پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جماعت کے 58 ویں یوم تاسیس کے موقع پر ملکی تاریخ کے سب سے بڑے ڈیجیٹل جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ملک کی آئینی اور وفاقی ڈھانچے کی حفاظت پر زور دیا۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں ترمیم کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کو آگ سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔ یہ خطاب بلاول ہاؤس سے ویڈیو لنک کے ذریعے ملک بھر کے 100 سے زائد شہروں میں بیک وقت منعقد ہونے والی تقریبات سے کیا گیا، جہاں خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری بھی اسٹیج پر موجود تھیں۔
پی پی پی کا تاریخی کردار
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی کی تاریخ پاکستان کے ماضی اور مستقبل سے جڑی ہوئی ہے۔ قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جمہوریت، 1973 کا متفقہ آئین اور غریب عوام کی معاشی ترقی کا فلسفہ دیا۔ صدر آصف علی زرداری کے دور میں خیبرپختونخوا کو اس کا نام، بلوچستان کو آغاز حقوق اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی گئی۔
- این ایف سی ایوارڈ نے تمام صوبوں کو ان کے جائز وسائل دیے۔
- 18ویں ترمیم نے صوبائی خودمختاری کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔
- پی پی پی نے ہمیشہ اتفاق رائے سے آئین سازی پر یقین رکھا۔
دہشت گردی اور بیرونی خطرات سے متعلق انتباہ
چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ دشمن اس وقت بھی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر، بھارت کی سرحدی جارحیت اور افغانستان کے ساتھ بڑھتی تلخیاں موجود ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات کو دشمن کے فائدے کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔
27 ویں آئینی ترمیم اور آئینی عدالت کا قیام
بلاول بھٹو زرداری نے 27 ویں ترمیم کو پی پی پی کی بڑی کامیابی قرار دیا جس کے ذریعے آئینی عدالت قائم ہوئی اور تمام صوبوں کو برابر نمائندگی ملی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین سازی پارلیمان کا خصوصی اختیار ہے، عدلیہ کا نہیں۔ حکومت نے اس ترمیم کے ساتھ این ایف سی کا آئینی تحفظ ختم کرنے، تعلیمی نصاب اور پاپولیشن کنٹرول کے اختیارات واپس لینے کی تجاویز بھی پیش کی تھیں، جنہیں پی پی پی نے مسترد کر دیا۔
این ایف سی اور 18ویں ترمیم کی حفاظت کیوں ضروری ہے؟
بلاول بھٹو زرداری نے متنبہ کیا کہ این ایف سی اور 18ویں ترمیم کے ساتھ کھیلنا وفاق کو کمزور کرے گا اور ملک میں موجود فالٹ لائنز کو ہوا دے گا۔ ان کا موقف تھا:
- صوبے مضبوط ہوں گے تو وفاق خود بخود مضبوط ہوگا۔
- این ایف سی نے علیحدگی پسند سیاست کو دفن کر دیا۔
- کوئی بھی ایسی ترمیم قابل قبول نہیں جو وفاقیت کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچائے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان سے آخر کیا چاہتے ہیں شہباز اور منیر؟ PTI سینیٹر نے پردے کے پیچھے کا راز فاش کر دیا
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: 18ویں ترمیم کیا ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے؟
جواب: 18ویں آئینی ترمیم 2010 میں منظور ہوئی جس نے ایک ہی وقت میں صوبائی خودمختاری کو بڑھایا، concurrent list ختم کی اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو زیادہ وسائل دیے۔ یہ پاکستان کی وفاقی تاریخ کی سب سے بڑی آئینی تبدیلی ہے۔
سوال: این ایف سی ایوارڈ کیا ہے؟
جواب: نیشنل فنانس کمیشن (NFC) ایوارڈ وفاق اور صوبوں کے درمیان ٹیکس آمدنی کی تقسیم کا فارمولا طے کرتا ہے۔ 7واں این ایف سی ایوارڈ (2010) صوبوں کے حصے کو 57.5 فیصد تک بڑھا کر صوبائی خودمختاری کو مضبوط کرتا ہے۔
سوال: 27ویں آئینی ترمیم میں کیا اہم تبدیلیاں کی گئیں؟
جواب: اس ترمیم سے آئینی عدالت کا قیام عمل میں آیا، تمام صوبوں کو اس میں برابر نمائندگی دی گئی اور میثاق جمہوریت کے ایک اہم نکتے پر عمل درآمد ہوا۔
سوال: کیا واقعی این ایف سی اور 18ویں ترمیم کو ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے؟
جواب: بلاول بھٹو زرداری کے مطابق 27ویں ترمیم کے دوران ایسی تجاویز پیش کی گئی تھیں اور مستقبل میں بھی اس کا امکان موجود ہے، جسے پی پی پی نے مسترد کر دیا۔
سوال: صوبائی خودمختاری سے وفاق کمزور ہوتا ہے یا مضبوط؟
جواب: پی پی پی کا مستقل موقف ہے کہ مضبوط صوبے ہی مضبوط وفاق کی ضمانت ہیں۔ این ایف سی اور 18ویں ترمیم نے علیحدگی پسندی کے رجحانات کو کم کیا ہے۔
نتیجہ اور کال ٹو ایکشن
بلاول بھٹو زرداری کا یہ بیان پاکستان کے آئینی توازن، وفاقی ڈھانچے اور صوبائی حقوق کی حفاظت کا واضح اعادہ ہے۔ یہ پیغام نہ صرف سیاسی حلقوں بلکہ عام عوام کے لیے بھی اہم ہے کہ ملک کی سالمیت کا دارومدار اتفاق رائے اور آئینی بالادستی پر ہے۔
اگر آپ کو یہ تجزیہ پسند آیا تو کمنٹ میں اپنی رائے ضرور دیجیے گا، مضمون شیئر کریں اور مزید تازہ سیاسی خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں جانب موجود فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفیکیشن آن کریں اور ہر اہم خبر سب سے پہلے حاصل کریں!
Please confirm all discussed information before taking any steps; the provided information is published through public reports.