سمجھ بوجھ سب سے اہم ہے۔ نہ تو روایات کو مکمل طور پر رد کرنا چاہیے اور نہ ہی جدید حقوق کو نظر انداز کرنا چاہیے۔ توازن ہی کامیاب گھریلو زندگی کی کنجی ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
کیا نئی دلہن کو سسرال میں آرام کی اجازت مانگنی ضروری ہے؟
ضروری نہیں، مگر شائستگی سے پوچھنا رشتوں کو بہتر بناتا ہے۔ یہ خاندان پر منحصر ہے۔
ساس نند تنازع کیسے کم کیا جا سکتا ہے؟
کھلی بات چیت، باہمی احترام اور صبر سے۔
پاکستانی شادی کے رواج جدید دور میں کیسے بدل رہے ہیں؟
اب زیادہ سادگی، nuclear families اور خواتین کی خود مختاری پر زور دیا جا رہا ہے۔
کیا صبا فیصل کا بیان غلط تھا؟
یہ نقطہ نظر کا معاملہ ہے۔ کچھ کے لیے عملی، کچھ کے لیے فرسودہ۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا صبا فیصل کا مشورہ عملی ہے یا فرسودہ؟ کیا نئی دلہن کو آرام کے لیے اجازت مانگنی چاہیے؟ کمنٹس میں ضرور اپنی رائے کا اظہار کریں!
ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تاکہ تازہ ترین خبریں، شوبز اپ ڈیٹس اور دلچسپ مواد بروقت ملتا رہے۔ بائیں طرف floating WhatsApp بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفیکیشنز آن کر لیں – بالکل مفت اور آسان!
Disclaimer: All discussed information is based on public reports; please verify independently.