کراچی میں ڈاکوؤں نے 7 سالہ بچے کو موبائل فون نہ دینے پر گولی مار دی

کراچی پولیس کے مطابق، شہر قائد کے علاقے گڈاپ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں مسلح ملزمان نے ایک 7 سالہ معصوم بچے سے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی۔ بچے کی مزاحمت پر غصے میں آکر ملزمان نے اسے گولی مار دی، جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔ پولیس نے فوری طور پر زخمی بچے کو جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کر دیا، جہاں ڈاکٹروں کی ٹیم اس کا علاج کر رہی ہے۔ یہ واقعہ 28 نومبر 2025 کو پیش آیا، جو کراچی میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں کی ایک اور مثال ہے۔

اس خبر کی بنیاد پولیس کی ابتدائی رپورٹس پر ہے، جو شہریوں میں خوف کی لہر دوڑا رہی ہے۔ گڈاپ، جو کراچی کا ایک مقبول رہائشی علاقہ ہے، اب اسٹریٹ کرائم کا شکار ہو رہا ہے، جہاں معصوم بچے بھی محفوظ نہیں۔ پولیس نے ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ان کی شناخت کا دعویٰ کیا ہے۔

واقعہ کی تفصیلات: ایک نظر

  • مقام: گڈاپ، کراچی (نارتھ کراچی کے قریب)
  • واقعہ: ڈاکوؤں نے 7 سالہ بچے سے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی
  • نتیجہ: مزاحمت پر فائرنگ، بچہ شدید زخمی
  • علاج: جناح ہسپتال میں زیر علاج، حالت تشویشناک
  • پولیس کارروائی: ملزمان فرار، تلاش جاری

یہ واقعہ کراچی میں ڈاکوؤں کی فائرنگ سے ہلاکت اور زخمی ہونے کی بڑھتی ہوئی تعداد کی عکاسی کرتا ہے۔ شہریوں کی جانوں کو خطرہ بڑھ رہا ہے، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کو۔

کراچی میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں: 2025 کی حقیقت

کراچی، پاکستان کا معاشی مرکز، اب اسٹریٹ کرائم کراچی 2025 کی لپیٹ میں ہے۔ رواں سال ابتدائی 11 ماہ میں اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں 71 ہزار سے تجاوز کر گئیں۔ اس کے باوجود پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مزاحمت پر ہلاکتوں میں 32 فیصد اور زخمی ہونے والے واقعات میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

اہم اعداد و شمار: کراچی اسٹریٹ کرائم 2025

قسمِ جرموارداتیں (جنوری-نومبر 2025)گزشتہ سال کی نسبت تبدیلی
موبائل فون چوری27,984+16%
موٹر سائیکل چوری51,871+37%
گاڑیاں چھیننا262-20%
مزاحمت پر ہلاکتیں78-32%
زخمی ہونے والے700+-30%

گڈاپ جیسے علاقوں میں کورنگی/نارتھ کراچی اسٹریٹ کرائم بڑھ رہے ہیں، جہاں رات کے وقت گلیاں سنسان ہو جاتی ہیں۔

پولیس کارروائی کراچی: کامیابیاں اور چیلنجز

کراچی پولیس نے اسٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ رواں سال ہزاروں مقابلوں کے نتیجے میں درجنوں ملزمان ہلاک اور سینکڑوں گرفتار ہوئے، جبکہ ہزاروں اسلحے برآمد کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں : صوابی میں خاتون کے ہاں بیک وقت چار بچوں کی نایاب پیدائش، ماں اور تمام بچے صحت مند

ابھی بھی درپیش چیلنجز:

  • جدید سیف سٹی کیمروں کا مکمل نیٹ ورک فعال نہیں
  • نشے کے عادی مجرموں کی بڑی تعداد
  • عوام میں مزاحمت کی ثقافت

شہریوں کے لیے حفاظتی اقدامات: قدم بہ قدم گائیڈ

  1. رات کے وقت تنہا نہ نکلیں
  2. قیمتی اشیاء کو نظر سے اوجھل رکھیں
  3. ایمرجنسی نمبرز 15 اور 1122 ہمیشہ سیو رکھیں
  4. ڈاکوں سے براہ راست مقابلہ کرنے کی بجائے چیخ کر مدد طلب کریں
  5. سی سی ٹی وی والے راستوں کا انتخاب کریں

کیا آپ محفوظ ہیں؟ فوری پول

  • کیا آپ نے کبھی اسٹریٹ کرائم کا سامنا کیا؟ (ہاں/نہیں)
  • پولیس کارروائی کو کیسے بہتر بنایا جائے؟ (مزید کیمرے/سخت سزائیں/عوامی تعلیم)

اپنی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں!

اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)

س: کراچی میں اسٹریٹ کرائم کیسے کم ہو سکتا ہے؟

ج: جدید نگرانی، پٹرولنگ میں اضافہ اور عوامی تعاون سے۔

س: گڈاپ میں رہنے والوں کو کیا احتیاط کرنی چاہیے؟

ج: رات 10 بجے کے بعد غیر ضروری باہر نہ نکلیں اور محلے کی واچ کمیٹی بنائیں۔

س: زخمی بچے کی تازہ حالت کیا ہے؟

ج: جناح ہسپتال میں زیر علاج؛ تازہ اپ ڈیٹ کے لیے پولیس سے رابطہ کریں۔

کال ٹو ایکشن: اس دلخراش واقعہ پر اپنے خیالات ضرور کمنٹ کریں۔ کیا کراچی کو محفوظ بنانے کے لیے پولیس کے اقدامات کافی ہیں؟ آرٹیکل شیئر کریں تاکہ آگاہی پھیلے۔ تازہ ترین خبریں، الرٹس اور پولز براہ راست واٹس ایپ پر حاصل کرنے کے لیے بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر ابھی کلک کریں اور چینل جوائن کر لیں – ایک کلک، مکمل تحفظ کی طرف ایک قدم!

ڈس کلیمر: The provided information is published through public reports. Please verify before taking any action

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے