پی ٹی آئی نے کبھی کسی صوبے پر چڑھائی کی اور نہ کرے گی، بیرسٹر گوہر

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے 26 نومبر 2025 کو پشاور کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے صوبائی مؤقف کو واضح کیا کہ پی ٹی آئی نے کبھی کسی صوبے پر چڑھائی نہیں کی اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کرے گی۔ انہوں نے ہری پور ضمنی الیکشن میں مایوسی کا اظہار کیا اور جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور رہنما اسد قیصر نے بھی صوابی اور پشاور میں الگ الگ خطابات میں سیاسی اور معاشی مسائل پر بات کی، جو پی ٹی آئی کا مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔

اس خبر کی بنیاد عوامی رپورٹس پر ہے۔ کسی بھی قدم اٹھانے سے پہلے تمام معلومات کی تصدیق کریں۔

پی ٹی آئی کا مؤقف: صوبائی خودمختاری اور اتحاد

بیرسٹر گوہر نے پشاور جلسے میں صوبائی خودمختاری پاکستان کی اہمیت پر زور دیا، کہتے ہوئے کہ تحریک انصاف ہمیشہ وفاقی اور صوبائی حقوق کا احترام کرے گی۔ انہوں نے ہری پور الیکشن میں دھاندلی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر ہمیں مایوس کیا گیا، مگر جدوجہد جاری رہے گی۔

  • صوبائی اتحاد: "پی ٹی آئی کسی صوبے پر چڑھائی نہیں کرے گی، بلکہ اتحاد کو مضبوط بنائے گی۔”
  • ہری پور الیکشن: شہرناز عمر ایوب کو 43,776 ووٹوں سے شکست، جہاں ووٹر ٹرن آؤٹ 35% رہا۔
  • جدوجہد کا عزم: "دھاندلی کے باوجود پرامن احتجاج اور قانونی راستہ اپنائیں گے۔”

یہ بیانات سیاسی کشیدگی پاکستان کو کم کرنے کی کوشش ہیں، جو 2025 کے ضمنی انتخابات کے تناظر میں اہم ہیں۔

سہیل آفریدی کا بیان: آئین کی بالادستی اور حقوق کی حفاظت

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور میں کہا کہ کچھ عناصر ملک میں آئین و قانون کی بالادستی نہیں چاہتے، مگر خیبر پختونخوا کی حکومت پرامن رہے گی اور اپنا حق کسی کو نہیں کھلانے دے گی۔ انہوں نے تحریک انصاف اور صوبے کے تعلقات کو مضبوط قرار دیا، جو صوبائی خودمختاری کی حمایت کرتا ہے۔

کلیدی نکات:

  • پرامن جدوجہد: "ہم تشدد سے دور رہیں گے، مگر حقوق کی خلاف ورزی برداشت نہ کریں گے۔”
  • سیاسی استحکام: 2025 میں KP میں بے روزگاری کی شرح 9.6% تک پہنچ گئی، جو وفاقی پالیسیوں کی ناکامی کی نشاندہی کرتی ہے۔
  • وفاقی تنازع: صوبائی خودمختاری پر زور، جو 18ویں ترمیم کی روح ہے۔

یہ بیانات بیرسٹر گوہر تازہ خبر کا حصہ بنے، جو پارٹی کی یکجہتی کو ظاہر کرتے ہیں۔

اسد قیصر کی تنقید: ہری پور دھاندلی اور معاشی ناکامی

صوابی میں اسد قیصر نے ہری پور الیکشن میں بدترین دھاندلی کا الزام لگایا، کہتے ہوئے کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں مکمل ناکام ہو چکی ہیں۔ انہوں نے بے روزگاری کی شرح 7.1% تک پہنچنے کا ذکر کیا اور آئی ایم ایف رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے تین برسوں میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کا دعویٰ کیا، مطالبہ کرتے ہوئے کہ نیب آزادانہ تحقیقات کرائے۔

یہ بھی پڑھیں : مقبوضہ کشمیر: میڈیکل کالج میں مسلم طلبہ کے داخلوں پر ہندو انتہا پسندوں کی مسلم دشمنی بے نقاب

معاشی اعداد و شمار:

  • بے روزگاری: 7.1% (2024-25)، جو 2020-21 کے 4.5 ملین بے روزگاروں سے 31% اضافہ ہے۔
  • کرپشن: آئی ایم ایف کی گورننس رپورٹ میں 6% جی ڈی پی نقصان، جو 5300 ارب روپے کے قریب ہے۔
  • حکومتی ناکامی: افراطِ زر 12%، جو عوام کی مشکلات بڑھا رہی ہے۔

یہ تنقید سیاسی کشیدگی پاکستان کو مزید گہرا کرتی ہے، جہاں ضمنی انتخابات میں ن لیگ کی 12/13 فتوحات PTI کی مایوسی کا باعث بنیں۔

تاریخی موازنہ: تحریک انصاف اور صوبے کے تعلقات

پی ٹی آئی نے ہمیشہ صوبائی حقوق کی حمایت کی، جیسا کہ 2018-2022 میں KP حکومت نے دکھایا۔

دورِ حکومتکلیدی اقدامنتیجہ
2018-2022 (PTI)18ویں ترمیم کی مکمل عملداریصوبائی بجٹ 20% اضافہ
2024-2025 (حالیہ)دھاندلی الزاماتضمنی انتخابات میں 1/13 فتح

یہ جدول PBS اور ECP ڈیٹا پر مبنی ہے، جو پی ٹی آئی کا مؤقف کی صداقت کو واضح کرتا ہے۔

سیاسی شائقین کے لیے قابلِ عمل تجاویز

اس سیاسی کشیدگی میں:

  1. الیکشن نتائج چیک کریں: ECP ویب سائٹ سے ہری پور ووٹنگ ڈیٹا حاصل کریں۔
  2. معاشی اپ ڈیٹس فالو کریں: PBS ایپ سے بے روزگاری ٹرینڈز ٹریک کریں۔
  3. پرامن احتجاج: قانونی فورمز جیسے عدالتوں میں دھاندلی کیس داخل کریں۔

FAQs: بیرسٹر گوہر تازہ خبر سے متعلق

س: پی ٹی آئی کا صوبائی مؤقف کیا ہے؟

ج: کسی صوبے پر چڑھائی نہیں، اتحاد اور خودمختاری کی حمایت۔

س: ہری پور الیکشن میں کیا ہوا؟

ج: دھاندلی کا الزام، شہرناز عمر کو 43,776 ووٹوں سے شکست۔

س: بے روزگاری کی شرح کتنی ہے؟

ج: 7.1% (2024-25)، KP میں 9.6%۔

س: کرپشن کی تحقیقات کس سے کروانی ہیں؟

ج: نیب سے آزادانہ، آئی ایم ایف رپورٹ کی بنیاد پر۔

انٹرایکٹو پول: سامعین کی رائے

کیا پی ٹی آئی کا صوبائی اتحاد کا مؤقف درست ہے؟

  • ہاں، یہ سیاسی استحکام لائے گا۔
  • نہیں، مزید اقدامات درکار ہیں۔

اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں!

کال ٹو ایکشن

بیرسٹر گوہر کے اس بیان پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں بتائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں، اور سیاسی کشیدگی پاکستان کی مزید تازہ خبروں کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کریں۔ بائیں طرف فلوٹنگ واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں – نوٹیفکیشن پاپ اپ کے ذریعے فوری اپڈیٹس حاصل کریں اور سیاسی دنیا کی تیز رفتار تبدیلیوں سے جڑ جائیں۔ ابھی جوائن کریں اور کوئی اہم خبر مس نہ کریں!

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے