ڈکی بھائی کی دوران حراست کن دو شخصیات سے ملاقات ہوئی؟ پہلی بار نام سامنے آگئے

ڈکی بھائی

پاکستان کے سب سے بڑے یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی نے اپنی حالیہ حراست کے دوران ہونے والی دو اہم ملاقاتوں کے نام پہلی بار کھول کر رکھ دیے ہیں۔ یہ انکشافات انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر میزبان یاسر شامی کے ساتھ طویل انٹرویو میں کیے۔ اس سے پہلے ڈکی بھائی نے اپنے 50 منٹ سے زائد وی لاگ میں بھی کئی تلخ حقائق بیان کیے تھے، لیکن اب انہوں نے واضح طور پر دو شخصیات کے نام لے لیے۔

کون سی دو شخصیات سے ہوئی ملاقات؟

ڈکی بھائی نے بتایا کہ حراست کے دوران ان سے ملنے والے دو افراد تھے:

  1. سینئر صحافی اور اینکر پرسن ارشاد بھٹی
  2. ڈیجیٹل کنٹینٹ کریٹر اور ڈاکٹر عمر عادل

یہ دونوں نام پہلے کبھی سرکاری یا غیر سرکاری طور پر سامنے نہیں آئے تھے۔

ارشاد بھٹی سے ملاقات کی مکمل کہانی

ڈکی بھائی کے مطابق ایک دن اچانک جیل حکام نے انہیں حوالات سے نکالا اور ہتھکڑیاں لگا کر باہر لایا گیا۔ جیل افسر نے واضح الفاظ میں کہا کہا:

”یہاں کوئی تمہارا دوست نہیں ہے، تمہارے مسائل صرف سرفراز چوہدری حل کر سکتے ہیں۔“

اس کے فوراً بعد انہیں سرفراز چوہدری کے کمرے میں لے جایا گیا جہاں ارشاد بھٹی موجود تھے۔ ڈکی بھائی نے بتایا کہ سرفراز چوہدری نے فوری طور پر ان کی ہتھکڑیاں کھلوائیں اور ارشاد بھٹی کے سامنے اچھا تاثر دینے کی کوشش کی۔ ارشاد بھٹی نے براہِ راست پوچھا:

”کیا تم پر تشدد ہوا؟“

اس وقت ڈکی بھائی نے خوف یا دباؤ کی وجہ سے تشدد کا اعتراف نہیں کیا اور انکار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: 58 سالہ مادھوری نے چہرے کی دلکشی اور جواں نظر آنے کا نسخہ بتا دیا

ڈاکٹر عمر عادل: تشدد کے عینی شاہد

دوسری اور سب سے زیادہ چونکا دینے والی بات ڈاکٹر عمر عادل کے بارے میں ہے۔ ڈکی بھائی نے واضح کیا کہ ڈاکٹر عمر عادل اس وقت خود بھی حراست میں تھے اور انہوں نے ڈکی بھائی پر ہونے والا تشدد اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

ڈکی بھائی نے بتایا:

  • قیدیوں کی شرٹ اتروائی جاتی تھی اور مکمل تلاشی لی جاتی تھی
  • ڈاکٹر عمر عادل نے بھی اسی عمل سے گزرنا پڑا
  • انہوں نے احتجاج کیا کہ ”میں آرائیں برادری سے ہوں، مجھے اس طرح ننگا نہیں کیا جا سکتا“
  • اس کے باوجود عملہ نہیں مانا

ڈکی بھائی نے صاف کہا کہ ڈاکٹر عمر عادل ان پر ہونے والے تشدد کے براہِ راست عینی شاہد ہیں۔

ڈکی بھائی کی حراست کا پس منظر

یاد رہے کہ ڈکی بھائی کو مئی 2025 میں سائبر کرائم اور مبینہ طور پر اداروں کے خلاف مواد پھیلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر #FreeDuckyBhais ٹرینڈ چلا اور لاکھوں لوگوں نے احتجاج کیا۔ تقریباً 18 دن کی حراست کے بعد انہیں ضمانت مل گئی تھی۔

یہ انکشافات کیوں اہم ہیں؟

  1. پہلی بار کوئی حراستی شہادت سامنے آئی ہے جو دوسری آزاد شخصیت (عمر عادل) کی گواہی پر مبنی ہے
  2. صحافی (ارشاد بھٹی) کی موجودگی میں حکام کا رویہ سامنے آیا
  3. حراستی مراکز میں تلاشی اور ممکنہ تشدد کے طریقہ کار پر سوالات اٹھے ہیں

عوامی اور سوشل میڈیا ردعمل

ان انکشافات کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ #DuckyBhaisRevelation اور #عینی_شاہد ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہیں۔ کئی معروف شخصیات نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹر عمر عادل کو بھی سامنے لایا جائے تاکہ وہ اپنی گواہی ریکارڈ کروا سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: 16 سال بعد تھری ایڈیٹس 2 بننے کو تیار، کب ریلیز ہوگی؟

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

ڈکی بھائی کی گرفتاری کی اصل وجہ کیا تھی؟

سائبر کرائم ایکٹ کے تحت اداروں کے خلاف مبینہ پروپیگنڈا اور نفرت انگیز مواد۔

ارشاد بھٹی جیل کیوں گئے تھے؟

ڈکی بھائی کے مطابق وہ جیل کے دورے پر آئے اور ان سے ملاقات کی۔

ڈاکٹر عمر عادل اس وقت کہاں ہیں؟

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق وہ بھی ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔

کیا یہ انکشافات قانونی کارروائی کا باعث بن سکتے ہیں؟

ماہرینِ قانون کے مطابق اگر عینی شاہد (عمر عادل) عدالت میں بیان دے تو تشدد کے الزامات پر مقدمہ چل سکتا ہے۔

آپ کی رائے کیا ہے؟

آپ کو لگتا ہے کہ حراستی مراکز میں کیمرے اور آزاد نگرانی ہونی چاہیے؟

  • ہاں، مکمل شفافیت ضروری ہے
  • نہیں، موجودہ نظام ٹھیک ہے
  • صرف حساس کیسز میں نگرانی ہو

کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں!

یہ تمام تفصیلات ڈکی بھائی کے عوامی انٹرویو اور وی لاگز پر مبنی ہیں۔ اگر آپ بھی تازہ ترین اپ ڈیٹس، بریکنگ نیوز اور ایسی ہی ایکسکلوزیو رپورٹس فوراً حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ابھی ہمارا WhatsApp چینل جوائن کر لیں۔ بائیں طرف گرین فلوٹنگ بٹن پر ایک کلک کریں، نوٹیفیکیشنز آن کریں اور کبھی کوئی اہم خبر مس نہ کریں!

Please confirm all the discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے