کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، ایشیز سیریز 2025 کے پہلے ٹیسٹ میچ میں پرتھ اسٹیڈیم کی پچ کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سرکاری طور پر ‘ویری گڈ’ درجہ دیا ہے۔ یہ میچ صرف دو دن میں ختم ہوا، جو ایشیز کی 137 سالہ تاریخ میں سب سے تیز ختم ہونے والا ٹیسٹ ثابت ہوا۔ پہلے دن 19 وکٹوں کا قیام اور میزبان آسٹریلیا کی 8 وکٹوں سے شاندار جیت نے کرکٹ شائقین کو حیران کر دیا۔ آئی سی سی کی چار درجہ بندیوں میں ‘ویری گڈ’ سب سے اعلیٰ مقام رکھتی ہے، جو پچ کی معیار اور کھیل کی سطح کو ظاہر کرتی ہے۔
پرتھ ٹیسٹ میچ دو دن میں ختم کیوں ہوا؟
پرتھ ٹیسٹ میچ کی تیز رفتار ختم ہونے کی وجوہات متعدد تھیں، جن میں پچ کی تیز رفتار اور بیٹنگ لائنز کا برا پرفارمنس شامل ہے۔ پہلے دن انگلینڈ کی اننگز صرف 163 رنز پر تمام ہو گئی، جبکہ آسٹریلیا نے جواب میں 279 رنز بنائے۔ دوسرے دن انگلینڈ کی دوسری اننگز 200 سے کم رنز پر ختم ہوئی، اور آسٹریلیا نے آسانی سے ہدف حاصل کر لیا۔
- تیز گیندبازوں کی برتری: پچ نے فاسٹ بولرز کو مدد دی، جس سے پہلے دن 19 وکٹیں گریں۔
- بیٹنگ کالپس: انگلینڈ کی ٹاپ آرڈر بری طرح ناکام رہی، صرف 50 رنز تک پہنچنے میں جدوجہد۔
- موسم اور حالات: گرم موسم اور خشک پچ نے اسپن کی بجائے پیس کو فائدہ پہنچایا۔
یہ صورتحال ایشیز سیریز نیوز اپڈیٹ کا حصہ بن گئی، جہاں کرکٹ ماہرین نے پچ کو ‘چیلنجنگ’ قرار دیا۔
آئی سی سی کی پچ رپورٹ پرتھ ٹیسٹ: تفصیلی جائزہ
آئی سی سی کی رپورٹ کے مطابق، پرتھ اسٹیڈیم کی پچ کو ‘ویری گڈ’ درجہ دینے کا مطلب ہے کہ یہ کھیل کی منصفانہ سطح برقرار رکھتی تھی، باوجود میچ کی مختصر مدت کے۔ آئی سی سی کی چار درجہ بندیوں – ‘ویری گڈ’، ‘گڈ’، ‘ایکویٹیبل’ اور ‘پوئر’ – میں ‘ویری گڈ’ سب سے بہتر ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا نے بھی اسے تسلیم کیا کہ پچ نے دونوں ٹیموں کو برابر مواقع دیے۔
تیز رفتار پچ پر آئی سی سی کا ردعمل: آئی سی سی نے واضح کیا کہ دو دن میں ختم ہونے والے میچز کوئی نئی بات نہیں، اور یہ پچ کی خرابی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی صلاحیت کا نتیجہ ہے۔ اس سے قبل، آسٹریلیا کے انڈور ٹیسٹس میں بھی ایسی مثالیں موجود ہیں۔
آسٹریلیا بمقابلہ انگلینڈ ٹیسٹ پچ تجزیہ
پرتھ اسٹیڈیم پچ کنڈیشنز کا تجزیہ بتاتا ہے کہ یہ پچ ابتدائی طور پر سبز تھی، جو فاسٹ بولرز کے لیے موزوں تھی۔ دوسرے دن یہ سست ہو گئی، لیکن بیٹنگ کے لیے اب بھی چیلنجنگ رہی۔ تاریخی طور پر، پرتھ میں 70 فیصد ٹیسٹس تین دن سے کم میں ختم ہوئے ہیں، جو اس کی تیز رفتار کی نشاندہی کرتا ہے۔
- اسٹارک کی شاندار پرفارمنس: میچل اسٹارک نے 10 وکٹیں لے کر مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا، جو ان کی کیریئر کی 300ویں ٹیسٹ وکٹ تھی۔
- ہیڈ کی جارحانہ اننگز: ٹریوس ہیڈ نے 83 گیندوں پر 123 رنز بنائے، جو آسٹریلیا کی فتح کی بنیاد بنے۔
یہ میچ ایشیز سیریز کی تاریخ میں شامل ہو گیا، جہاں پہلے دن کی 19 وکٹیں ایک ریکارڈ ثابت ہوئیں۔
تاریخی تناظر اور دلچسپ حقائق
ایشیز کی 137 سالہ تاریخ میں یہ سب سے تیز ختم ہونے والا ٹیسٹ ہے۔ پہلے، 1888 میں ایک میچ تین دن میں ختم ہوا تھا، لیکن دو دن کا یہ کیس نایاب ہے۔ آسٹریلیا کی اس جیت سے سیریز 1-0 سے آگے ہو گئی، اور انگلینڈ کو اب بحالی کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعلیٰ کے پی نے وفاقی حکومت پر 5300 ارب روپے کی کرپشن کا الزام عائدکردیا
دلچسپ اعداد و شمار:
- آسٹریلیا نے 8 وکٹوں سے جیت حاصل کی، ہدف 89 رنز کا تھا۔
- کل وکٹیں: 30، جن میں سے 25 فاسٹ بولرز نے لیں۔
- مالی نقصان: کرکٹ آسٹریلیا کو 3-4 ملین آسٹریلوی ڈالر کا خسارہ ہوا۔
FAQs: ایشیز پرتھ ٹیسٹ کے بارے میں
پرتھ ٹیسٹ میچ دو دن میں ختم کیوں ہوا؟
پچ کی تیز رفتار، بیٹنگ کی ناکامی، اور فاسٹ بولنگ کی برتری کی وجہ سے۔
آئی سی سی کی پچ رپورٹ کیا کہتی ہے؟
‘ویری گڈ’ درجہ، جو پچ کو اعلیٰ معیار کا قرار دیتا ہے۔
میچل اسٹارک کی 10 وکٹیں کیسے ممکن ہوئیں؟
ان کی سوئنگ اور پیس نے انگلینڈ بیٹسمینوں کو تنگ کیا۔
اگلی ایشیز میچ کی پچ کیا ہوگی؟
ادھلیڈ میں، جو زیادہ متوازن متوقع ہے۔
انٹرایکٹو پول: آپ کا خیال
کیا آپ کو لگتا ہے کہ پرتھ جیسی تیز پچز ٹیسٹ کرکٹ کو مزید دلچسپ بناتی ہیں؟
- ہاں، تیز میچز بہتر ہیں۔
- نہیں، متوازن پچز چاہییں۔ (اپنے ووٹ کمنٹس میں دیں!)
یہ پول آپ کے وقت پر سائٹ بڑھانے میں مدد دے گا اور بحث کو فروغ دے گا۔
کال ٹو ایکشن
کیا آپ کو یہ تجزیہ پسند آیا؟ کمنٹس میں اپنے خیالات شیئر کریں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں، اور تازہ ایشیز سیریز نیوز اپڈیٹ کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – نوٹیفکیشن پاپ اپ کے ذریعے فوری الرٹس حاصل کریں اور کرکٹ کی دنیا سے جڑے رہیں! مزید متعلقہ آرٹیکلز کے لیے ‘ایشیز 2025’ کیٹیگری چیک کریں۔