شعلے کی شوٹنگ کے دوران دھرمیندر سے امیتابھ پر حقیقت میں گولی چلی: ڈائریکٹر کا انکشاف

شعلے کی شوٹنگ پر دھرمیندر سے غلطی سے گولی چلی

بھارتی سنیما کی سب سے مشہور اور تاریخی فلم شعلے کی ریلیز کو پچاس سال مکمل ہونے پر فلم کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر رمیش سپی نے شوٹنگ کے دوران پیش آنے والے کئی خطرناک اور دلچسپ واقعات کا انکشاف کیا ہے۔ 1975 میں ریلیز ہونے والی یہ کلاسک فلم آج بھی بالی ووڈ کی سب سے زیادہ دیکھی اور پسند کی جانے والی فلموں میں سے ایک ہے۔ فلم کی اسٹار کاسٹ میں دھرمیندر، امیتابھ بچن، سنجیو کمار، امجد خان، ہیما مالنی اور جیا بچن جیسے لیجنڈ اداکار شامل تھے۔ رمیش سپی کے حالیہ انٹرویو میں سامنے آنے والے یہ انکشافات نہ صرف فلم کے شائقین کے لیے حیران کن ہیں بلکہ فلمی تاریخ کے ایک اہم باب کو مزید روشن کرتے ہیں۔

شعلے کو بھارتی فلم انڈسٹری کی ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ یہ فلم نہ صرف اپنے ایکشن، ڈرامے اور ڈائیلاگز کی وجہ سے مشہور ہوئی بلکہ اس کی کہانی، کردار اور موسیقی نے بھی کروڑوں لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیا۔ اب جب کہ فلم کی پچاسویں سالگرہ منائی جا رہی ہے، ایک ری سٹورڈ ورژن بھی ریلیز کیا جا رہا ہے جس میں اصل کلائمیکس شامل ہے جو سنسر بورڈ کی وجہ سے پہلے تبدیل کر دیا گیا تھا۔

دھرمیندر سے غلطی سے گولی چلنے کا خطرناک واقعہ

رمیش سپی نے اپنے انٹرویو میں سب سے حیران کن انکشاف یہ کیا کہ فلم کے کلائمیکس سین کی شوٹنگ کے دوران دھرمیندر سے حقیقت میں گولی چل گئی جو امیتابھ بچن کی جان لے سکتی تھی۔

ان کے مطابق، اس سین میں دھرمیندر کو بندوق صرف لوڈ کرنی تھی، فائر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن دھرمیندر کردار میں اس قدر ڈوب گئے کہ انہوں نے بندوق اٹھائی اور ٹریگر دبا دیا۔ گولی چل گئی اور اس وقت امیتابھ بچن بالکل قریب کھڑے تھے۔ خوش قسمتی سے گولی امیتابھ کے کان کے بالکل پاس سے گزر گئی اور کوئی نقصان نہیں ہوا۔

یہ واقعہ سیٹ پر موجود تمام عملے کے لیے ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ ہر کوئی ہلا کر رہ گیا۔ فلم کے ایکشن سینماٹوگرافر جم ایلن اس قدر غصے میں آ گئے کہ انہوں نے فوراً شوٹنگ روک دی اور کہا کہ وہ ایسے رویے کو برداشت نہیں کر سکتے جہاں کسی کی جان خطرے میں ہو۔ جم ایلن نے واضح کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ سیٹ پر کوئی حادثہ پیش آئے اور اس دن شوٹنگ مکمل طور پر بند کر دی گئی۔

رمیش سپی نے بتایا کہ صورتحال اس قدر خراب ہو گئی تھی کہ کافی دیر تک ماحول کشیدہ رہا۔ آخر کار انہوں نے جم ایلن کو ٹھنڈا کیا اور انہیں راضی کیا کہ شوٹنگ جاری رکھی جائے۔ دوسری طرف دھرمیندر کو بھی سمجھایا گیا کہ کردار میں ڈوبنا اچھی بات ہے لیکن سیٹ پر حفاظتی اقدامات سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ دھرمیندر نے اپنی غلطی تسلیم کی اور امیتابھ بچن کے ساتھ ساتھ جم ایلن سے بھی معافی مانگی۔ اس کے بعد ماحول دوبارہ نارمل ہوا اور شوٹنگ جاری رہی۔

یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اس زمانے میں شوٹنگ کے دوران حفاظتی اقدامات آج جتنے سخت نہیں ہوتے تھے۔ آج کل تو بلینک گولیاں بھی استعمال کی جاتی ہیں اور ہر چیز کو احتیاط سے پلان کیا جاتا ہے، لیکن اس وقت اداکار اکثر حقیقی ہتھیاروں کے ساتھ کام کرتے تھے جو خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شاہین کئی سال بعد بگ بیش کھیلنے کیلئے پرجوش، بابر اور رضوان سے متعلق کیا کہا؟

دھرمیندر اور امیتابھ کا جنگل میں لاپتا ہو جانا

رمیش سپی نے ایک اور مزے دار اور پریشان کن واقعہ بھی شیئر کیا جو شوٹنگ کے دوران پیش آیا۔ ایک دن دھرمیندر اور امیتابھ بچن اچانک سیٹ سے غائب ہو گئے۔

عملہ شدید پریشانی میں مبتلا ہو گیا کیونکہ شوٹنگ رام نگری نامی جگہ پر ہو رہی تھی جو جنگل کے قریب تھا۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ دونوں اداکار کہاں گئے۔ کوئی سوچ رہا تھا کہ شاید وہ تفریح کے لیے نکل گئے ہوں، کوئی یہ خیال کر رہا تھا کہ جنگل میں گم ہو گئے ہوں گے۔ سیٹ پر خوف و ہراس پھیل گیا اور عملے نے تلاش شروع کر دی۔

گھنٹوں کی تلاش کے بعد آخر کار دونوں اداکار خود واپس لوٹ آئے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی گاڑی راستے میں خراب ہو گئی تھی۔ گاڑی ٹھیک نہ ہونے پر انہوں نے ایک رکشہ پکڑا اور اسی سے ہوٹل واپس پہنچ گئے۔ یہ سن کر عملے کو بہت سکون ملا لیکن ساتھ ہی سب ہنس بھی پڑے۔

یہ واقعہ دھرمیندر اور امیتابھ کی دوستی کی ایک جھلک بھی پیش کرتا ہے۔ دونوں اداکار نہ صرف فلم میں بلکہ حقیقی زندگی میں بھی بہت اچھے دوست تھے اور اکثر ایک ساتھ وقت گزارتے تھے۔

شعلے کی شوٹنگ کے دیگر دلچسپ پہلو

شعلے کی شوٹنگ تقریباً دو سال تک چلی جو اس زمانے کے لیے بہت طویل مدت تھی۔ فلم کا بجٹ بھی اس وقت کے حساب سے بہت زیادہ تھا۔ رمیش سپی اور سلیم جاوید کی جوڑی نے ایک ایسی کہانی تخلیق کی جو ویسٹرن فلموں سے متاثر تھی لیکن مکمل طور پر انڈین پس منظر میں ڈھالی گئی۔

فلم کے ڈائیلاگز آج بھی لوگوں کی زبان پر ہیں جیسے "کتنے آدمی تھے”، "یہ ہاتھ مجھے دے دے ٹھاکر” اور "جو ڈر گیا سمجھو مر گیا”۔ امجد خان کا گبر سنگھ کا کردار تو امر ہو گیا۔

شعلے نے باکس آفس پر ابتدائی دنوں میں توقعات کے مطابق کارکردگی نہیں دکھائی لیکن جلد ہی یہ سپر ہٹ ہو گئی اور کئی سالوں تک تھیئٹرز میں چلتی رہی۔ یہ بالی ووڈ کی پہلی فلم تھی جس نے 70mm فارمیٹ میں ریلیز ہوئی اور اس کی کامیابی نے انڈین سنیما کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔

شعلے کی کاسٹ اور اہم حقائق

  • ہدایتکار اور پروڈیوسر: رمیش سپی (ان کے والد جی پی سپی بھی پروڈیوسر تھے)
  • رائٹرز: سلیم خان اور جاوید اختر
  • مرکزی اداکار:
    • دھرمیندر (ویرا)
    • امیتابھ بچن (جئے)
    • سنجیو کمار (ٹھاکر)
    • امجد خان (گبر سنگھ)
    • ہیما مالنی (بسنتی)
    • جیا بچن (رادھا)

فلم کی موسیقی آر ڈی برمن کی تھی اور گانے جیسے "یہ دوستی ہم نہیں توڑیں گے” اور "محبوبہ محبوبہ” آج بھی مقبول ہیں۔

شعلے کی میراث اور 50ویں سالگرہ

اب جب کہ شعلے کو ریلیز ہوئے پچاس سال ہو گئے، ایک ری سٹورڈ 4K ورژن سینما گھروں میں دوبارہ ریلیز کیا جا رہا ہے۔ اس میں وہ اصل اینڈنگ شامل ہے جس میں گبر کو مار دیا جاتا تھا لیکن سنسر بورڈ کی وجہ سے اسے تبدیل کر کے ٹھاکر کے ہاتھوں سزا دی گئی تھی۔

یہ فلم نئی نسل کو بھی متاثر کر رہی ہے اور اس کی کامیابی بالی ووڈ کے لیے ایک مثال ہے کہ اچھی کہانی اور کردار کبھی پرانے نہیں ہوتے۔

یہ بھی پڑھیں: پانچ سو روپے ماہانہ کمانے والے کپل شرما اب کتنی دولت کے مالک ہیں؟ جان کر دنگ رہ جائیں گے

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

شعلے کب ریلیز ہوئی تھی؟

15 اگست 1975 کو۔

گولے چلنے کا واقعہ کس سین میں پیش آیا؟

کلائمیکس سین کی شوٹنگ کے دوران۔

کیا دھرمیندر کی غلطی جان بوجھ کر تھی؟

نہیں، وہ کردار میں ڈوب گئے تھے۔

شعلے کی شوٹنگ کتنی مدت چلی؟

تقریباً دو سال۔

ری سٹورڈ ورژن میں کیا خاص ہے؟

اصل کلائمیکس اور بہتر کوالٹی۔

آپ کا پسندیدہ شعلے کا کردار کون سا ہے؟ گبر سنگھ، جئے یا ویرو؟ یا کوئی مشہور ڈائیلاگ؟ کمنٹس میں ضرور بتائیں اور یہ مضمون اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں!

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں تاکہ تازہ ترین بالی ووڈ، فلمی کہانیاں اور کلاسک فلموں کی نیوز بروقت ملیں۔ یہ سب سے آسان اور قابل اعتماد طریقہ ہے دلچسپ اپڈیٹس سے جڑے رہنے کا!

Disclaimer: All discussed information is based on public reports; please verify independently.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے