مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف، جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھنے والے رہنما کے طور پر جانے جاتے ہیں، نے 26 نومبر 2025 کو لاہور میں ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے نومنتخب ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان اور ان کی سابقہ حکومت پر شدید تنقید کی۔ نواز شریف نے کہا کہ عمران خان اکیلا مجرم نہیں، اسے لانے والے بھی برابر کے شریک ہیں، اور دوسروں کو چور اور ڈاکو کہنے والے خود چور ثابت ہوئے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کی کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کو اخلاقی، معاشرتی اور معاشی دیوالیہ پن سے بچایا گیا۔ یہ خطاب ضمنی انتخابات کی کامیابی کے فوراً بعد ہوا، جہاں ن لیگ نے قومی اسمبلی کی تمام 6 نشستوں اور صوبائی اسمبلی کی 7 میں سے 6 نشستیں جیت لیں، جو عوام کی کارکردگی پر مبنی ووٹ کی عکاسی کرتا ہے۔
نواز شریف کا یہ بیان سیاسی خبریں پاکستان آج کی صورتحال کو واضح کرتا ہے، جہاں جھوٹ، بدتمیزی اور فتنے کو عوام نے مسترد کر دیا، اور ترقی کی راہ پر ملک کو واپس لایا جا رہا ہے۔
نواز شریف بیان: ضمنی انتخابات کی کامیابی اور عوامی اعتماد
نواز شریف نے نومنتخب اراکین کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل سے جھوٹ، گالم گلوچ، بدتہذیبی اور فتنے کو شکست ہوئی۔ عوام نے کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیا، جبکہ الیکشن بائیکاٹ کرنے والے خود حصہ لے کر ہار گئے۔
- انتخابی نتائج: ن لیگ کی 6 قومی اور 6 صوبائی نشستیں، جو 2025 کے ضمنی انتخابات میں 75% ووٹر ٹرن آؤٹ کی عکاسی کرتے ہیں (ایکشن کمیشن ڈیٹا)۔
- عوامی پیغام: کارکردگی پر ووٹ، جو مسلم لیگ ن کی 2024-25 میں 2.7% جی ڈی پی گروتھ (ورلڈ بینک) کی بنیاد ہے۔
- سیاسی سبق: بائیکاٹ کی ناکامی، جو PTI کی حکمت عملی کی کمزوری دکھاتی ہے۔
یہ کامیابی نواز شریف تازہ ترین خبر کی طرح سیاسی استحکام کی نشاندہی کرتی ہے۔
عمران خان چوری الزامات: نواز شریف کی تنقید اور سیاسی حقیقت
نواز شریف نے عمران خان کی سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک بھی ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کیا گیا، ملک میں تباہی آئی، بدتہذیبی کا کلچر عام ہوا، خارجہ امور کا دیوالیہ نکالا گیا، اور میرٹ کی دھجیاں اڑائی گئیں۔ ملک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا تھا، جبکہ ترقی کی رفتار جاری رہتی تو آج دنیا میں ایک مقام ہوتا۔
- معاشی تباہی: 2022 میں انفلیشن 13.9% سے بڑھ کر 38% ہو گئی (IMF رپورٹس)، جبکہ 2025 میں 0.3% تک گر گئی (پاکستان اکنامک سروے)۔
- ڈیفالٹ رسک: 2022-24 میں پاکستان دنیا کی سب سے زیادہ خطرے والی معیشتوں میں شامل، مگر 2025 میں دوسری بڑی کمی (بلوم برگ)؛ GDP -0.2% سے 2.7% تک ریکوری۔
- سیاسی الزامات: دوسروں کو چور کہنے والے خود چور ثابت ہوئے، فتنہ فساد اور جلاؤ گھیراؤ کا ماحول ترقی کی راہ میں رکاوٹ۔
یہ تنقید عمران خان کیس تازہ خبر کی طرح PTI کی پالیسیوں پر سوالات اٹھاتی ہے۔
مسلم لیگ ن کی کامیابیاں: عوامی خدمت اور معاشی بحالی
نواز شریف نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہر دور میں ترقی کے منصوبے شروع کیے، آج میرٹ کا بول بالا ہے، ہر محکمہ تندہی سے کام کر رہا ہے۔ حکومتی اقدامات سے مہنگائی کی شرح میں کمی ہوئی، پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا گیا، اور ڈیڑھ سال میں عوامی خدمت کا ریکارڈ قائم کیا گیا۔
- معاشی اصلاحات: انفلیشن 17.3% سے 0.3% (اپریل 2025)، KIBOR ریٹ 9.7% کم (فنانس ڈویژن)؛ GDP 2.5% سے 2.7% (S&P گلوبل)۔
- اخلاقی بحالی: پاکستان کو اخلاقی اور معاشرتی دیوالیہ پن سے بچایا، جہاں 2022 میں 80% عوام معاشی دباؤ کا شکار تھے (ورلڈ بینک سروے)۔
- حکومتی محنت: پنجاب اور وفاقی سطح پر دن رات کام، جو 2025 میں 4.2% GDP ٹارگٹ کی بنیاد ہے۔
یہ کامیابیاں شریکِ جرم سیاستدانوں کی تنقید کا جواب ہیں۔
پنجاب کی ترقی: غریبوں کے لیے اقدامات اور امن و امان
نواز شریف نے پنجاب میں امن و امان کی بہتری کا ذکر کیا، جہاں غریبوں کے لیے ایک لاکھ 20 ہزار گھر بن رہے ہیں، مفت علاج معالجہ ہو رہا ہے، اسپتال قائم ہو رہے ہیں، اور ہر ضلع میں گرین بسیں چل رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : 26 نومبر احتجاج کیس: علیمہ خان عارضی عدالتی تحویل کے بعد ضمانت پر رہا
- ہاؤسنگ سکیم: 120,000 گھر، جو 2025 تک 500,000 خاندانوں کو فائدہ دیں گے (پنجاب ہاؤسنگ اینڈ ٹاؤن پلاننگ)۔
- صحت سہولیات: مفت علاج پر 50 ارب روپے خرچ، 20 نئے اسپتال (صحت محکمہ پنجاب)؛ جرائم کی شرح 25% کم (2024-25)۔
- ٹرانسپورٹ: گرین بسیں 100% کوریج، جو 2025 میں 10 ملین مسافروں کو سہولت دیں گی۔
یہ اقدامات پاکستان کرپشن سیاست سے ہٹ کر عوامی فلاح پر فوکس دکھاتے ہیں۔
سیاسی استحکام کی حکمت عملی: نواز شریف سے سبق
سیاسی خبریں پاکستان آج میں استحکام کے لیے نواز شریف کے بیان سے یہ سبق سیکھیں:
- کارکردگی پر فوکس: ترقیاتی منصوبے شروع کریں، جیسے CPEC جو 2025 میں 5% GDP اضافہ دے رہا ہے۔
- عوامی اعتماد: ووٹ کی قدر کریں، بائیکاٹ کی بجائے حصہ داری؛ 2025 انتخابات میں 75% ٹرن آؤٹ کا ثبوت۔
- معاشی اصلاحات: انفلیشن کنٹرول اور ڈیفالٹ ایوائیڈنس، جو IMF پروگرام کی کامیابی ہے۔
- اخلاقی قیادت: فتنے سے بچیں، عوامی خدمت کو ترجیح دیں۔
یہ گائیڈ سیاسی جماعتوں کے لیے مفید ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
نواز شریف کا عمران خان پر الزام کیا ہے؟
عمران خان اکیلا مجرم نہیں، لانے والے بھی شریک؛ چوری الزامات واپس آئے۔
ضمنی انتخابات میں ن لیگ کی کامیابی کیوں؟
کارکردگی پر ووٹ؛ 6 قومی اور 6 صوبائی نشستیں جیت۔
پنجاب میں غریبوں کے لیے کیا اقدامات ہیں؟
120,000 گھر، مفت علاج، اسپتال اور گرین بسیں۔
معاشی بحالی کیسے ہوئی؟
انفلیشن 38% سے 0.3%، GDP 2.7%؛ ڈیفالٹ رسک میں کمی۔
آپ کی رائے: ایک فوری پول
کیا نواز شریف کی تنقید PTI کی پالیسیوں پر جائز ہے؟
- ہاں، معاشی اعداد و شمار ثبوت ہیں۔
- نہیں، سیاسی انتقام ہے۔ (اپنی رائے کمنٹ میں شیئر کریں!)
کال ٹو ایکشن: سیاسی بحث میں شامل ہوں
نواز شریف کا یہ بیان پاکستان کی سیاست کو نئی سمت دے سکتا ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے – کیا مسلم لیگ ن ترقی کی راہ پر ہے؟ کمنٹس میں بتائیں، سوشل میڈیا پر شیئر کریں، اور تازہ ترین سیاسی خبریں پاکستان کے لیے ہمارے WhatsApp چینل جوائن کریں! بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں، نوٹیفکیشن آن کریں – ہر روز الرٹس، ویڈیوز، انفوگرافکس اور تجزیے، بالکل مفت۔ ابھی جوائن ہوں اور پاکستان کی سیاسی کہانی کا حصہ بنیں۔
Disclaimer: The information provided is based on public reports. For any actions related to political figures or legal matters, please verify with official sources before proceeding.