پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے 5 دسمبر 2025 کو لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک کی سنگین صورتحال پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات ٹھیک نہیں، معیشت مکمل طور پر بیٹھ چکی ہے اور سیاسی بحران ختم کیے بغیر کوئی بہتری ممکن نہیں۔ اسد عمر نے موجودہ حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے تین سال ضائع ہو چکے ہیں اور اب بھی صرف کمیٹیوں کے اعلانات ہو رہے ہیں۔
اسد عمر کے اہم نکات
اسد عمر نے عدالت کے باہر میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
- ملکی حالات ٹھیک نہیں، معیشت بیٹھ گئی ہے
- سیاسی بحران ختم کیے بغیر معیشت نہیں اٹھ سکتی
- حکومت نے ساڑھے تین سال برباد کر دیے، اب 8 نئی کمیٹیاں بنا رہی ہے
- غریب موٹر سائیکل والے پر چالان، طاقتور کو کچھ نہیں کہہ سکتے
- بھارت کو تگڑا جواب دیا، دنیا نے تسلیم کیا، لیکن اندرونی حالات تباہ حال ہیں
- سیاسی بحران حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، سب کو مل کر بیٹھنا ہوگا
پاکستان کی معاشی صورتحال کی حقیقت
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق:
- نومبر 2025 میں افراط زر 6.1 فیصد تک پہنچ گئی
- FY25 میں جی ڈی پی کی شرح نمو صرف 2.7 فیصد رہی
- بیرونی قرضے جی ڈی پی کے 78.2 فیصد تک پہنچ گئے
- خوراک کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں
- بے روزگاری کی شرح 8 فیصد کے قریب
یہ اعداد و شمار اسد عمر کے "معیشت بیٹھ گئی” والے بیان کی تصدیق کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فالوورز کم ہونے پر انوپم کھیر نے ایلون مسک سے براہ راست سوال کیا، 9 لاکھ کا نقصان
سیاسی بحران کیسے معیشت کو کھا رہا ہے؟
سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے:
- سرمایہ کار اعتماد ختم ہو چکا ہے
- غیر ملکی سرمایہ کاری تقریباً رک گئی ہے
- آئی ایم ایف پروگرام میں بار بار تاخیر ہو رہی ہے
- عدلیہ، میڈیا اور اداروں پر دباؤ بڑھ گیا ہے
- صوبوں اور وفاق کے درمیان تناؤ عروج پر ہے
ماہرین کا اتفاق ہے کہ سیاسی ڈائلاگ کے بغیر معاشی بحالی ناممکن ہے۔
سیاسی بحران حل کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
اسد عمر اور ماہرین کے مطابق:
- تمام سیاسی جماعتوں کا گرینڈ ڈائلاگ
- عدلیہ اور میڈیا کی آزادی یقینی بنائی جائے
- آئینی اصلاحات پر اتفاق رائے
- قومی سلامتی اور معیشت پر مشترکہ حکمت عملی
- طاقتور اور کمزور کے لیے ایکیہ بھی پڑھیں: جیسا قانون
یہ بھی پڑھیں: این ایف سی پینل کے پی کے حصے کی شرائط طے کرنے کا فیصلہ، صوبائی فنانشل شیئرنگ میں اہم اتفاق
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اسد عمر نے بیان کہاں دیا؟
لاہور میں انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر۔
معیشت کی موجودہ حالت کیا ہے؟
افراط زر 6.1 فیصد، جی ڈی پی نمو 2.7 فیصد، قرضوں کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔
سیاسی بحران کیسے ختم ہوگا؟
تمام فریقین کے درمیان کھلے ڈائلاگ سے۔
کیا معیشت واقعی بیٹھ گئی ہے؟
اعداد و شمار اور عوامی حالات اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
نتیجہ
اسد عمر کا بیان ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کی معیشت سیاسی بحران کی نظر ہو چکی ہے۔ جب تک تمام سیاسی قوتیں مل کر نہ بیٹھیں، کمیٹیوں کے اعلانات سے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قوم کے مستقبل کو بچایا جائے۔
کال ٹو ایکشن: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سیاسی ڈائلاگ سے معیشت بہتر ہو سکتی ہے؟ کمنٹس میں اپنی رائے ضرور دیں اور آرٹیکل شیئر کریں! تازہ ترین سیاسی اور معاشی خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں — بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کریں۔ بالکل مفت!
ڈس کلیمر: This information is based on public reports. Verify before taking any actions.