رانا ثنا اللہ کا طنز: پی ٹی آئی جن سے بات کرنا چاہتی ہے، وہ ان سے بات نہیں کرنا چاہتے

رانا ثنااللہ

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے 5 دسمبر 2025 کو قومی اسمبلی میں واضح الفاظ میں کہا کہ پی ٹی آئی قیادت حکومت سے بات کرنے کو تیار نہیں، اور جن سے وہ بات کرنا چاہتی ہے، وہ ان سے بات نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی دو بار دی گئی بات چیت کی دعوت کا حوالہ دیا اور کہا کہ میثاق استحکام پاکستان پر اتفاق ہو جائے تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں، مگر پی ٹی آئی کی طرف سے سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔ یہ بیان قومی اسمبلی کے اجلاس میں پی ٹی آئی اراکین کی موجودگی میں سامنے آیا، جو ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔

رانا ثنا اللہ کے اہم نکات

  • وزیر اعظم نے دو بار ایوان میں اپوزیشن کو بات چیت کی دعوت دی
  • پی ٹی آئی ہم سے بات نہیں کرنا چاہتی، جن سے وہ چاہتی ہے وہ ان سے بات نہیں کرنا چاہتے
  • اڈیالہ جیل میں امن و امان خراب کرنے یا تحریک چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
  • جیل سے باہر سیاسی فیصلے نہیں ہو سکتے
  • پی ٹی آئی سینیٹر کمیٹی بنانا چاہتی ہے تو پہلے خود کمیٹی بنا لے کہ کیا بات کرنی ہے

پی ٹی آئی سے مذاکرات کا معامل

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ مئی 2025 سے رُکا ہوا ہے۔

  • حکومت نے میثاق استحکام اور چارٹر آف اکانومی پر بات چیت کی کھلی دعوت دی
  • پی ٹی آئی نے عمران خان کی رہائی، جوڈیشل کمیشن اور الیکشن اصلاحات کو شرط بنا دیا
  • جون 2025 میں حکومت نے رات 12 بجے تک ڈیڈ لائن دی تھی، کوئی پیش رفت نہ ہوئی
  • پی ٹی آئی اب تک تحریری مطالبات جمع نہیں کر سکی

یہ بھی پڑھیں: ’پرانا کوہلی واپس آگیا‘، ویرات کوہلی کا ناگن ڈانس وائرل ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی

حکومت اور پی ٹی آئی تعلقات

  • حکومت: پی ٹی آئی جیل سے سیاست چلانا چاہتی ہے، قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوگی
  • پی ٹی آئی: حکومت مذاکرات سے بھاگ رہی ہے، صرف جھوٹے دعوے کر رہی ہے

دونوں طرف سے اعتماد کی شدید کمی موجود ہے۔

سیاسی ڈائیلاگ پاکستان: کیا اب بھی ممکن ہے؟

ماہرین کہتے ہیں کہ مذاکرات اب بھی ہو سکتے ہیں اگر:

  • پی ٹی آئی تحریری مطالبات جمع کرائے
  • حکومت غیر جانبدار کمیٹی بنائے
  • دونوں فریق میثاق استحکام پر دستخط کریں
  • جیل سے سیاسی سرگرمیوں پر پابندی برقرار رہے

یہ بھی پڑھیں: فالوورز کم ہونے پر انوپم کھیر نے ایلون مسک سے براہ راست سوال کیا، 9 لاکھ کا نقصان

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

رانا ثنا اللہ نے بیان کہاں دیا؟

قومی اسمبلی کے اجلاس میں۔

وزیر اعظم نے کتنی بار دعوت دی؟

دو بار ایوان میں کھل کر۔

پی ٹی آئی کی بنیادی شرط کیا ہے؟

عمران خان کی رہائی اور جوڈیشل کمیشن۔

میثاق استحکام کیا ہے؟

معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے قومی اتفاق رائے کا دستاویز۔

نتیجہ

رانا ثنا اللہ کا بیان سیاسی ڈیڈ لاک کی حقیقت کو سامنے لا رہا ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں مگر کوئی آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔ جب تک تحریری مطالبات اور سنجیدہ ڈائیلاگ نہیں ہوگا، سیاسی بحران یونہی جاری رہے گا۔ ملک کو استحکام کی اشد ضرورت ہے، اب فیصلہ دونوں فریقوں کو کرنا ہے۔

کال ٹو ایکشن: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات اب بھی ممکن ہیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں اور آرٹیکل شیئر کریں! تازہ ترین سیاسی خبروں اور مذاکرات کی اپ ڈیٹس کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں — بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں۔ بالکل مفت!

ڈس کلیمر: This information is based on public reports. Verify before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے