فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) پاکستان کی ایک اہم نیم فوجی تنظیم ہے جو سرحدی علاقوں میں امن و امان قائم رکھنے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ 24 نومبر 2025 کو پشاور کے گنجان آباد علاقے میں واقع ایف سی ہیڈکوارٹر پر دہشت گردوں کا ایک منظم حملہ ہوا، جسے فورسز نے فوری جوابی کارروائی سے ناکام بنا دیا۔ اس حملے میں تین ایف سی اہلکار شہید ہوئے جبکہ تین مبینہ خودکش حملہ آور بھی ہلاک ہو گئے۔ پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ حملہ آوروں نے خودکش جیکٹس پہن رکھی تھیں اور ان کی شناخت افغانی شہریوں کے طور پر ہو گئی ہے۔
یہ واقعہ ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور حملہ کی تازہ ترین مثال ہے، جو علاقائی سلامتی کے چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے۔ حملے کی ویڈیو فوٹیج اور تصاویر میڈیا کو موصول ہوئی ہیں، جن سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت واضح ہو رہی ہے۔
حملے کی تفصیلات: کیا ہوا؟
پشاور خودکش حملہ کی یہ کوشش صبح کے اوقات میں کی گئی، جب ہیڈکوارٹر میں پریڈ اور اعلیٰ افسران کی موجودگی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، حملہ تین مراحل میں پلان کیا گیا تھا: ابتدائی دھماکہ، اندر intrusion، اور یرغمال بنانے کی کوشش۔ فورسز کی تیز کارروائی نے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔
- حملے کا مقام: سنہری مسجد روڈ پر واقع ایف سی ہیڈکوارٹر، جو بی آر ٹی اسٹیشن کے قریب ہے۔
- وقت: صبح تقریباً 8 بج کر 7 منٹ، جب ایک حملہ آور بی آر ٹی اسٹیشن پر کچھ دیر رکا۔
- حملہ آوروں کی حالت: تینوں نے خودکش بمبار جیکٹس اور ہتھیار برآمد کیے تھے؛ دو اندر داخل ہونے کی کوشش میں مارے گئے۔
اس ایف سی حملہ آج کی خبر نے پورے ملک کو ہلا دیا ہے، کیونکہ یہ 2025 میں خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی لہر کا حصہ ہے۔ صوبے میں اس سال 284 سے زائد دہشت گرد حملے رپورٹ ہو چکے ہیں، جو سیکیورٹی فورسز کی مسلسل جدوجہد کو ظاہر کرتے ہیں۔
ٹائم لائن: واقعہ کی chronology
حملے کی تفصیلات کو سمجھنے کے لیے یہ ٹائم لائن مددگار ثابت ہوگی، جو پولیس اور سیکیورٹی رپورٹس پر مبنی ہے:
- 8:00 AM: ایک مبینہ خودکش بمبار، ٹوپی اور چادر اوڑھے ہوئے، سنہری مسجد روڈ سے پیدل چلتا ہوا مرکزی گیٹ کی طرف بڑھا۔
- 8:07 AM: حملہ آور بی آر ٹی اسٹیشن کے قریب پہنچا اور کچھ لمحات گزارے؛ CCTV فوٹیج میں وہ سفید کار اور موٹر سائیکل کے پاس نظر آ رہا ہے۔
- 8:10 AM: گیٹ پر دھماکہ؛ تین ایف سی اہلکار شہید، گیٹ کو معمولی نقصان۔
- 8:12 AM: دو مزید حملہ آور سائیڈ گیٹ سے اندر داخل، فائرنگ شروع کی؛ فورسز کی جوابی فائرنگ میں دونوں ہلاک۔
- 8:30 AM: علاقہ کلیئر، 9 زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا (تین ایف سی اہلکار اور چھ شہری)۔
یہ پشاور بلاسٹ اپ ڈیٹ سے واضح ہے کہ فورسز کی تیاری نے بڑے جانی نقصان کو روک لیا۔
مبینہ خودکش بمبار کی تصویر: کیا دکھا رہی ہے؟
ایف سی ہیڈکوارٹر اٹیک کی ایک اہم نشاندہی CCTV فوٹیج ہے، جو جیو نیوز اور دیگر میڈیا کو موصول ہوئی۔ تصویر میں ایک مرد نظر آ رہا ہے جو سیاہ ٹوپی اور بھری چادر اوڑھے ہوئے ہے، جو حملے سے تقریباً 10 منٹ قبل بی آر ٹی اسٹیشن کے قریب کھڑا ہے۔ فوٹیج میں وہ سفید کار اور موٹر سائیکل کے پاس ہے، جہاں سبز دائرے سے اس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پولیس نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہی خودکش بمبار ہے جس نے ابتدائی دھماکہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ہری پور سے پی ٹی آئی امیدوار تقریباً 25 ہزار ووٹوں کی برتری سے آگے، اسد قیصر کا الیکشن کمیشن پر سخت تنقید
یہ پشاور دھماکہ خودکش بمبار کی پہلی CCTV تصویر ہے، جو دہشت گرد نیٹ ورکس کی نقل و حرکت کو بے نقاب کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، ایسی تصاویر انٹیلی جنس کے لیے کلیدی ہیں اور مستقبل کے حملوں کو روکنے میں مدد دیں گی۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا رجحان: اعداد و شمار سے جائزہ
2025 میں پشاور ایف سی پشاور حملہ نیوز نے علاقائی سلامتی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ صوبے میں اس سال اب تک 284 دہشت گرد حملے ہو چکے ہیں، جن میں سے 40 فیصد خودکش بمباری پر مبنی تھے۔ ماضی کے واقعات، جیسے 2024 کے چارسدہ حملے، اسی طرح کی حکمت عملی دکھاتے ہیں جہاں فورسز نے 70% کوششوں کو ناکام بنایا۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایف سی جیسی تنظیمیں کس حد تک موثر ہیں، لیکن اضافی سرحد کنٹرول کی ضرورت ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور حملہ کیسے ناکام ہوا؟
فورسز کی فوری فائرنگ اور پریڈ کے دوران ہائی الرٹ کی وجہ سے۔
حملہ آور کون تھے؟
تینوں افغانی شہری، فتنہ الخوارج سے منسلک مشتبہ۔
کیا علاقہ محفوظ ہے؟
ہاں، کلیئرنگ کے بعد ٹریفک بحال، لیکن الرٹ برقرار۔
شہدا کے لیے کیا اعزاز؟
صدر اور وزیر اعظم کی جانب سے اعلیٰ اعزازات کا اعلان متوقع۔
انٹرایکٹو پول: آپ کا خیال؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی بڑھانے سے ایسے حملے روکے جا سکتے ہیں؟
- ہاں
- نہیں
- مزید اقدامات کی ضرورت
اپنا ووٹ دیں اور نیچے کمنٹس میں اپنے خیالات شیئر کریں!
یہ واقعہ Suicide bomber Peshawar attack کی ایک اور مثال ہے، جو FC Headquarters Peshawar attack image جیسی تفصیلات سے سیکھنے کا موقع دیتا ہے۔ Peshawar blast latest updates کے مطابق، تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔
کال ٹو ایکشن: اس پشاور خودکش حملہ پر آپ کا کیا خیال ہے؟ کمنٹس میں بتائیں، شیئر کریں اور اپنے دوستوں تک پہنچائیں تاکہ سلامتی کی اہمیت اجاگر ہو۔ تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں – فوری نوٹیفکیشنز، خصوصی ویڈیوز اور بریکنگ نیوز کے ساتھ! بائیں طرف فلوٹنگ بٹن پر کلک کریں اور "جوائن” منتخب کریں۔ آپ کی سلامتی ہماری ترجیح ہے – آج ہی جوائن ہوں اور اپنے خاندان کو محفوظ رکھیں!
The provided information is based on public reports; please verify before acting.