راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں ڈاکٹرز نے زندہ بچے کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا

ہولی فیملی اسپتال

راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں 31 دسمبر 2025 کو ایک حیران کن اور افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک نومولود بچے کو ڈاکٹرز نے مردہ قرار دے کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا۔ یہ بچہ دراصل زندہ تھا اور والدین کی ہوشیاری کی وجہ سے بروقت نوٹس ہونے پر اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا۔ یہ معاملہ راولپنڈی ڈاکٹرز غفلت، ڈاکٹرز کی سنگین غفلت اور سرکاری اسپتالوں میں طبی غفلت کے سنگین مسائل کو واضح طور پر سامنے لا رہا ہے۔ اسپتال انتظامیہ نے اسے نایاب طبی حالت لازرس سنڈروم قرار دیا ہے اور معاملے کی انکوائری کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سبق ہے کہ طبی پروٹوکولز پر سختی سے عمل درآمد کتنا ضروری ہے۔

واقعہ کی مکمل تفصیلات

یہ سانحہ ہولی فیملی اسپتال راولپنڈی کے پیڈیاٹرک وارڈ میں پیش آیا۔ ایک خاتون روبینہ کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی جو کہ قبل از وقت یا کمزور حالت میں تھا۔ پیدائش کے فوراً بعد بچے کی حالت نازک ہو گئی اور سانس لینے میں دشواری شروع ہوئی۔ ڈاکٹرز نے ابتدائی معائنے کے بعد بچے کی دل کی دھڑکن اور سانس نہ ملنے پر اسے مردہ قرار دے دیا۔

اس کے بعد ڈاکٹر طیبہ صدف نے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے اور مہر ثبت کی۔ سرٹیفکیٹ میں واضح طور پر لکھا گیا کہ میت لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہے۔ والدین کو بچہ لپیٹ کر دیا گیا اور وہ غمگین حالت میں گھر جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ تاہم جب والدین نے بچے کو دیکھا تو انہیں آکسیجن ماسک لگا ہوا ملا اور سانس چلتی محسوس ہوئی۔ وہ فوری طور پر بچے کو واپس اسپتال لے آئے جہاں ڈاکٹرز نے اسے وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا۔

اب بچے کی حالت بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اگر وہ خود نوٹس نہ کرتے تو بچہ ہمیشہ کے لیے چلا جاتا۔ یہ واقعہ راولپنڈی میں زندہ بچے کو مردہ قرار دے دیا جانے کا ایک سنگین کیس ہے جو طبی عملے کی جلد بازی اور نازک کیسز میں احتیاط نہ کرنے کی وجہ سے رونما ہوا۔ اس طرح کی غلطی نہ صرف ایک زندگی کو خطرے میں ڈالتی ہے بلکہ خاندان پر نفسیاتی صدمہ بھی ڈالتی ہے۔

اسپتال انتظامیہ کا بیان اور انکوائری کا عمل

ہولی فیملی اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اختر محمود ملک نے میڈیا کو بیان دیا کہ بچہ لازرس سنڈروم کا شکار تھا۔ ان کے مطابق یہ ایک نایاب حالت ہے جس میں سانس اور دل کی دھڑکن انتہائی کم ہو جاتی ہے اور عام معائنے میں موت کا گمان ہو جاتا ہے۔ انتظامیہ نے فوری طور پر پیڈیاٹرک ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ ڈاکٹر حنا ستار کی قیادت میں ایک انکوائری کمیٹی قائم کر دی ہے۔

کمیٹی کا کام یہ جانچنا ہے کہ کیا واقعی لازرس سنڈروم تھا یا ڈاکٹرز کی طرف سے غفلت ہوئی۔ اگر غفلت ثابت ہوئی تو متعلقہ ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ اسپتال میں تمام پروٹوکولز پر عمل ہوتا ہے لیکن یہ ایک غیر معمولی کیس تھا۔ عوامی حلقوں میں مطالبہ ہے کہ انکوائری شفاف ہو اور رپورٹ جلد عوام کے سامنے رکھی جائے تاکہ اعتماد بحال ہو سکے۔

لازرس سنڈروم

لازرس سنڈروم کو طبی اصطلاح میں آٹو ریسیسیٹیشن بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ حالت ہے جہاں دل کی دھڑکن رک جانے کے بعد خود بخود بحال ہو جاتی ہے۔ اس کا نام بائبل کی کہانی سے ماخوذ ہے جہاں حضرت عیسیٰ نے لازرس نامی شخص کو موت کے چند دن بعد زندہ کیا تھا۔

دنیا بھر میں 1982 سے اب تک تقریباً 70 سے 80 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ یہ حالت عام طور پر سی پی آر روکنے کے چند منٹوں بعد سامنے آتی ہے۔ ممکنہ وجوہات میں خون میں آکسیجن کی زیادتی، ادویات کا تاخیر سے اثر، جسم کا کم درجہ حرارت یا ہوا کا دباؤ شامل ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موت کا اعلان کرنے سے پہلے کم از کم 10 سے 15 منٹ تک مسلسل مانیٹرنگ ضروری ہے تاکہ ایسی حالت کو پکڑا جا سکے۔

پاکستان میں یہ شاید پہلا معروف کیس ہے جو سرکاری اسپتال میں سامنے آیا۔ یہ ڈاکٹرز کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ نومولود بچوں کے کیسز میں خاص احتیاط برتی جائے کیونکہ ان کی حالت تیزی سے بدل سکتی ہے۔

پاکستان میں سرکاری اسپتالوں کی صورتحال اور طبی غفلت کے اسباب

پاکستان میں hospital negligence اور medical negligence case Pakistan کے واقعات افسوسناک طور پر عام ہیں۔ ہر سال ہزاروں کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جن میں نومولود بچوں کی اموات، غلط تشخیص اور غفلت شامل ہے۔ سرکاری اسپتال راولپنڈی جیسے بڑے اداروں میں مریضوں کی تعداد زیادہ، عملہ کم اور وسائل ناکافی ہوتے ہیں۔

بنیادی اسباب میں شامل ہیں:

  • ڈاکٹرز اور نرسز کی کمی
  • تربیت کا فقدان
  • جدید آلات کی عدم دستیابی
  • لمبے ڈیوٹی آورز کی وجہ سے تھکاوٹ
  • پروٹوکولز پر عمل نہ کرنا

یہ واقعہ بچے کی جان کو خطرہ میں ڈالنے والا تھا اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا ہمارے ہیلتھ سسٹم میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے؟ پنجاب ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو چاہیے کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں آڈٹ کرائے اور تربیت کے پروگرام شروع کرے۔

مریضوں اور لواحقین کے لیے احتیاطی تدابیر

ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے مریض اور ان کے لواحقین کچھ اقدامات کر سکتے ہیں:

  • نازک کیسز میں ڈاکٹر سے مسلسل اپ ڈیٹ لیں۔
  • دو یا تیسری رائے حاصل کریں۔
  • موت کے اعلان پر مکمل دستاویزات مانگیں۔
  • سینئر ڈاکٹر کی موجودگی کا مطالبہ کریں۔
  • اسپتال کے پروٹوکولز کی تصدیق کریں۔

ڈاکٹرز کو بھی چاہیے کہ ہر کیس میں احتیاط برتیں اور جلد بازی سے بچیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

س: لازرس سنڈروم کتنا نایاب ہے؟

ج: دنیا میں صرف چند درجن کیسز رپورٹ ہوئے۔

س: کیا یہ غفلت تھی یا طبی حالت؟

ج: انکوائری طے کرے گی، لیکن جلد بازی غفلت ہے۔

س: بچے کی موجودہ حالت کیا ہے؟

ج: بہتر ہو رہی ہے۔

س: ایسی غلطیوں سے کیسے بچا جائے؟

ج: مسلسل مانیٹرنگ اور دوسری رائے سے۔

یہ واقعہ طبی غفلت کا ایک سنگین واقعہ ہے جو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ انکوائری اور نظام میں اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ امید ہے کہ اس سے سبق سیکھا جائے گا اور مستقبل میں ایسی غلطیاں نہ ہوں۔

نوٹ: آپ کی رائے کیا ہے؟ پاکستان کے اسپتالوں میں غفلت کی کیا وجوہات ہیں؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور یہ خبر شیئر کریں۔

تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں – بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفیکیشنز آن کریں!

Disclaimer: All discussed information is based on public reports; please verify before taking any health-related steps.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے