اسلام آباد – عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے 28 ویں آئینی ترمیم کے مسودے کے لیے اپنی حتمی تجاویز وفاقی حکومت کو باضابطہ طور پر ارسال کر دی ہیں۔ پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر سید عاقب شاہ اور دیگر رہنماؤں نے یہ تجاویز وزیر قانون کو پیش کیں۔
ان تجاویز کا بنیادی مقصد وفاقی نظام کو مضبوط بنانا، صوبائی خودمختاری کو آئینی تحفظ دینا اور معاشی انصاف یقینی بنانا ہے۔
اے این پی کی اہم تجاویز کی تفصیل
اے این پی نے درج ذیل کلیدی مطالبات آئینی ترمیم کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی ہے:
- آبی بجلی (ہائیڈل پاور) پیدا کرنے والے صوبوں پر تمام وفاقی ٹیکسز ختم کیے جائیں
- ان صوبوں میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا ریٹ زیادہ سے زیادہ 10 روپے فی یونٹ مقرر ہو
- تمباکو کاشتکاروں پر عائد تمام ٹیکسز ختم کیے جائیں اور کچے تمباکو کا ٹیکس مکمل طور پر صوبوں کے حوالے کیا جائے
- مستقل اور آئینی بلدیاتی نظام قائم کیا جائے
- بلدیاتی انتخابات ہر چار سال بعد لازمی قرار دیے جائیں
- ضلعی انتظامیہ کو بلدیاتی نظام میں مداخلت سے روکا جائے
- صوبے کا سرکاری نام ”خیبر پختونخوا“ کی بجائے ”پختونخوا“ کیا جائے اور تمام آئینی دستاویزات میں یہی نام استعمال ہو
اے این پی کا موقف ہے کہ یہ تجاویز 18ویں ترمیم کے تسلسل کو مضبوط کریں گی اور صوبوں کو معاشی طور پر خودمختار بنائیں گی۔
پختون قوم پرستی اور صوبائی نام کی تبدیلی
صوبے کے نام کو ”پختونخوا“ کرنے کا مطالبہ اے این پی کی پرانی سیاسی شناخت کا حصہ رہا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ”خیبر پختونخوا“ کا نام 2010 میں مسلم لیگ (ن) اور اے این پی کے درمیان معاہدے کے نتیجے میں رکھا گیا تھا، لیکن اب پختون قوم پرستی کے نقطہ نظر سے صرف ”پختونخوا“ نام ہی قابل قبول ہے۔
خیبرپختونخوا کی موجودہ سیاسی صورتحال
حالیہ مہینوں میں خیبرپختونخوا میں صوبائی خودمختاری، این ایف سی ایوارڈ اور وسائل کی تقسیم پر تنازعات شدت اختیار کر چکے ہیں۔ اے این پی ان تجاویز کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے درمیان نئے سماجی معاہدے کی بنیاد رکھنا چاہتی ہے۔
دیگر سیاسی جماعتیں کیا کہتی ہیں؟
اب تک پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے ان تجاویز پر سرکاری ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم 28ویں ترمیم پر پارلیمانی کمیٹی میں سخت مذاکرات متوقع ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : کراچی کے شہری ملک میں سب سے مہنگی 220 روپے فی کلو چینی خریدنے پر مجبور
آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا صوبے کا نام ”پختونخوا“ ہونا چاہیے؟
- جی ہاں، پختون شناخت کے لیے ضروری ہے
- نہیں، موجودہ نام درست ہے
- نام سے زیادہ ترقیاتی مسائل اہم ہیں
نیچے کمنٹ میں ضرور بتائیں!
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
1. 28 ویں آئینی ترمیم کب پیش کی جائے گی؟
ابھی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی، لیکن پارلیمانی کمیٹی فعال ہو چکی ہے اور تجاویز پر بحث جاری ہے۔
2. کیا واقعی بجلی 10 روپے فی یونٹ ہو سکتی ہے؟
یہ صرف ہائیڈل بجلی پیدا کرنے والے صوبوں (خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان) کے گھریلو صارفین کے لیے تجویز ہے، باقی صوبوں پر اطلاق نہیں ہوگا۔
3. صوبے کا نام تبدیل کرنے سے کیا فائدہ ہوگا؟
اے این پی کے مطابق یہ پختون قومی شناخت کو مضبوط کرے گا اور تاریخی طور پر درست نام ہوگا۔ مخالفین کہتے ہیں کہ اس سے غیر پختون آبادی میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔
4. کیا یہ تجاویز منظور ہو سکتی ہیں؟
اس کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ اگر پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں اتفاق رائے ہوا تو ممکن ہے، ورنہ مشکل نظر آتی ہے۔
5. تمباکو کاشتکاروں پر ٹیکس ختم کرنے سے خزانے کو کتنا نقصان ہوگا؟
سرکاری اندازوں کے مطابق تقریباً 80 سے 100 ارب روپے سالانہ، لیکن اے این پی کہتی ہے کہ یہ ٹیکس صوبوں کو دے دیا جائے گا۔
6. بلدیاتی نظام کو آئینی تحفظ دینے کا مطلب کیا ہے؟
اس کا مطلب ہے کہ اب کوئی صوبائی حکومت بلدیاتی اداروں کو تحلیل نہیں کر سکے گی اور انتخابات وقت پر لازمی ہوں گے۔
نتیجہ
اے این پی کی یہ تجاویز اگر منظور ہو جاتی ہیں تو پاکستان کے وفاقی ڈھانچے اور صوبائی حقوق میں تاریخی تبدیلی آ سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں پر تمام سیاسی حلقوں کی نظریں مرکوز رہیں گی۔
مزید تازہ سیاسی خبروں کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فوراً جوائن کریں۔ بائیں طرف موجود گرین واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں اور ہر اہم بریکنگ نیوز سب سے پہلے حاصل کریں۔
Disclaimer: All information is based on public reports and statements. Readers are advised to verify details independently before taking any action.