برقع پر پابندی کا بل مسترد ہونے کا غصہ، آسٹریلوی انتہاپسند سینیٹر کا پارلیمنٹ میں برقع پہن کر ہنگامہ

آسٹریلیا کی وفاقی پارلیمنٹ، جو ملک کی قانون سازی کا مرکزی ادارہ ہے، میں دائیں بازو کی انتہاپسند پارٹی One Nation کی سینیٹر پالین ہینسن ایک بار پھر تنازعے کی زد میں آ گئیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سینیٹر ہینسن نے پیر، 24 نومبر 2025 کو عوامی مقامات پر برقع پر پابندی کے لیے پیش کردہ بل کی مستردگی پر شدید ناراضی کا اظہار کیا۔ اس احتجاج کے طور پر انہوں نے پارلیمنٹ کے اجلاس میں برقع پہن کر شرکت کی، جس سے پورا اجلاس ہنگاموں کا شکار ہو گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف آسٹریلوی سینیٹر برقع تنازعے کو مزید گہرا کرتا ہے بلکہ ملک کی سیاسی اور سماجی تقسیم کو بھی اجاگر کرتا ہے۔

سینیٹر ہینسن، جو 1996 سے آسٹریلوی سیاست میں فعال ہیں اور One Nation پارٹی کی بانی رکن ہیں، نے اس اقدام کو "سیکیورٹی خدشات” سے جوڑا۔ تاہم، یہ بل، جو عوامی جگہوں پر چہرے ڈھانپنے والے لباس پر پابندی کا مطالبہ کرتا تھا، حکومت اور اپوزیشن دونوں کی جانب سے مسترد کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ کی اس حرکت نے فوری طور پر شدید ردعمل برامد کیا، جو آسٹریلیا برقع تنازعہ کی تازہ ترین کڑی بن گیا۔

پارلیمنٹ میں ہنگامے کی تفصیلات

پارلیمنٹ میں برقع ہنگامہ کی نوعیت انتہائی ڈرامائی تھی۔ سینیٹر ہینسن جب اجلاس میں داخل ہوئیں تو ان کا برقع پہننا نہ صرف اراکین کی توجہ کا مرکز بنا بلکہ سیشن کو روک دیا۔

  • اجلاس کی کارروائی رک گئی جب ہینسن نے بل کی مستردگی پر تقریر شروع کی۔
  • انہوں نے دعویٰ کیا کہ "برقع” جیسے لباس قومی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالتے ہیں، جو ان کی پارٹی کی طویل المدتی پالیسی کا حصہ ہے۔
  • یہ واقعہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں دوسرا بڑا تنازعہ ہے، جہاں لباس کو احتجاج کا ذریعہ بنایا گیا۔

یہ بل برقع پابندی بل آسٹریلیا کے تناظر میں پیش کیا گیا تھا، جسے سینیٹر ہینسن نے مئی 2025 میں متعارف کروایا۔ اس کی مستردگی 23 ووٹوں سے ہوئی، جہاں 45 اراکین نے اس کی مخالفت کی۔

مسلم سینیٹرز اور سیاسی رہنماؤں کا ردعمل

انتہاپسند سینیٹر آسٹریلیا کے اس اقدام نے مسلم کمیونٹی اور سیاسی حلقوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی۔ مسلم سینیٹرز نے اسے کھلم کھلا نسل پرستی قرار دیا۔

  • سینیٹر محرین فاروقی (لیبر پارٹی): "یہ واضح نسل پرستی ہے، جو مسلم خواتین کی مذہبی آزادی پر حملہ ہے۔”
  • سینیٹر فاطمہ پیمان (گرینز پارٹی): "یہ حرکت انتہائی شرمناک ہے اور اسلام دشمنی کی علامت۔”

حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں نے بھی یک زبان ہو کر مذمت کی:

  • وزیر اعظم اینتھونی البانیز: "پارلیمنٹ جگہ احتجاج کی نہیں بلکہ قانون سازی کی ہے۔”
  • اپوزیشن لیڈر پیٹر ڈٹن: "یہ غیر ذمہ دارانہ سلوک ہے جو ملک کی یکجہتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔”

یہ ردعمل برقع پر پابندی کی کوشش کی ناکامی کو مزید نمایاں کرتا ہے، جہاں 70% آسٹریلوی عوام (ایک 2024 کے سروے کے مطابق) مذہبی لباس پر پابندی کی مخالفت کرتے ہیں۔

تاریخی پس منظر: 2017 کا تکراری مظاہرہ

یاد رہے کہ سینیٹر ہینسن نے 2017 میں بھی آسٹریلوی سینیٹر برقع تنازعے کو ہوا دی تھی۔ اس وقت انہوں نے سینیٹ میں برقع پہن کر داخل ہونے کی کوشش کی، جس پر اسپیکر نے فوری طور پر احتجاج روکا۔

  • 2017 کے واقعے میں ہینسن نے ملک بھر میں برقع پر پابندی کا مطالبہ کیا، جو یورپ کے کئی ممالک کی پالیسیوں سے متاثر تھا۔
  • اس احتجاج کے بعد One Nation پارٹی کی مقبولیت میں 15% اضافہ دیکھا گیا، لیکن مسلم کمیونٹی میں شدید ناراضی پھیلی۔
  • حالیہ واقعہ اسی پرانی حکمت عملی کی تکرار ہے، جو آسٹریلیا برقع تنازعہ کو زندہ رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے متعلق اہم جیل رپورٹ سامنے آگئی: نئی پیشرفت

یہ تکرار سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، ہینسن کی ووٹ بینک کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے، جہاں دائیں بازو کے 25% ووٹرز ایسی پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں (2025 آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف پالیٹیکل سٹڈیز رپورٹ)۔

اس تنازعے کے اثرات اور سبق

پارلیمنٹ میں برقع ہنگامہ نہ صرف سیاسی سطح پر بلکہ سماجی سطح پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

  • سماجی تقسیم: مسلم کمیونٹی میں خوف بڑھ رہا ہے، جہاں 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق آسٹریلیا میں 3% آبادی مسلم ہے۔
  • قانونی چیلنجز: انسانی حقوق کمیشن نے اسے "مذہبی امتیازی سلوک” قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔
  • عوامی تاثر: سوشل میڈیا پر #BanTheBurqa ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہا ہے، جبکہ #StandWithMuslims 50,000 پوسٹس سے تجاوز کر گیا۔

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ برقع پابندی کی کوشش جیسے اقدامات کس طرح سیاسی فائدے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، لیکن ان کی ناکامی جمہوری اقدار کی فتح ہے۔

سوالات و جوابات (FAQs)

کیا یہ سینیٹر ہینسن کا پہلا ایسا احتجاج ہے؟

نہیں، 2017 میں بھی انہوں نے یہی کیا تھا، جو انتہاپسند سینیٹر آسٹریلیا کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

برقع بل کیوں مسترد ہوا؟

آزادی اظہار اور مذہبی حقوق کی خلاف ورزی کی وجہ سے، جہاں 70% اراکین نے مخالفت کی۔

اس کے قانونی نتائج کیا ہوں گے؟

انسانی حقوق کمیشن تحقیقات کر رہا ہے، جو جرمانے یا سینیٹ سے معطلی کا باعث بن سکتا ہے۔

آسٹریلیا میں برقع پر پابندی کیسے ممکن ہے؟

صوبائی سطح پر کچھ قوانین موجود ہیں، لیکن وفاقی بل کی ضرورت ہے، جو فی الحال مسترد ہے۔

پڑھنے والوں کے لیے پول: کیا یہ احتجاج نسل پرستی ہے؟

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سینیٹر ہینسن کا یہ اقدام واضح اسلام دشمنی ہے؟

  • ہاں، بالکل۔
  • نہیں، یہ احتجاج ہے۔
  • غیر جانبدار رائے دیں۔

اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں اور بحث کو زندہ رکھیں!

اس دلچسپ تنازعے پر آپ کی رائے کیا ہے؟ کمنٹس میں بتائیں، دوستوں کے ساتھ شیئر کریں، اور تازہ ترین سیاسی خبریں حاصل کرنے کے لیے ہمارے WhatsApp چینل کو فالو کریں – بس بائیں طرف کے فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور نوٹیفکیشن آن کر لیں۔ ہر روز کی بریکنگ نیوز آپ کے فون پر!

Note: This information is based on public reports. Please verify before taking any actions.

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے