ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کی تحقیقات میں پیش رفت، مزید انکشافات

پشاور ایف سی ہیڈکوارٹر

پشاور میں فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹر پر گزشتہ روز ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے تفتیش شروع کر دی اور دہشت گردوں کے جسمانی اعضا ڈی این اے ٹیسٹنگ کے لیے لیبارٹری بھجوائے جا چکے ہیں۔ حملے میں تین ایف سی جوان شہید اور 11 افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ جوابی فائرنگ میں تینوں دہشت گرد ہلاک ہو گئے تھے۔

حملے کی تازہ ترین تفصیلات

  • تینوں دہشت گرد ایک ہی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آئے
  • کوہاٹ روڈ اور سول کوارٹرز سے گزرتے ہوئے ہیڈکوارٹر کے قریب پہنچے
  • موٹر سائیکل ہیڈکوارٹر سے کچھ فاصلے پر کھڑی کی گئی
  • حملہ آوروں کے پاس کلاشنکوف رائفلیں اور 8 سے زائد دستی بم موجود تھے
  • استعمال شدہ موٹر سائیکل پولیس نے قبضے میں لے لی

تحقیقات میں نئے انکشافات

سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گردوں کے جسمانی اعضا ڈی این اے کے لیے محفوظ کر لیے گئے ہیں۔ نتائج آنے کے بعد حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ نیٹ ورک کا پتا چل سکے گا۔ ہتھیاروں اور موٹر سائیکل کی فرانزک جانچ بھی جاری ہے۔

حملے کا پس منظر

یہ حملہ ایف سی ہیڈکوارٹر کے مین گیٹ کے قریب پیش آیا۔ سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی وجہ سے دہشت گرد اندر داخل نہ ہو سکے اور بڑا نقصان ہونے سے بچ گیا۔ شہید ہونے والے جوانوں نے اپنی جانوں کی قربانی دے کر قیمتی تنصیبات اور انسانی جانیں بچائیں۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف: عوام نے تخریبی سیاست مسترد کرکے خوشحالی کا راستہ چن لیا

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

حملے میں کتنے دہشت گرد شامل تھے؟

تین دہشت گرد، سب جوابی کارروائی میں ہلاک۔

شہدا اور زخمیوں کی تعداد؟

3 جوان شہید، 11 افراد زخمی۔

تحقیقات کب تک مکمل ہو گی؟

ڈی این اے رپورٹس آنے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔

کیا حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول کی؟

اب تک کوئی گروہ سامنے نہیں آیا۔

آپ کی رائے کیا ہے؟

کیا خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر سخت اقدامات کی ضرورت ہے؟ نیچے کمنٹس میں ضرور بتائیں، مضمون شیئر کریں اور تازہ ترین سیکیورٹی اپ ڈیٹس کے لیے جڑے رہیں۔ تازہ ترین سیکیورٹی اور دہشت گردی کی خبریں فوراً حاصل کرنے کے لیے ابھی ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں – بائیں طرف موجود گرین واٹس ایپ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کر لیں!

Disclaimer: All information in this article is based on publicly reported news and events. Readers are advised to verify details from official sources before taking any action.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے